آپ کی آوازتازہ ترین خبریں

لو-جہاد مخالف قانون کو عدلیہ کا آئینہ

بے ساختہ.....جمشید عادل علیگ

آئندہ سال مغربی بنگال، آسام، پڈوچیری، کیرالہ اورتمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اوریہ انتخابات بی جے پی کے لئے وقار کا سوال ہے۔ ان انتخابات میں بی جے پی کی جیت یا ہار اس کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی کہ 2024 میں مودی وزیراعظم رہیں گے یا نہیں؟ حالانکہ ملک کی معیشت کی جو زدہ حالت ہے، بے روزگاری کا جو عالم ہے خاص کر کورونا کی جو مار ہے، اس نے عوام کو حکومت مخالف بنا دیا ہے۔ یہی اینٹی اِن کمبینسی لہر بہار میں دیکھی گئی، مگر پھر بھی سرکار بی جے پی کی بن گئی۔ یہ سب کیسے ہوا؟ اس پر پورا ملک حیران ہے۔ حالانکہ کچھ سیاسی پنڈتوں کے اس تبصرے میں دم دکھائی دیتا ہے کہ ہندوتو کی ذہنیت نے بی جے پی کی لاج رکھ لی۔ تمام تر مخالف لہر کے باوجود ہندو ذہنیت نے بالآخر بازی مار لی۔ حالانکہ بہار میں جیت یا ہار کو ہم اس تناظر میں نہیں دیکھتے، لیکن اتنا تو طے ہے کہ کم از کم دو فیصد ووٹ اسی ذہنیت کے پیش نظر این ڈی اے کے کھاتے میں گئے اور بی جے پی کی لاج بچ گئی اور اب ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات بی جے پی کے لئے ایک چیلنج سے کم نہیں ہیں۔ لہٰذا اب ان انتخابات کو جیتنے کے لئے بی جے پی کے پاس ہندوتو کے سوا کوئی بھی حربہ نہیں ہے۔ کورونا کی مار اور بے روزگاری سے پریشان عوام ہندوتو کی سیاست کا شکار ہوں گے اس پر بھی سوال کھڑا کیا جا رہا ہے۔ مگر بی جے پی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے، لہٰذا اب بڑے دھوم دھڑاکے کے ساتھ لوجہاد کے خلاف قانون بنانے کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ بین مذاہب شادیوں پر پابندی کو ہندوسماج کا وقار سمجھا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش، اترپردیش، کرناٹک، آسام میں جلد ہی قانون بننے کا امکان ہے۔ اور اب بہار میں بھی لوجہاد کے خلاف بل لانے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ جس قانون کو ہندوستانی آئین غلط قرار دے رہا ہے، کیا وہ قانون بن سکے گا؟

لو جہاد کو لے کر جس طرح اترپردیش حکومت سرگرم ہوئی ہے اور جس الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو لے کر وزیراعلیٰ یوگی نے کہا تھا کہ ہم لوجہاد کے خلاف سخت کاروائی کریں گے اور جو اس کی تابعداری نہیں کرے گا اس کا رام نام ستیہ ہو جائے گا۔ دراصل یوگی جی کی فکر کو تقویت الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے ملی ہے کہ شادی کے لئے مذہب تبدیل کرنا ناجائز ہے۔ لیکن اب اسی الٰہ آباد ہائی کورٹ نے لوجہاد کے مخالفین کو کرارا جھٹکا دیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی تازہ ترین رولنگ لوجہاد کے خلاف قانون بنانے والوں کے منھ پر ایک زبردست طمانچہ ہے، جس الہ آبادہائی کورٹ کے فیصلے پر فسطائی نواز طاقتیں اپنی پیٹھ تھپتھپا رہی تھیں، اب اسی الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے ان کی ساری حکمت عملی اور منشا کو اوندھے منھ گرا دیا ہے۔

