تازہ ترین خبریںمسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

قرآن کے آفاقی معجزہ سے منور لائبیریا

اسلام کی حقانیت اور مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم علم کا ایسا خزانہ ہے، جہاں ہم دین کے بھی فروغ کا ہنر لے سکتے ہیں اور دنیا کو بھی مسخر کرنے کے رموز سے واقف ہوسکتے ہیں۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ اسلام کے فروغ میں سیرت رسولؐ کا بھی اہم حصہ ہے۔ حضور اکرم ؐ کے کردار اور اخلاق سے متاثر ہوکر لوگ جاہلیت کے دور سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آئے مگر جب دنیا میں ہر بات دلا ئل کی روشنی میں دیکھی جانے لگی اور اعتقادات اور یقین کو دوسرے زمرے میں رکھا جانے لگا دل کی بات پر عقل کے اشارے کو اہمیت دی جانے لگی۔ انسان آسمان پر کمند پھینکنے لگا تو ایسے تحقیقی اور سائنسی دور میں قرآن اک مشعل راہ بن کر دنیا میں ابھرا اور جب قرآن کریم کے لفظ لفظ پر ریسرچ ہونے لگی تو نہ صرف قدرت کے راز ہائے گنجینہ عیاں ہوتے گئے بلکہ بڑی تعداد میں وہ نسل اسلام کے دائرے میں آنے لگی جسے اپنے علم و فن و دانش پر بڑا زعم تھا۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ مغرب میں اسلام تمام مذاہب پر اپنے اثرات چھوڑتا جا رہا ہے۔ یوروپ اور امریکہ میں قرآن کریم پر ریسرچ سے نکلنے والے نتائج سے دنیا کے بڑے بڑے سائنس داں بھی حیرت زدہ ہیں اور آج بھی امریکہ اور برطانیہ قرآن کریم پر ریسرچ کے سب سے بڑے مرکز بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو ایک ایسے علم و تہذیب سے روشناس ہو رہے ہیں جو اب تک کہیں نظر نہیں آیا۔ زیر نظر مضمون قرآن کریم کے کرشمہ اعجاز کی بہترین مثال ہے کہ لائبیریا کے نوجوانوں کے اک گروپ نے کس طرح قرآنی تعلیم کے فروغ کے لئے جد وجہد کی۔ قرآن کریم کی تعلیم اور اس کے فروغ کے اقامتی اسکول قائم کیا اور قرآنی تعلیمات کا یہ اقامتی مرکز چند برسوں میں ہی تاریخ رقم کر گیا ہے اور اس مرکز کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ اسے آج مملکت سعودی عربیہ کی بھی سرپرستی حاصل ہے اور یہاں کے فارغ التحصیل طلبا دنیا کے گوشے میں پھیل کر قرآن کی اشاعت و ترسیل سے لے کر حفاظ کی تعداد بھی بڑھانے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں اسی ایمانی جذبے کا ثمرہ اور قرآن کا معجزہ ہے اب اہل امریکہ اور یوروپ بڑی تیزی سے مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں۔ قرآن کریم کے اسی معجزہ کے تحت محققین کا کہنا ہے کہ اب امریکہ اور یوروپ میں ہر چوتھا فرد اسلام کا پیرو ہوگا:

جب اللہ رب العزت کسی شخص کا عقیدہ مضبوط کر دیتا ہے تو اس کے عزائم کو بھی استحکام عطا کر دیتا ہے اور استقلال کے ساتھ اپنے ایمانی فرائض پورے کرنے میں اسے غیبی مدد بھی ملنے لگتی ہے۔ دنیا میں ایسے بہت سے افراد ہیں جنہیں خداوند قدوس نے ایسے منصب پر فائز کر دیا ہے، جنھوں نے نہ صرف اسلامی تعلیمات کو وسیع ترین پیمانہ پر فروغ دیا ہے بلکہ نہایت جفا کشی کے ساتھ اسلامی عقیدہ کی تبلیغ بھی کی ہے۔ اسلام کے ان ہی مجاہدین کی ایمانی حرارت اور مستقل جدو جہد کا یہ ثمرہ ہے کہ آج پوری دنیا کے ہر خطے میں اسلام ظہور پذیر ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ یوروپ اور امریکہ میں بھی فرزندان توحید کی اچھی خاصی آبادی ہے اور وہاں پر بہت سے مسلم اسلام کی تبلیغ و تشہیر میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قرآن کریم میں خداوند قدوس نے ایک ایسا معجزہ رکھا ہے کہ لوگ اس آفاقی معجزہ کی مقناطیسی کشش کی وجہ سے خود بخود اس کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں۔ چند نوجوانوں کی ایک ایسی ہی عظیم الشان اسلامی مثال 11 قبل لائبیریا (Liberia) میں قائم ہوئی تھی۔

