اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کسانوں کے ساتھ حکومت کی بات چیت بےنتیجہ، 5 دسمبر کو پھر ہوگی میٹنگ

نئی دہلی، (یو این آئی)
حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان جمعرات کے روز ہونے والی چوتھے دور کی بات چیت میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ تاہم، حکومت نے کسانوں کے کچھ مطالبات پر نرم موقف اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سات گھنٹے سے زیادہ دیر تک چلنے والی اس میٹنگ میں وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر، خوراک و رسد کے وزیر پیوش گوئل اور وزیر مملکت برائے تجارت سوم پرکاش اور کسانوں کے چالیس نمائندوں نے شرکت کی۔

میٹنگ کے بعد مسٹر تومر نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے اور دونوں فریقوں نے اپنے موقف پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ کم سے کم امدادی قیمت کا نظام جاری رہے گا اور اس پر کسانوں کے خدشے کو دور کیا جائے گا۔ مسٹر تومر نے کہا کہ کاشتکاروں کو خوف ہے کہ نئے زراعتی قانون اے پی ایم سی نظام ختم ہوجائے گا، جبکہ ایسی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون سے نجی منڈیاں تیاں ہوں گی اور حکومت دونوں منڈیوں میں یکساں ٹیکس کے نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو تجارت میں تنازعہ ہونے کی صورت میں ایس ڈی ایم کے پاس اپیل کرنے پر اعتراض ہے، جس کی وجہ سے وہ عدالت جانا چاہتے ہیں۔ حکومت اس پر بھی غور کرے گی۔ وزیر زراعت نے کہا کہ 5 دسمبر کو پھر سے بات چیت ہوگی۔ واضح رہے کہ کسان تنظیمیں گزشتہ سات دنوں سے دارالحکومت کی سرحد پر موجود ہیں اور زراعتی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close