دراصل الٰہ آبادہائی کورٹ نے اترپردیش میں ایک بین مذاہب شادی کے معاملے میں فیصلہ سنایا ہے اور کہا ہے کہ ہم بین مذاہب شادی کو ہندو، مسلم کی طرح نہیں دیکھتے۔ عدالت کا یہ جملہ نئے قانون بنانے والوں کے لئے ایک کرارا جھٹکا ہے۔ الٰہ آبادہائی کورٹ کافیصلہ اس دور میں آیا ہے، جب اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ سرکار لوجہاد کو لے کر سخت قانون بنانے کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہے۔ اسی دوران الٰہ آبادہائی کورٹ نے نام نہاد لوجہاد کے ایک معاملے میں سماعت کرتے ہوئے یوپی کے کشی نگر کے سلامت انصاری کے خلاف درج ایف آئی آر کو خارج کر دیا ہے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ ذاتی تعلقات میں مداخلت کرنا دو لوگوں کی پسند کی آزادی کے اختیار پر سنگین حملہ ہے۔ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہم پرینکا کھروار اور سلامت انصاری کو ہندو، مسلم کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ وہ دونوں اپنی مرضی، اپنی پسند سے ایک سال سے زائد کے عرصے سے سکھ شانتی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ چنانچہ ایسے عالم میں ہندوستان کی آئین کی دفعہ 21 کے تحت دی گئی عام آدمی کی زندگی اور آزادی کو بنائے رکھنے کی ذمہ داری عدالت اور آئینی اداروں پر ہے۔ الٰہ آبادہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ قانون کسی بھی شخص کو اپنی پسند کے شخص کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتا ہے، خواہ وہ دیگر مذہب کا ہی کیوں نہ ہو، یہ زندگی اور شخصی آزادی کے اختیار کا بنیادی حصہ ہے۔

واضح ہو کہ اترپردیش کے کشی نگر کے رہنے والے سلامت انصاری اور پرینکا کھروار نے اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف گزشتہ اگست میں شادی کی تھی۔ پرینکا نے شادی سے قبل اسلام مذہب قبول کیا تھا اور اپنا نام عالیہ رکھ لیا تھا۔ پرینکا کے اہل خانہ نے سلامت انصاری پر اغوا اور شادی کے لئے بہلا پھسلا کر بھگا لیجانے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ایف آئی آر میں POCSO ایکٹ بھی شامل کیا گیا تھا۔ پرینکا کے گھروالوں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ جب یہ شادی ہوئی تھی بیٹی نابالغ تھی۔ چنانچہ سلامت نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی الٰہ آبادہائی کورٹ میں اپیل کی تھی اور ہائی کورٹ نے سلامت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ کورٹ نے اترپردیش حکومت اور لڑکی کے گھر والوں کی دلائل کو خارج کر دیا اور محض 14 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں دو ٹوک کہا کہ ”اپنی پسند کے کسی بھی شخص کے ساتھ زندگی گزارنا خواہ وہ کسی بھی دھرم کا ہو یہ اس کا بنیادی حق ہے، یہ حق ہر شخص کی زندگی اور ذاتی آزادی کے اختیار کا بنیادی حصہ ہے“۔

بہرحال جس الٰہ آبادہائی کورٹ کے فیصلے سے حرارت پاکر یوگی حکومت اترپردیش میں لوجہاد کے خلاف سخت قانون لانے کی تیاری کر رہی تھی۔ کیا اب وہ اس نئے فیصلے سے اپنے رویہ اور قانون لانے کی پالیسی میں تبدیلی کرے گی؟ مجھے تو نہیں لگتا کیونکہ آج کے دور میں ہندوتو اور راشٹرواد کے ہتھیار سے ہی تمام مسائل کو دبایا جا سکتا ہے۔ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ہندوتو اور راشٹرواد خاص ایشو ہوں گے۔

(Writer: Jamshed Adil Alig………………………..E-mail: [email protected])

 

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close