تازہ ترین خبریںدلی نامہ

چندر شیکھر پولیس حراست میں

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف مظاہرہ میں شامل بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد کو یہاں جامع مسجد کے نزدیک سنیچر کی صبح سویرے حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ مظاہرین کو اکسانے کے اندیشہ کے پیش نظر تقریباََ صبح چار بجے چندرشیکھر کو حراست میں لیا گیا۔ چندر شیکھر نے حراست میں لئے جانے سے پہلے ٹوئٹ کرکے کہا کہ پولیس جامع مسجد کے سامنے گلی میں اپنے گھروں کے آگے پرامن طریقہ سے کھڑے لوگوں کو لاٹھی چارج اور مقدمہ درج کرنے کا خوف دکھا رہی ہے۔ یہ پولیس کی تحریک کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش لگ رہی ہے۔

انہوں نے ایک دیگر ویڈیویو ٹوئٹ میں کہا کہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف آج بڑی لڑائی ہے۔ یہ قانون ملک کو توڑ دے گا۔ انہوں نے لوگوں سے پرامن طریقہ سے اپنی تحریک چلانے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ یہ لڑائی کسی ذات یا مذہب کے خلاف نہیں ہے بلکہ ملک کوبچانے کی ہے۔ حکومت کو اس قانون کو واپس لینا ہوگا۔ ملک کو کمزور کرنے اور خاص طورپر دلتوں پسماندہ لوگوں کے حق کو چھییننے کی سازش کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کو شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے خلاف مظاہرہ کے دوران دہلی گیٹ کے نزدیک ہوئے تشدد میں 33 لوگ زخمی ہوگئے جن میں تقریباََ دس پولیس اہلکار شامل ہیں۔ دہلی پولیس نے دہلی گیٹ علاقہ میں شام کو مظاہرین پر پانی کی بوچھار کے بعد لاٹھی چارج کیا تھا۔ دہلی گیٹ کے نزدیک مظاہرین جمع ہوگئے اور ایک گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔

پولیس کے مطابق دریا گنج میں گھنٹوں جمع بھیڑ شام کو پرتشدد ہوگئی۔ پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے پانی کی بوچھار کی تھی۔ اس کے علاوہ جامع مسجد کے باہر اور انڈیا گیٹ پر بھی بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوگئے تھے اور مسلسل سی اے اے اور این آر سی کے خلاف نعرے باز ی کررہے تھے۔

مظاہرین دہلی پولیس مردہ آباد اور فاشزم برباد ہو جیسے نعرے لگارہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس نے دہلی گیٹ علاقہ سے تقریباََ 200 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ مظاہرے کے دوران تشدد میں 42 لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں 15 پولیس حکام شامل ہیں۔ پولیس نے حساس علاقوں میں گشت بڑھا دی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close