اپنا دیشتازہ ترین خبریں

شیوراج سنگھ چوہان نے دی لو جہاد قانون کو منظوری

بھوپال، (یو این آئی)
مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے آغاز سے صرف دو دن پہلے، آج یہاں ریاستی کابینہ نے لو جہاد (Love Jihad) اور مذہب کی تبدیلی کو روکنے سے متعلق اہم مدھیہ پردیش مذہبی آزادی بل 2020 کو منظوری دے دی۔

ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا (Narottam Mishra) نے وزرا کی مجلس کی میٹنگ کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اس بل میں مذہب تبدیل کرنے کو روکنے کے لئے سخت التزام کئے گئے ہیں۔ اس میں سزا کے بہت سخت الترامات ہیں اور بہت سارے التزامات ملک میں فی الحال صرف اسی ریاست میں کئے گئے ہیں۔ مسٹر مشرا نے کہا کہ جب یہ بل قانون کی شکل اختیار کرے گا تو پھر 1968 کا فریڈم آف ریلیجنس ایکٹ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس بل کو پیر سے شروع ہونے والے اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

جعلسازی سے یا دیگر طریقے سے اس کا مذہب تبدیل کرانے کی کوشش نہیں کرسکے گا۔ کوئی بھی شخص مذہب تبدیل کرنے کی تحریک یا سازش نہیں کرسکے گا۔ مسٹر مشرا نے کہاکہ اس سے متعلق ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کو ایک سال سے لے کر پانچ سال تک کی قید اور 25 ہزارروپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نابالغ، خواتین، درج فہرست ذات و قبائل کے معاملے میں دو سے دس سال تک قید اور کم سے کم 50 ہزار روپے جرمانے کا بھی التزام ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزادی مذہب بل کی خلاف ورزی کرنے پر تین سال سے دس سال تک کی قید اور 50 ہزار روپے جرمانے اور مذہب کے حقوق کے قانون کی خلاف ورزی پر اجتماعی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کرنے پر (دو یا زیادہ افراد کے) 5 سے 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔

مسٹر مشرا نے کہا کہ نئے قانون میں ، مذہب کی تبدیلی (لوجہاد) کے ارادے سے، شادی کو کالعدم قرار دیا گیا ہے اور اس میں عورت اور اس کے بچوں کی دیکھ بھال کا بھی حق رکھنے کا انتظام ہے۔ ایسی شادیوں سے پیدا ہونے والے بچے والدین کی جائداد کے وارث ہوں گے۔ مجوزہ فریڈم آف ریلیجنس ایکٹ کو کچھ دفعات کے ساتھ سخت بنا دیا گیا ہے جو ملک کی کسی بھی ریاست میں مذہب کی تبدیلی کے لئے شادیوں کو روکنے کے لئے اب تک نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی مذہب بل کی خلاف ورزی کرنے والے ادارے اور تنظیم کو بھی مجرم کی طرح ہی سزا ملے گی۔ تبدیلی مذہب نہیں کیا گیا ہے، اسے خود ملزم کو ہی ثابت کرنا ہوگا۔ جرم قابل شناخت اور ناقابل ضمانت ہونے کی وجہ سے، ڈپٹی پولیس انسپکٹر کے عہدے سے نیچے کا کوئی بھی افسر اس کی تفتیش نہیں کرسکے گا۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close