Khabar Mantra
تازہ ترین خبریںدلی نامہ

ملک کی بدقسمتی ہے کہ تعلیم کو کبھی سیاست کا موضوع نہیں بنایا گیا۔ منیش سسودیا

دہلی کے نائب وزیر اعلی اور وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کہا ہے کہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ تعلیم کو کبھی سیاست کا موضوع نہیں بنایاگیا اور نہ ہی اسے سیاست میں اہمیت دی گئی۔ یہ بات آج یہاں انہوں نے انڈین مسلم انٹیکچول فورم کے تحت منعقدہ ’مسلمانوں کی ترقی بذریعہ تعلیم‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہاکہ ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ (عام آدمی پارٹی) تعلیم پر سیاست کر رہی ہے جب حقیقت میں یہی ہونا چاہئے کہ تعلیم پر نہ صرف سیاست کی جائے بلکہ تعلیم کو سیاست کا موضوع بنایا جائے۔ ساتھ ہی نہوں نے کہاکہ یہ ملک کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ آج کوئی پارٹی تعلیم کو سیاست کا موضوع نہیں بناتی۔ انہوں نے کہاکہ آج مجھے خوشی ہے کہ تعلیم سیاست کا موضوع بن گئی ہے اور آج اس پر بات ہورہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ دہلی وقف بورڈ کے تحت اسکول کھولنے کی بات کہی جارہی ہے میں آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ وقف بورڈ جو بھی اسکول کھولے گا اسے پیسے کی کمی نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ وقف بورڈ اگر قابل عمل پروگرام بناتا ہے کہ تو دہلی حکومت کا مکمل تعاون شامل رہے گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ آپ لوگوں سے درخواست کی کہ آپ اسے مسلمانوں کا اسکول نہ بناکر ہندوستان کا اسکول بنائیں۔ یہی سماج کی طاقت ہوگی اور فرقہ پرستوں کو بہکانے کا موقع نہیں ملے گا بلکہ یہیں سے انہیں سخت جواب ملے گا۔

انہوں نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حکومت کا کام تین صرف تین ہے ایک پاکستان سے لڑنا، مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینا اور عیسائی کو مذہب تبدیل کرنے والا قرار دینا۔ بس اس سے روزگار، تعلیم اور ترقی کے بارے میں کوئی سوال نہ پوچھے۔ انہوں نے مزید کہاکہ سیاست کو درست کئے بغیرتعلیمی نظام کو درست نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا اچھے لوگوں کو سیاست میں آنے کی ضرورت ہے۔

وقف بورڈ کے چیرمین امانت اللہ خاں نے کہاکہ مرکزی حکومت پر کام سے روکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت مجھے ہٹانے کی سازش کر رہی ہے لیکن میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتا ہوں اور کرکے رہوں گا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت وقف بورڈ کا بجٹ 37کروڑ روپے ہے جب کہ کانگریسی دور حکومت محض 70لاکھ روپے کا بجٹ تھا۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری وقف بورڈ پر ہے۔انہوں نے کہاکہ دہلی وقف بورڈ مسلم علاقوں میں وقف بورڈ پبلک اسکول کھولے گا جس کی شروعات جولائی سے ہوجائے گی۔

انڈین مسلم انٹیکچول فورم کے کنوینر کلیم الحفیظ نے کہاکہ نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے تعلیم کے سلسلے میں تلنگاماڈل پیش کرتے ہو ئے کہا کہ کسی بھی قوم کی دائمی پسماندگی صرف تعلیم سے ہی دور ہوسکتی ہے اور تلنگامہ کے طرز پر دہلی میں تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں ڈھائی سو اسکول کی ضرورت ہے جو دہلی میں رہنے والے 40لاکھ مسلمانوں کی ضرورتوں کو پورا کرے گا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ قرولباغ طبیہ کالج کو اقلیتی درجہ دیکر اسے یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا تاکہ وہ ادارہ اپنے تانباک ماضی کے ساتھ سنہرے مستقبل کی طرف رواں دواں رہ سکے۔

شکیل حسن شمسی نے کہاکہ اگر اسکول کھلیں گے تو تعلیم میں تبدیلی آئے گی۔انہوں نے کہاکہ اس علاقے میں تمام اہم اسکولوں کی بسیں آتی ہیں اس سے انداز ہوتا ہے کہ یہاں تعلیم کے تئیں بیداری ہے۔ ساتھ انہوں نے دہلی حکومت سے درخواست کی کہ اس علاقے میں ڈے بورڈنگ اسکول قائم کیا جائے تاکہ مزدور، غریبوں اور کمزور طبقے کے بچوں کو پڑھنے میں آسانی ہو اور وہاں ان کے لئے کھیل کود اور تفریح کا سامان بھی مہیا ہو۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close