Khabar Mantra
تازہ ترین خبریںکھیل کھلاڑی

وراٹ کا ایک اور کارنامہ، 25ویں سنچری بنا کر سچن کو پیچھے چھوڑا

ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے تیز 25 سنچری بنانے میں ہم وطن بلےباز سچن تندولکر کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔

وراٹ نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن 123رنزبنا کر اپنی 25 ویں ٹیسٹ سنچری لگائی۔ وراٹ کی 2018 میں یہ پانچویں ٹسٹ سنچری تھی اور اس سال تمام فارمیٹ میں 11ویں سنچری تھی۔ وراٹ نے 127 اننگز میں 25 سنچری بنائیں جبکہ سچن 130اننگز میں اس ہندسے پر پہنچے تھے۔ آسٹریلیا کے عظیم بلے باز سر ڈان بریڈمین محض 68 اننگز میں اس ہندسے تک پہنچ گئے تھے۔ ہندستانی کپتان کی آسٹریلیا کے خلاف 7ویں اور آسٹریلیا میں چھٹی سنچری تھی۔ کپتان کے طور پر یہ ان کی 18 ویں سنچری تھی جن میں سے 14ٹسٹ سنچری تو انہوں نے ہندستان سے باہر لگائی ہیں۔

وراٹ کی یہ کل 63 ویں انٹر نیشنل سنچری ہے۔ وراٹ کی یہ آسٹریلیا میں چھٹی سنچری ہے اور اس معاملے میں انہوں نے سچن کی برابری کر لی ہے جنہوں نے آسٹریلیا میں چھ سنچری بنائی ہیں۔ وراٹ نے مسلسل دوسرے سال ایک کیلنڈر سال میں 11 سنچری بنا لی ہیں اور اس معاملے میں ان سے آگے سچن ہیں جنہوں نے 1998 میں 12 سنچری بنائی تھیں۔

کوہلی کم ترین اننگز میں 25ٹیسٹ سنچریاں اسکورکرنے والے دنیا کے دوسرے بلے باز بھی بن گئے ہیں۔ کپتان نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے257گیندوں پر123رنز سکور کیے، یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی25ویں سنچری تھی جس کے ساتھ ہی انہوں نے کم ترین ٹیسٹ اننگز میں 25سنچریاں اسکور کرنے کا سچن کا 17سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا، سچن نے 2001میں چنئی ٹیسٹ میں آسٹریلیا ہی کے خلاف130ویں اننگز میں 25سنچریاں مکمل کی تھیں تاہم کوہلی نے127اننگز کھیل کر یہ ریکارڈ اپنے نام کرلیا ہے۔ سابق اوپنر سنیل گواسکر نے138اور آسٹریلیا کے سابق اوپنر میتھیو ہیڈن نے139اننگز کھیل کر اپنی 25ٹیسٹ سنچریاں مکمل کی تھیں۔

آسٹریلیا میں کپتان کے طور پر سب سے زیادہ چار سنچری بنانے والے کپتانوں میں اب وراٹ ویسٹ انڈیز کے كلائيو لایڈ کی برابری پر آ گئے ہیں۔ وراٹ دوسرے ایسے کپتان ہیں، جنہوں نے مسلسل سال میں 5 ٹسٹ سنچری لگائی ہیں۔ ان سے پہلے آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ نے 2005 اور 2006 میں یہ کارنامہ کیا تھا۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close