تازہ ترین خبریںدلی نامہ

پی ایم مودی سے کیجریوال کی 1000 اضافی آئی سی یو بستر محفوظ رکھنے کی اپیل

کورونا سے نمٹنے کے لئے عام بستر دستیاب، آئی سی یو بیڈز کی کمی ہے، دہلی میں کورونا کی تیسری لہر 10 نومبر کو 8600 مثبت واقعات کے ساتھ اپنے عروج پر تھی، اب مثبت شرح میں مسلسل کمی آ رہی ہے.......وزیر اعظم کی قیادت میں پڑوسی ریاستیں پرالی کو ختم کرنے کے لئے ایک ٹیم کے طور پر کام کریں: اروند کیجریوال

نئی دہلی (امیر امروہوی)
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال (Arvind Kejriwal) نے دہلی میں کوویڈ۔19 (Covid19) کی تازہ ترین صورتحال اور اس سے نمٹنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) کی آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران تفصیلی بریفنگ کی۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کے لئے دہلی کے اسپتالوں میں فی الحال کافی تعداد میں بستر دستیاب ہیں، لیکن آئی سی یو بیڈ کی کمی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ دہلی میں مرکزی حکومت کے اسپتالوں میں دہلی کے مریضوں کے لئے 1000 آئی سی یو بیڈ محفوظ کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں کورونا کی تیسری لہر 10 نومبر کو شروع ہوئی تھی جس میں 8600 مثبت معاملے سامنے آئے تھے لیکن اب اس کی شرح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ پڑوسی ریاستوں میں پرالی کے جلانے کی وجہ سے دہلی میں فضائی آلودگی میں زبردست اضافہ ہوا، جس نے کورونا کی تیسری لہر کو مزید خطرناک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمسایہ وزیر اعلی آپ کی (وزیر اعظم) قیادت میں پرالی کو ختم کرنے کے لئے ایک ٹیم کی طرح کام کریں۔

سی ایم اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کو بتایا کہ کوڈ کے لئے مختص کل بستروں میں سے، دہلی کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں میں 9400 بستر موجود ہیں، جبکہ 8500 بستر ابھی بھی خالی ہیں۔ ابھی ہمارے لئے کورونا مریضوں کے لئے بستروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ دہلی میں آئی سی یو کے کل 3500 بیڈ ہیں اور ابھی بھی 724 خالی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ دہلی میں آئی سی یو بیڈز کو بڑھانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں، لیکن اگر صفدر جنگ اور مرکزی حکومت کے ایمس جیسے اسپتالوں میں دہلی کے باشندوں کے لئے کچھ اور بیڈ بڑھا دیں تو ہم مشکور ہون گے۔

اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کو مزید بتایا کہ دہلی میں کورونا کی پہلی لہر جون کے مہینے میں آئی تھی، اس دوران دہلی میں روزانہ 20000 نمونوں کی جانچ کی جاتی تھی۔ ستمبر میں، دہلی حکومت نے تحقیقات کا دائرہ بڑھا کر 60 ہزار کردیا تھا ابھی دہلی میں کورونا کی تیسری لہر چل رہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں، مثبت شرح کے ساتھ، اموات کی شرح میں بھی مسلسل کمی واقع ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں کورونا کی تیسری لہر کو مزید خطرناک بنانے میں پرالی نے اہم کردار ادا کیا ہے پڑوسی ریاستوں میں پرالی کے جلانے کی اہم وجہ ہے جبکہ دہلی حکومت نے حال ہی میں پوسا انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے اس پرالی کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ پوسا انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ تیار کردہ بائیو ڈمپپوزر تکنیک کو دہلی حکومت نے اپنے کسانوں کے کھیتوں میں بھی استعمال کیا ہے اور اس کی مدد سے پرالی پگھل کر کھاد میں تبدیل ہوگئی۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس ٹیکنا لوجی کی مدد سے پرالی کو کھاد میں تبدیل کرنے کی صلاح دیں۔’

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close