تازہ ترین خبریںکھیل کھلاڑی

وراٹ کوہلی کی کپتانی پر اٹھے سوال، گمبھیر نے بنایا نشانہ

ممبئی، (یو این آئی)
ہندوستان کے سابق سلامی بلے باز گوتم گمبھیر نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں دو میچوں میں ملی مسلسل شکست کے بعد ٹیم انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی کو نشانہ بناتے ہوئے تیز گیندباز جسپریت بمراہ کا صحیح طریقہ سے استعمال نہ کرنے پر سوال اٹھایا ہے۔

بمراہ نےاتوار کے روز آسٹریلیا کے خلاف موجودہ سیریز کے دوسرے میچ میں اپنے پہلے اسپیل میں دوسرا اور چوتھا اوور کرتے ہوئے محض سات رن دیئے تھے۔ اس کے بعد پاور پلے میں ان سے صرف ایک اوور کروایا گیا۔ بمراہ نے اننگز کا نواں اوور ڈالا۔ گمبھیر نے کہا کہ ان کی سمجھ سے باہر ہے کہ بمراہ کو نئی گیندباز سے صرف دو اوور کیا کرائے گئے۔

گمبھیر نے اتوار کے روز میچ کے بعد کرک انفو کے ایک پروگرام میں کہا کہ ’ایمانداری سے کہوں تو مجھے وراٹ کی کپتانی سمجھ نہیں آئی۔ ہم اس بارے میں مسلسل بات کر رہے ہیں کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ وکٹ حاصل کرنا ہوگا اور ہمیں آسٹریلیا کی بلے بازی لائن اپ کا توڑ نکلالنا ہوگا لیکن وراٹ اپنے اہم گیندباز بمراہ سے نئی گیند سے دو اوور ہی کرا رہے ہیں۔ عام طور پر ایک روزہ میچ میں 4-3-3 اوور کے اسپیل ہوتے ہیں اور کسی گیندباز سے زیادہ تر ایک اسپیل میں چار اوور کرائے جاتے ہیں۔

گمبھیر نے کہا کہ اگر آپ نئی گیندباز کے ساتھ دو اوور بلے بازی کراکر اپنے اہم گیندباز کو روکتے ہیں تو میرے لئے یہ کپتانی سمجھنا مشکل ہے۔ یہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نہیں ہے۔ ہندوستان کی شکست ہوئی کیونکہ خراب کپتانی تھی۔ ٹیم سلیکشن پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے گمبھیر نے کہا کہ وہ واشنگٹن سندر یا شیوم دوبے کو ایک روزہ میچ میں شامل کر سکتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک روزہ میچ میں کیسی کارکردگی کرتے ہیں۔ اگر یہ دونوں آسٹریلیا میں نہیں ہیں تو یہ کہیں نہ کہیں سے ٹیم سلیکشن میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ جب تک ہم کسی کو موقع نہیں دیں گے تو ہمیں کیسے پتہ لگے گا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر کتنا بہتر ہے۔”

واضح رہے کہ آسٹریلیا نے لگاتار دو ون ڈے میچوں میں 370 سے زائد رنز بنائے اور دوسرا ون ڈے 51 رنز سے جیت کر تین میچوں کی سیریز اپنے نام کرلی۔ آسٹریلیا نے پہلے میچ 374 رن بناکر 66 رنز سے میچ جیت لیا تھا۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close