لائبیریا کے نوجوانوں کے ایک گروپ نے جنگ زدہ ملک میں قرآن کریم حفظ کرنے کا ایک اسکول قائم کرکے اس کہاوت کہ ”جہاں چاہ ہے وہاں راہ ہے“ کو عملی جامہ پہنا دیا تھا۔ مصطفیٰ سیریون (Mostapha Sarion) اور ان کے پانچ دوست قرآن کریم حفظ کرنا چاہتے تھے لیکن اپنے علاقے میں انہیں کوئی ایسی جگہ نہیں مل سکی تھی کہ جہاں پر وہ قرآن کریم کا باقاعدہ مطالعہ کرسکیں۔ لہذا ایک نرم دل سرپرست نے انہیں نہ صرف مشورہ دیا بلکہ پڑوسی ملک گامبیا(Gambia) میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ان کی اقتصادی معاونت بھی کی تھی۔ یہ ان کے لئے ایک باعث مسرت موقع تھا۔ چنانچہ انہوں نے گامبیا جاکر قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنی شروع کر دی تھی۔

اس منکسر المزاج سرپرست کے فیاضانہ عمل سے ترغیب پاکر سیریون اور ان کے پانچوں احباب نے گامبیا میں اپنی تعلیم مکمل کی اور اپنے وطن واپس آنے کے بعد اور بہتر کارنامہ انجام دینے کے بارے میں سوچنے لگے تھے۔ لہذا انہوں نے لائبیریا میں قرآن کریم کی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے ایک اقامتی (Boarding) اسکول قائم کرنے کا کام شروع کر دیا تھا۔ حالانکہ ان کے اقتصادی ذرائع نہایت محدود تھے لیکن ان کا حوصلہ اور عزم نہایت بلند تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی کا ایک روشن راستہ دکھا دیا تھا۔ سیریون نے اس واقعہ کا انکشاف اس طرح سے کیا ہے کہ ”الحمد اللہ خداوند قدوس نے ہمارے پاس ان اہل ایمان کو بھیج دیا تھا، جنہوں نے اسکول قائم کرنے میں ہماری اقتصادی معاونت کی تھی اور انہوں نے ہی اسکول چلانے کے لئے ہمیں کرایہ پر جگہ دلائی تھی۔“

اس بات کا ذکر کرنا بھی بر محل ہے کہ 18 سالہ سیریون نے اسی دوران دبئی میں منعقد ’دبئی انٹرنیشنل مقدس قرآن ایوارڈ‘ کی تقریب کے مقابلہ میں شرکت کرنے والے مندوبین کی تعداد 95 سے زائد تھی۔ یمن سے تعلق رکھنے والے ایک مندوب کو اول انعام سے نوازہ گیا تھا۔ مقابلہ کی یہ تقریب 20 ستمبر 2009 میں اختتام پذیر ہوئی تھی، اسی دوران شاہ فہد پرنٹنگ کمپلیکس کو بھی ایوارڈ سے نوازنے کے لئے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ دبئی کے اس وقت کے ولی عہد اور دبئی ایگزیکیٹو کونسل کے چیئرمین شیخ ہمدان بن محمد بن رشید ال مختوم نے یہ ایوارڈ کمپلیکس کے جنرل سکریٹری ال عوفی (Al-Ofi) کو عطا کیا تھا۔ مدینہ منورہ میں واقع اس کمپلیکس کو بطور انعام ایک ملین درہم عطا کئے گئے تھے۔ اسلامک پرسنلٹی ایوارڈ (Personality Award) کی تقریب سالانہ نوعیت کی ہوتی ہے، جس میں ان مختلف افراد اور دیگر اداروں کو انعامات سے سرفراز کیا جاتا ہے، جنہوں نے اسلامی دنیا میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہوں۔ ال عوفی نے اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ ”مدینہ منورہ میں واقع کنگ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس میں اس وقت 200 ملین سے زائد قرآن کریم کے نسخوں کی اشاعت ہو چکی ہے۔ لہذا کنگ فہد کمپلیکس کو اس ایوارڈ سے نو ازے جانا قابل فخر بات ہے اور اس کی وجہ سے داخلی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

