تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

قاسم سلیمانی کی ہلاکت: ہزاروں افراد کا احتجاجی مظاہرہ، امریکہ مخالف نعرے بازی

عراق کے دارالحکومت بغداد ایرانی پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسیم سلیمانی اور دیگر کی ہلاکت کے بعد ہزاروں افراد ہفتے کو بغداد میں جمع ہو گئے۔ ایران نواز تنظیم الحشد الشعب (پاپولر موبا ئلازیشن فورس) نے عراق کے مختلف شہروں میں ہلاک شدگان کی میتوں کے ہمراہ جلوس نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ جلوس دارالحکومت بغداد کے گرین زون سے شروع ہو کر کربلا سے ہوتا ہوا نجف میں اختتام پذیر ہوگا۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل سلیمانی کو جمعرات کو بغداد میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ سلیمانی مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی حکمتِ عملی اور کارروائیوں کے منصوبہ ساز تھے اور ایران نے ان کی موت کا ‘کڑا بدلہ’ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کی میت کو نمازِ جنازہ کے لیے ایران لے جایا جائے گا اور وہاں انھیں ان کے آبائی قصبے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ بغداد میں لوگ ایران نواز ملیشیا گروہ کتائب حزب اللہ کے کمانڈر ابو مہدی المہندس کی ہلاکت پر سوگ کے لیے بھی جمع تھا جو جنرل سلیمانی کے ساتھ ہی ہلاک ہوگئے تھے۔المہندس پاپولر موبلائزیشن یونٹ کے رہنما تھے جو ایران نواز ملیشیاؤں کا اتحاد تھا۔

سنیچر کو مظاہرین جلوس کے آغاز سے قبل علی الصبح ہی بغداد میں جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ مظاہرین عراقی اور ملیشیا پرچم لہراتے ہوئے ‘امریکہ مردہ باد’ کے نعرے لگا رہے تھے۔ لوگوں نے جنرل سلیمانی اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ ایران میں جنرل سلیمانی کے لیے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کی میت سنیچر کی شام کو ایران پہنچائی جائے گی۔ ان کی نمازِ جنازہ منگل کو وسطی ایران میں ان کے آبائی قصبے کرمان میں ادا کی جائے گی۔ دوسری جانب چند عراقیوں نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر بغداد کی سڑکوں پر جشن بھی منایا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے وہاں حالیہ مہینوں میں ہونے والے جمہوریت کے حامی پرامن مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کی منصوبہ سازی کی تھی۔

جمعہ کو عراق کے سرکاری ٹی وی چینل نے بتایا کہ جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے 24 گھنٹے بعد ملک میں ایک اور فضائی حملہ کیا گیا ہے۔ عراقی فوج کے ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حالیہ حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان اہلکار کے مطابق حملے میں سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق علی الصبح عراقی ملیشیا کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک امریکی فوجی ترجمان نے اس تاثر کی تردید کی کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اتحاد اس حملے کے لیے ذمہ دار تھا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنانے والے حملے کے ممکنہ ردِعمل کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مزید تین ہزار فوجی تعینات کردیے ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ نے اپنے شہریوں کو عراق کا سفر کرنے میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو ایرانی پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکہ نے بھی مزید 3 ہزار فوجی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ گلوبل ریسپانس فورس کے 3 ہزار سے 3500 اہلکار کویت میں تعینات کیے جائیں گے۔ عراق میں امریکہ کے سفارت خانے پر حملے کے بعد امریکہ نے 750 فوجی عراق میں تعینات کیے تھے۔امریکہ کے 14 ہزار سے زائد فوجی پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں۔ جن میں سے 5200 فوجی عراق میں تعینات ہیں۔

وہیں قاسم سلیمانی کی امریکی میزائل حملے میں ہلاکت کے بعد عراقی پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس اتوار کو طلب کر لیا گیا ہے۔ عراق میں ایران نواز حلقے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ امریکہ کو عراقی سرزمین پر رہنے کا جواز دینے والے معاہدے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران اور عراق میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ تہران، اصفہان اور مشہد سمیت ایران کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے امریکہ مخالف نعرے اور قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close