اپنا دیشتازہ ترین خبریں

’کسانوں کے خلاف تینوں قوانین کو منسوخ کیا جائے‘

نئی دہلی، (یو این آئی)
کسان رہنماؤں نے وزارت داخلہ اور خفیہ ایجنسیوں کے توسط سے مظاہرین سے مذاکرات کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے اعلی سیاسی سطح پر بات چیت کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ کسانوں کے خلاف تینوں قوانین کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔

آل انڈیا کسان اسٹرگل کوآرڈینیشن کمیٹی (اے آئی کے ایس سی سی) نے اتوار کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ کاشت کار متحد ہیں اور متفقہ طور پر مرکزی حکومت سے تین کسان مخالف، عوام دشمن قوانین جو کارپوریٹ کے مفاد کا تحفظ کرتے ہیں اور جنہیں بغیر کسی بحث کے پاس کیا گیا اور بجلی بل۔2020 کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کسان پرامن اور پرعزم طریقے سے دہلی پہنچے ہیں اور وہ اپنے مطالبے کے حصول کے لئے پرعزم ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسان بڑی تعداد میں سندھو اور ٹکری بارڈر پر پہنچ رہے ہیں۔ اتراکھنڈ اور اترپردیش کے کسان بھی سندھو بارڈر پر بھی جمع ہورہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کے کسانوں نے دہلی میں بڑی تعداد میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ حکومت نے ستمبر سے جاری ہونے والے ان کے "دہلی چلو” اپیل کے بعد ملک گیر احتجاجی پروگراموں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے مقامی سطح پر پورے ملک میں بہت سارے احتجاج کا انعقاد کیا، جبکہ دہلی کے آس پاس کے کسان قومی دارالحکومت دہلی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کسانوں نے دہلی پہنچنے کے لئے وسیع تر تیاری کی ہے لیکن انہیں ایک ظالمانہ، غیر انسانی حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں حکومت نے انکے راستے میں بہت سی رکاوٹیں کھڑی کیں، پانی کی بوچھاڑیں کی، آنسو گیس کے گولےداغے، لاٹھی چارج اور شاہراہ کھودیں۔ حکومت پر عدم اعتماد کے لئے خود حکومت بھی ذمہ دار ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت تین سیاہ قوانین اور بجلی بل-2020 کو واپس لینے کے مطالبے پر اپنے ردعمل کے اظہار کی جگہ حکومت اس کوشش میں ہے کہ بحث کا مسئلہ یہ بنے کہ کسان کہاں رکیں گے؟ پورے شہر میں پولیس کو تعینات کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے مظاہرہ کررہے کسان اور دہلی کی عوام بھی دہشت اور شکوک کے ماحول میں آگئے ہیں۔ کسانوں کی راہ میں لگائے گئے بیریکیڈز کو اب بھی ختم نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت کسانوں کے مطالبات پر توجہ دینے میں سنجیدہ ہے تو اسے شرطیں لگانا بند کردینا چاہئے۔ کسان اپنے مطالبات پر بالکل واضح ہیں۔

اے آئی کے ایس سی سی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی انٹلیجنس ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے نقطہ نظر سے حکومت فوری طور پر اس معاملے پر توجہ دینا بند کر دینا چاہئے۔ حکومت نے پارلیمنٹ میں زبردستی ان قوانین کو منظور کیا ہے اور کسانوں کو امید ہے کہ اس کا حل سیاسی ہوگا جو حکومت کے اعلی سطح سے آئے گا۔ وزارت داخلہ کو شامل کرنے کی حکومت کی تجویز کسانوں کے لئے خطرہ کے سوا کچھ نہیں ہے اور یہ ان کی ایمانداری کے تئیں کوئی یقین پیدا نہیں کرتا۔

اے آئی کے ایس سی سی کے ورکنگ گروپ نے تمام کسان تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہلی کی طرف کسانوں کو بھیجنے میں فوری طور سے تیزی لائیں۔ اس نے سبھی کورپوریٹ مخالف اور کسان حامی فورس سے اپیل کی ہے کہ وہ مل کر احتجاج کر کریں۔ پورے ہندوستان میں تحریک کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے یکم دسمبر سے ریاستی سطح پر احتجاج کے انعقاد کی اپیل کی ہے۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close