یمن نژاد فاریس ال آگام (Fares Al -Aagam) کو بطور انعام 250,000 درہم عطا کئے گئے تھے جبکہ دوسرے فاتح لیبیا کے نور ال دین ال یونسی (Noor Al Deen Al Younsi) کو 200,000 درہم کے انعام سے نوازا گیا تھا اور تیسرے فاتح کویت کے خالد ال عنایتی (Khalid Al Aainati) نے اس مقابلے میں 150,000 درہم کا انعام حاصل کیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مقابلے میں شرکت کرنے والے تمام حفاظ 21سال کی عمر کے تھے۔ حفظ قرآن کریم اور قرأت کے لئے ہر زمرہ میں 100 نمبر متعین کئے گئے تھے، جن میں 70فیصد قرآن کریم حفظ کرنے کے لئے، 25 فیصد قرأت و تلاوت کے لئے اور 5فیصد آواز و لہجے کے لئے مقرر کئے گئے تھے۔

سیریون کا تعلق مونروویا (Monrovia) سے بتایا گیا ہے ان کا کہنا یہ تھا کہ قرآن کریم حفظ کرنے کی تمنا ان کے دل میں ہمیشہ رہی تھی اس لئے انہوں نے 13سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنا شروع کر دیا تھا، جس کے لئے وہ اپنے گھر کے نزدیک واقع ایک مسجد میں جایا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ”ایک لبنانی تاجر اکثر تبلیغ کرنے کے لئے اور اسلامی تعلیم کی جانکاری فراہم کرنے کے لئے آیا کرتے تھے، بعد ازاں پڑوس کے بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کے لئے وہ اپنے ہمراہ لبنان سے ایک امام صاحب کو بھی لائے تھے۔ جب امام صاحب نے وہاں پر اس بات کا مشاہدہ کیا کہ میں (سیریون) اور میرے پانچوں دوست مزید اسلامی علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اپنے ایک لبنانی بھائی سے ہمیں اعلی تعلیم کے لئے گامبیا بھیجنے کے واسطے اقتصادی معاونت کرنے کے لئے کہا تھا۔“ سیریون نے بتایا کہ یہ نادر موقع ملنے پر ان کے والدین نہ صرف نہایت خوش ہوئے تھے بلکہ گامبیا جانے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی تھی۔ حالانکہ سیریون پر جوش تھے تاہم ان کے دل میں ایک وسوسہ تھا آیا کہ وہ مکمل قرآن کریم حفظ کر پائیں گے یا نہیں لیکن یہ وسوسہ یا تذبذب اس وقت دور ہو گیا تھا جب انہوں نے اسکول جا کر چھوٹے چھوٹے لڑکوں کو قرآن کریم کے طویل پاروں کو حفظ کرتے ہوئے دیکھا تھا تو ان لڑکوں کو دیکھ کر نہ صرف مجھے تعجب ہوا تھا بلکہ شرم بھی آئی تھی۔ چنانچہ اسی وقت میں نے قصد کر لیا تھا کہ میں بھی پورا قرآن کریم حفظ کروں گا۔“

ڈھائی سال کے بعد سیریون نے نہ صرف اپنی یہ خواہش پوری کرلی تھی بلکہ قرآن کریم حفظ کرنے کے لئے انہیں اذاجاء (Ijaza) گریجویشن سرٹیفکیٹ بھی عطا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سیریون اور ان کے پانچوں دوست قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد اپنے گھر واپس آگئے تھے مگر ان میں مزید اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کی تشنگی باقی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ”جب ہماری خواہش کے بارے میں معلوم ہوا تو سرپرست نے گھانہ کا سفر کرنے کے لئے ہماری اقتصادی معاونت کی تھی۔ وہاں پر ہمارا ایک مذہبی دانش گاہ میں داخلہ ہوگیا اور ہم نے وہاں پر دو سال تک عربی، فقہ، تفسیر اور حدیث پاک کی تعلیم حاصل کی تھی۔“ گھانہ سے واپسی کے بعد سیریون اور ان کے دوست یہ چاہتے تھے کہ وہ اپنے ملک میں مسلمانوں کو اپنے مذہب اور اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں نیز اسلامی تعلیم کے زیور سے انہیں آراستہ کریں۔ سیریون نے اس بات پر بھی غور کیا تھا کہ وہاں پر مسلمانوں کے ذریعہ اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے لئے حالانکہ کوئی بھی منظم کوشش نہیں کی گئی تھی تاہم مشرف بہ اسلام ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر سیریون اور ان کے دوستوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ اب یہاں پر قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک اسکول قائم کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ ”جب ہم نے اس صورت حال کو سمجھ لیا تو ہم نے سوچا کہ اگر یہی حالت رہی تو لائبیریا میں آئندہ حفاظ نہیں مل پائیں گے، اس لئے قرآن کریم حفظ کرنے کا ایک خصوصی اسکول قائم کرنا چاہئے۔ حالانکہ مختلف مسجدوں میں ’حلقوں‘ کا اہتمام کیا جاتا تھا لیکن وہ حفاظ تیار کرنے کے لئے کافی نہیں تھے۔“

