Khabar Mantra
آپ کی آواز

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟

صورتحال..............ڈاکٹر سلیم خان

عالمِ انسانیت میں فی الحال جمہوریت کا بول بالا ہے۔ ہر کوئی اس نظام کا ایسا دلدادہ ہے کہ اس کے لیے ہر کوئی اصلی یا جعلی جمہوریت کا چولا اوڑھ لیتا ہے یعنی عبدالفتاح السیسی، ولاد امیر پوتن، شیخ حسینہ واجد اور شی جن پنگ جیسے آمریت کے علمبردار بھی انتخابی تماشے کرکے خود کو جمہوری ثابت کرتے ہیں۔ جمہوریت نوازوں کا دعویٰ ہے کہ یہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے بہترین نظام ہے۔ کسی بھی تخم کے بہتر یا بدتر ہونے سے اندازہ اس کی فصل سے لگایا جانا چاہئے۔

انسانی فلاح و ترقی کی کئی جہتیں ہیں، جن میں سب سے اہم اخلاق و تہذیب ہے لیکن اس میں اختلاف ہے۔ عقائد و نظریات کے لحاظ سے اقدار و معیار مختلف ہیں اور پھر اسے ناپنے کا پیمانہ بھی مشکل ہے۔ معاشی سطح پر آسانی یہ ہے کہ خوشحالی کو اعدادو شمار کی مدد سے ناپا اور تولا جاسکتا ہے۔ اس لئے جن ممالک میں جمہوری نظام پھل پھول رہا ہے؟ وہاں کی معیشت کا معروضی جائزہ ساری قلعی کھول دیتا ہے اور علامہ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے:
گرمئ گفتار اعضائے مجالس الاماں
یہ بھی اک سرمایہ داروں کی ہے جنگ زرگری

انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم بین الاقوامی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ جملہ 85 امیر ترین افراد کی دولت دنیا کی نصف غریب آبادی کی دولت کے برابر ہے۔ ایک فیصد لوگوں کے پاس باقی 99فیصد باشندوں سے زیادہ دولت ہے۔ یہ ارتکاز جن ممالک میں ہوا ہے ان میں اکثر جمہوری ممالک ہیں۔ یہ تفاوت کیسے جنم لیتا ہے، اس بابت برطانوی تنظیم ‘آکسفام’ نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے امیر ترین افراد اپنی دولت میں اضافے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں، جس کا بالواسطہ نقصان کم آمدنی والے افراد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

جمہوری نظام سرمایہ داروں کو یہ موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی کے چلتے میہول چوکسی جیسے لوگ عوام کی دولت چرا کر فرار ہوجاتے ہیں اور کسی بے نام جزیرے کی شہریت اختیار کرکے ہندوستان جیسی عظیم جمہوریت کے پاسپورٹ سے دستبردار ہوجاتے ہیں اور ان کا بال بیکا نہیں ہوتا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امیر طبقہ ٹیکس بچاتا ہے اور اپنی دولت کو حکام کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے اور اس میں مزید اضافے کے لیے ہر ممکن جتن کرتا ہے۔ مالی معاملات میں عدم شفافیت، ٹیکسوں کی چوری اور فلاحِ عامہ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری نہ کرکے مال دار طبقہ نہ صرف اپنی مالی اور سیاسی حیثیت مستحکم کرتا ہے بلکہ اس دولت کی اگلی نسلوں تک منتقلی بھی یقینی بناتا ہے۔ کیا ملوکیت اور آمریت میں یہی سب نہیں ہوتا؟ رپورٹ کے مطابق یورپ میں حکومتوں کے بچت اقدامات سے مالدار طبقے کو کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا اور ان اقدامات سے زیادہ تر متوسط اور غریب طبقے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ 2017 میں دنیا کی 3.7 ارب لوگوں کے مال و متاع میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ آکسام کی رپورٹ ہر سال یہ آئینہ دکھاتی ہے لیکن لوگ اس سے آنکھیں موند لیتے ہیں۔

یہ انکشاف کیا جاتا ہے کہ اس نظام کے تحت ہر روز امیر آدمی امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب کی غربت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، اس کے باوجود لوگ اس کی فسوں کاری میں مبتلا رہتے ہیں یعنی قفس کو آشیاں پر قیاس کرتے ہیں بقول اقبال:
اس سراب رنگ و بو کو گلستاں سمجھا ہے تو
آہ اے ناداں قفس کو آشیاں سمجھا ہے تو

ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں بھی امیری اور غریبی کے درمیان کی کھائی وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ ہندوستان کے 50 فیصد لوگوں کے پاس جو دولت ہے، اس سے زیادہ صرف 9 امیروں کے قبضے میں ہے۔ ہندوستان کے 10فیصد لوگوں کے پاس 3.77 فیصد اثاثہ ہے۔ ان میں سے ایک فیصد 51.53فیصد پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں جبکہ 60فیصد باشندوں کے پاس صرف 4.8فیصد دولت ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے اندر ارب پتی افراد کی تعداد 10گنا اضافہ ہوئی۔

ان کروڑپتی لوگوں کا اثاثہ 2018 میں ہر دن 2200 کروڑ کی شرح سے بڑھا یعنی ان کی دولت 39فیصد بڑھ گئی جبکہ دنیا بھر کے امیروں کی آمدنی کا اوسط 12 فیصد بڑھا۔ اس طرح ہندوستان کے امیر دیگر ممالک سے تیز ہیں جبکہ دیگر 50فیصد زیادہ لوگوں کے اثاثہ میں صرف 3فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے زیادہ تو مہنگائی کی شرح ہے یعنی حقیقی اثاثے میں کمی واقع ہوئی۔ ہندوستان کے دس فیصد لوگ قرضدار ہیں۔ ان میں نیرو مودی جیسے لوگ عیش کرنے کے لیے ملک چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں جبکہ غریب کسان خودکشی کرکے دارِ فانی سے کوچ کر جاتا۔ علامہ اقبال نے جمہوریت کے اس کریہہ چہرے کی کیا خوب عکاسی کی ہے :
تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام
چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!

(Writer: Dr. Saleem Khan…….……………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close