تازہ ترین خبریںدلی نامہ

جامعہ: نہ لاٹھی کی پرواہ نہ گولی کا ڈر، جمع ہوئے ہیں طلبا کے ہزاروں سر

سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے ساتھ جامعہ اور جے این یو میں ہوئے حملے کے خلاف بھی طلبا سراپا احتجا ج

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شہریت ترمیمی قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف گزشتہ 15 دسمبر سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر طلباء و طالبات کا جاری احتجاجی مظاہرہ دھرنا جاری ہے۔ اس میں کسی بھی طرح کی کمی ہونے کے بجائے مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جامعہ ملیہ کے طلبا پر پولیس کے قہر کی مخالفت کے ساتھ اب اس میں جے این یو میں طلباء و طالبات کے ساتھ نقاب پوش غنڈوں کے حملے کی مخالفت اسی شدت کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ جس میں اطراف کے لوگوں سمیت کالج اور دیگر یونیورسٹی اور اسکولی طلبا بھی کثرت سے شریک ہو رہے ہیں۔ چھوٹے اسکولی بچے اپنے ماؤں کا ہاتھ تھامے مظاہرہ گاہ پر پہنچ رہے ہیں۔

ان کو نہ پولیس کے لاٹھی چارج کی پرواہ اور نہ ہی آنسو گیس یا گولی چلنے کا کوئی ڈر ہے۔ انقلاب زندہ باد اور آزادی کے نعروں کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا چپّا چپّا گونج رہا ہے، یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حکومت مخالف اور انقلابی نعروں سے پٹی ہوئی جامعہ کی دیواریں اور سڑکیں طلبا و طالبات، بچے، بوڑھوں، جوان اور خواتین کے جم غفیر کے تاریخی انقلاب کی شاہد بنی ہوئی ہیں۔ یہاں طلبا کے احتجاج میں اساتزہ بھی کاندھا ملا کر شامل ہیں۔ ساتھ ہی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد بھی اس تاریخی احتجاج کا حصہ بن چکے ہیں اور مزید ان طلبا کی حوصلہ افزائی کیلئے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں شریک ہو رہے ہیں۔

جامعہ پر مظاہرے میں شریک ہوئے مسلم پرسنل لا بورڈ کے سابق ترجمان مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے کہاکہ آج اس ادارہ کے طلبہ نے اس بات کو ثابت کر دیا اور ہندوستان سمیت پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا کہ یہاں کے طلبہ فسطائیت کے خلاف ڈرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے شاہین باغ، جامعہ نگر کے خواتین کیلئے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ مسلم خواتین کے اندر ملک کے مسائل کے تئیں کوئی سمجھ نہیں ہے، لیکن جب ملک میں آئین کے خلاف کچھ ہوا تو مسلم خواتین نے سڑکوں پر اتر کر دکھا دیا کہ وہ ملک کے مسائل کے تئیں کتنی حساس ہیں۔ انہوں نے خواتین سے کہاکہ تمام بہنیں اس مہم کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں۔ آپ کی اس کی تحریک کو ہندوستان ہی پوری دنیا میں حمایت کی جا رہی ہے اور آپ کی کوشش اور قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

کمیونسٹ لیڈر کویتا کرشنن نے کہاکہ کسی کو معلوم تھا کہ خواتین اتنی بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتریں گی۔ خواتین نے یہ بتا دیا ہے کہ وہ ظلم کے خلاف میدان میں اترنے کا مادہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج حالات اتنے خراب ہیں کہ نقاب پوش غنڈے کبھی جامعہ میں طلبہ کو نشانہ بناتے ہیں تو کبھی اے ایم یو تو کبھی جے این یو پر حملہ کرتے ہیں، کرشنن نے الزام لگایا کہ حکومت حد سے زیادہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ اس وقت نافذ ہونے والے این پی آر میں بابوؤں کو حق ہوگا کہ بغیر کسی وجہ کے بھی آپ کے نام کے مشتبہ لکھ دے اور نہ لکھنے کے لئے آپ سے بھاری رشوت طلب کرے گا۔ ٹریڈ یونین کی جنرل سکریٹری سوبیا راج نے کہاکہ ہماری لڑائی انگریزوں کے دلالوں سے ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ شاہین باغ، جامعہ نگر اور بٹلہ ہاؤس کی خواتین ہر اول دستہ کا کام کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ اس میں صرف جامعہ نگر، شاہین باغ کی خواتین ہی نہیں بلکہ پوری دہلی کی خواتین اس مظاہرہ میں شرکت کر رہی ہیں۔

مظاہرہ میں شریک سرگرم سماجی کارکن حاجی محمد زاہد اور جامعہ کی طالبات نے کہاکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دیگر علاقوں میں مظاہرین پر بربریت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور اب جے این یو پر نقاب پوش غنڈوں سے حملہ کرانا حکومت کی کھسیاہٹ کا ثبوت ہے۔ لیکن چاہے ہم پر لاٹھیاں چلیں، آنسو گیس چھوڑا جائے یا گو لیاں چلائی جائیں ہم یہاں سے تب تک نہیں ہٹیں گے جب تک سی اے اے، این آر سی اور این پی آر ختم نہیں کیا جاتا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close