اس مسئلہ کا حل نکالنے کے لئے سیریون اور ان کے دوستوں سمیت کل 20 مسلم نوجوانوں نے قرآن کریم حفظ کرنے کا ایک اقامتی (Boarding) اسکول قائم کرنے کے لئے کام شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے اقتصادی معاونت کے لئے لائبیریا میں واقع مختلف اسلامی تنظیموں کو مکتوب بھی ارسال کئے تھے لیکن وہاں سے انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ پہلے سے ہی فنڈ کی کمی تھی اور یہاں سے بھی انہیں خالی ہاتھ لوٹنا پڑا تھا لیکن ان کا حوصلہ اور عزم بلند تھا۔ انہیں امید قوی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کے لئے کسی نہ کسی کو ضرور بھیج دے گا اور ہوا بھی یہی۔ ان کے وہی مخلص لبنانی سرپرست ان کی مدد کے لئے پھر آگے آگئے اور انہوں نے تین کمروں والا ایک مکان کرایہ پر لینے کے لئے انہیں پیسے دے دیئے۔ صرف نو ماہ کی مسلسل کاوشوں کے بعد اس اسکول میں قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد 20 ہو گئی تھی۔ گامبیا میں واقع اسکول جس میں ان سب نے تعلیم حاصل کی تھی، اسی سے ترغیب پاکر انہوں نے اس اسکول کو مدرسہ حضرت ابی بن کعبؓ کے نام سے منسوب کردیا تھا۔ گیارہ سال قبل وجود میں آنے والے اس اسکول سے بے شمار مسلم طلبا فیضیاب ہو رہے ہیں۔

سیریون نے یہ بھی بتایا تھا کہ ”اس اسکول میں اقامت(Loading) کے لئے کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے انہیں محض کھانے کے لئے ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ ہم نے ایک ملازم اسکول میں بطور طباخ (باورچی) رکھا ہوا ہے جوکہ طلبا کے لئے کھانا تیار کرتا ہے۔ ہمارا دن فجر کی نماز کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور عشاء کی نماز کے بعد ختم ہوتا ہے۔ ہمارا یومیہ معمول یہی ہے اور تمام طلبا و اساتذہ اس کی پابندی کرتے ہیں۔“ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے طلباء میں سے ایک طالب علم نے الحمد اللہ قرآن کریم کے 18 پارے حفظ کرلئے ہیں۔ ہم اپنے معاونین کے لئے خداوند قدوس سے دعا کرتے ہیں کہ ان کا دل ایمانی حرارت اور ان کی زندگی خوشیوں سے بھر پور رکھے کیونکہ ان کے تعاون کے بغیر یہ کار ہائے نمایاں پایہ تکمیل تک پہنچنا قدرے ممکن نہیں تھا۔“

چونکہ سیریون اور ان کے پانچوں دوستوں نے عزم مصمم کر لیا تھا، اس لئے خداوند قدوس نے بھی ایسے اسباب پیدا کر دیئے تھے کہ انہوں نے ایک اسلامی کارنامہ کو پایہ تکمیل پر پہنچا دیا تھا۔ سیریون نے صا حب ثروت مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اپنی جانب سے اسکالرشپ کی پیش کش کریں تاکہ وہ اسلامی تعلیمات کے زیور سے آراستہ ہو جائیں۔ ان کے مطابق تعلیم یافتہ نوجوانوں پر ہی امت کی مزید فلاح و بہبود کا دارو مدار ہے۔ مذکورہ بالا سطور کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ’جہاں چاہ ہے وہاں راہ ہے۔“ اسی کہاوت کو سیریون اور ان کے پانچ دوستوں نے عملی جامہ پہنا دیا تھا۔ اسلامی جذبہ سے سرشار مسلمان جب عزم و حوصلے کے ساتھ اللہ کی راہ میں نیک کام انجام دینے کا بیڑا اٹھا لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی بیش بہا کاوشوں کا شاندار ثمرہ عطا کر دیتا ہے۔ اس طرح کی ایک غیر معمولی مثال لائبیریا میں موجود ہے، جہاں پر ہزاروں طلبا کے قلوب اسلامی تعلیمات سے منور ہو جاتے ہیں۔

([email protected])

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close