آئینۂ عالمتازہ ترین خبریں

چینی معیشت میں سست روی عالمی معیشت کے لیے خطرہ

امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کی وجہ سے تیسری سہ ماہی کے دوران چین کی معیشت کی بڑھوتری میں سست روی واقع ہوئی ہے اور ملک کے اندر بھی طلب میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر تک تین ماہ میں پہلی ششماہی کے مقابلے میں معیشت میں صرف چھ فیصد ہی اضافہ ممکن ہو سکا ہے۔ متوقع شرح پیداوار 6.1 فیصد سے بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ٹیکسز میں کمی سمیت دیگر حکومتی کوششوں کے باوجود یہ سست روی دیکھنے میں آئی۔

تازہ اعداد و شمار دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی رفتار میں مزید کمی کا باعث بن رہے ہیں جس کی شرح پیداوار تقریباً گذشتہ تین دہائیوں سے تنزلی کی طرف گامزن ہے۔ تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں چین کی معیشت پر مزید دباؤ آئے گا۔ تاہم یہ 6 سے 6.5 فیصد سالانہ شرح پیداوار کے ہدف کے مطابق ہے۔ چین کی معیشت میں استحکام کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کی شرح پیداوار میں سست روی پوری دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حالیہ چند دہائیوں میں چین پیداوار میں اضافہ کرنے والا انجن ثابت ہوا ہے۔ کچھ تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ چین میں پیداوار میں تیزی سے کمی واقع ہونے دنیا کی پہلے سے سست روی کا شکار معیشت مزید کساد بازاری کا شکار ہو جائے گی۔

ایک سینیئر چینی معیشت دان جولیان ایون پریچرڈ کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں چین کی معیشت پر مزید دباؤ آئے گا۔ پریچرڈ دنیا کی پانچ بڑی معاشی طاقتوں پر گہری نظر رکھنے والے ریسرچ کے ادارے ’کیپٹل اکنامکس‘ سینیئر چائنہ اکانومسٹ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازوں کی اس حوالے سے مداخلت متوقع ہے لیکن پیداوار میں اضافے اور معیشت کو ایک ڈگر پر چلانے کے لیے کچھ وقت درکار ہو گا۔چین کی گذشتہ برس سے امریکہ سے تجارتی جنگ کی وجہ سے تجارتی سرگرمیوں اور صارفین میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ چین کو اندرونی طور پر سوائن فلو جیسے چیلنج کا سامنا ہے جو افراط زر میں اضافے کی سبب بنا اور صارفین کی قوت خرید پر منفی اثر ڈالا۔

تجارتی تنازعات اور سست رو طلب کے پیش نظر اب اس ہفتے عالمی مالیاتی ادارے، آئی ایم ایف، نے چین سے متعلق سال 2019 میں 6.1 سے 6.2 کی شرح پیداوار کی پیش گوئی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں چین اور امریکہ کے درمیان فیز ون مذاکرات کے بعد اب تجارتی جنگ کے حل کی طرف کچھ پش رفت کے آثار دکھائی دیے ہیں۔ چین کی حکومت نے معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکس میں چھوٹ اور فنانشل سسٹم یعنی بینکوں میں مزید سرمایہ رکھنے سے متعلق اقدامات اٹھائے ہیں۔اس کے باوجود کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال میں بڑھتے قرضوں اور معیشت سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد اب چین کی حکومت بھی اب پہلے سے زیادہ محتاط ہو گئی ہے۔

چین کے معاشی اعداوشمار کا تجزیہ ایک نئے مسئلے کو جنم دیتا ہے۔ کئی ماہرین معاشی امور کے خیال میں ظاہر کی جانے والے اعداوشمار سے حقیقی اعدادوشمار بہت کم ہیں، لیکن یہ حکومت کا پیداوار سے متعلق ایسا طریقہ کار ہے تاکہ آپ اس طرف توجہ دیں۔چین کی پیداوار کے توقع سے کم اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چین کی معیشت بہت سے اندازوں سے زیادہ خسارے میں جا رہی ہے۔.چین کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیجنگ کے لیے بھی یہ اعدادوشمار پریشان کن ہیں۔ اس ہفتے کے آغاز میں وزیر اعظم لی چن کچیانگ نے غیر معمولی طور پر مقامی اہلکاروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس سال شرح پیداوار کے اہداف حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کا اقدام اٹھائیں۔

چین کی معیشت تین طریقوں سے متاثر ہو رہی ہے: امریکہ کی تجارتی برتری، ملکی سطح پر طلب میں کمی اور بڑھتے اندرونی چیلنجز جس میں سوائن فلو سے بخار کی وبا کا پھوٹ پڑنا جس نے اس کے سور کے گوشت والے فارم ہاؤس متاثر ہوئے جس سے صارفین کے لیے قیمتیوں میں بھی اضافہ ہوا۔ چین کی شرح پیداوار میں سستی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ لیکن یہ سب ان فیصلہ سازوں کے لیے ایک نئے درد سر بن گیا ہے جو اس سست روی پر قابو کے خواہاں ہیں۔ ملک میں سیاسی استحکام معاشی سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے اور یہی وہ کچھ ہے جو کمیونسٹ پارٹی نے گذشتہ چار دہائیوں میں یقینی بنایا ہے اور اب اس عمل کو جاری رکھنے سے متعلق ان کو شدید دباو کا سامنا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close