اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مغربی بنگال: بی جے پی اور ترنمول کانگریس حامیوں میں جھڑپ، کئی افراد زخمی

کلکتہ، (یو این آئی)
مغربی بنگال کے مغربی بردوان ضلع کے آسنسول میں ترنمول کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپ کئی افراد زخمی ہوگئے اور کئی مکانات کو بھی نقصان کو پہنچایا گیا ہے۔ پولس آفیسر نے بتایا کہ دونوں فریق نے ایک دوسرے پر بم بھی پھینکے ہیں۔ موقع پر پولس پہنچ گئی ہے۔

پولس کے مطابق بی جے پی کی ریاست گیر مہم ’’اب ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی‘‘ کے تحت بی جے پی جلوس نکال رہی تھی اور جب یہ جلوس بارانی موڑ پر پہنچا تو اس پرحملہ ہو گیا۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس کے حامیوں نے بھگوا پارٹی کے کیڈروں کو زدوکوب کیا، جبکہ ریاست کی حکمراں جماعت نے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بی جے پی کی ’’اندرونی لڑائی‘‘کا نتیجہ ہے۔ مرکزی وزیر اور آسنسول کے ممبر پارلیمنٹ بابول سپریو نے الزام لگایا کہ اس واقعے کے پیچھے مقامی ترنمول کانگریس رہنما شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگرحس مقامی لیڈران اس حملے کے پیچھے ہیں۔ کوئلے کی کان کنی مافیا سے وابستہ افراد بھی اس واقعے میں ملوث ہیں۔ یہ مغربی بنگال کی حقیقت ہے۔

بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جھڑپ میں اس کے سات حامی زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدردلیپ گھوش نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال میں امن وامان کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں قانون کی حکمرانی کا عمل ختم ہوچکا ہے۔ صرف اس صورت میں جب بی جے پی اقتدار میں آجائے گی تو ریاست میں امن و امان بحال ہوگا۔

بی جے پی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ترنمو ل کانگریس کے ترجمان کنال گھوش نے کہا کہ یہ تصادم بی جے پی کے اندرونی گروہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ترنمول کانگریس اس واقعے میں ملوث نہیں ہے۔ بھگوا جماعت ہمیں بدنام کرنے کے لئے اس طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آسنسول کے میئر اور ضلع ترنمول کانگریس کے سربراہ جتیندر تیواری نے بھی ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو بدنام کرنے کے لئے ’’بے بنیاد‘‘ الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ یہ بی جے پی کی اندرونی چپقلش کے نتیجے میں ہر جگہ بی جے پی کے لوگ آپس میں ہی دست وگریبان ہیں۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close