تازہ ترین خبریںمسلمانوں کاعالمی منظر نامہ

غیر مسلم اسکالرز بھی قرآن کی حقانیت کے معترف

بے شک قرآن کریم دنیا کے لئے ایک رہنما ہدایت ہے، قرآن کریم کی حقانیت کو دنیا نے بھی تسلیم کیا ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا قرآن کریم سے خوفزدہ بھی ہے کیونکہ قرآن کریم نے ہر اس باطل فلسفہ اور ضعیف الاعتقادی کو آئینہ دکھایا ہے، جسے دنیا نے سب سے برتر اور ارفع مقام دیا تھا۔قرآن کریم حقائق اور دلائل کی روشنی میں اللہ کے پیغامات کا ترجمان ہے جو پورے بنی نوع انسان کے لئے ایک ایسا اعجاز ہے جو یہ تلقین کرتا ہے کہ انسان اسی وقت طاقت و عظمت کے کمال پر پہنچ سکتا ہے جب وہ خدا کے بتائے ہوئے پیغامات کی روشنی میں زندگی گزارے اور اللہ کی برتری قبول کرے۔ قرآن کریم کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ وہ چودہ سو سال گزر جانے کے بعد بھی زمانے کے لئے سود مند ہے اور آنے والے ہر دور کے لئے بھی وہ ایک مشعل راہ ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک مسلمان قرآن کریم کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتے رہے دنیا کی ہر طاقت ان کے آگے سرنگوں رہی۔ 6ویں صدی سے لے کر 11ویں صدی تک کا دور ایسا دور تھا جب مشرق سے مغرب تک اسلام کا بول بالا تھا۔ اسلامی سلطنتیں اور مسلم حکمرانوں کے جاہ و جلال کا شہرہ تھا مگر جب مسلمانوں نے قرآن کریم کی ہدایتوں سے گریز کیا تو زوال ان کا مقدر بنا۔ مگر اب ایک بار پھر مسلمان اپنے پرانے دور کی طرف لوٹ رہا ہے اسلام کی سرفرازی کی دھمک سنائی دے رہی ہے۔ خاص کر مغرب میں جس تیزی کے ساتھ اسلام نے اپنا دائرہ بڑھایا ہے اس سے اہل مغرب تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اسی خوف اور تشویش کے تحت اسلام اور قرآن کی تعلیمات کے خلاف زبردست پروپیگنڈا مہم بھی چل رہی ہے مگر قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ اہل مغرب اور فسطائی نواز قوتوں کی تمام تر اسلام مخالف سرگرمیوں کے باوجود اسلام کا پرچم بلند ہے۔ اس کی خاص وجہ قرآن کریم پر اہل مغرب کی ریسرچ ہے جس سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ بلاشبہ قرآن کریم خدا کا کلام ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ اسرار و رموز کا خزا نہ ہے۔ قرآن پر جتنی تحقیق ہو رہی ہے اہل مغرب حیران ہو رہے ہیں اور اسلام سے قریب ہو رہے ہیں اس لئے آج اسلام مخالفین کے لئے قرآن کریم ایک ایسا آئینہ ثابت ہو رہا ہے جو ان کی ہر جھوٹی تشہیر، باطل فلسفہ اور روایتی اعتقاد کا راز بے نقاب کرتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں قر آن کریم کی حقانیت کی روشنی میں اس کے نزول کے ابتدائی دور سے لے کر عصر حاضر تک کا احاطہ کیا گیا ہے۔ آج بڑے بڑے سائنسداں، دانشور، فلسفی محقق قرآن کریم کا مطالعہ کرکے اپنے اسلام مخالف خیالات کو نہ صرف زائل کر رہے ہیں بلکہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر قرآن کا صحیح مطالعہ کیا جائے تو تمام تر غلط فہمیاں ہی نہیں دور ہو جائیں گی بلکہ سچائی سے یہ آشنائی انہیں اسلام سے قریب لے آئے گی اور دنیا کو ایک آفاقی مذہب کے دائرے میں لاکر اسے بنی نوع انسان کی خدمت اور اس وحدہ لاشریک کی عبادت پر مجبور کر دے گی۔ بہرحال، قرآن کریم کے تعلق سے ان غیر مسلموں کی کیا رائے ہے جنہوں نے قرآن کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ زیر نظر مضمون اس نکتہ نظر کا بھی احاطہ کرتا ہے:

حالیہ دنوں میں ایک غیر مسلم دانشور نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ مغربی ممالک خصوصی طور پر امریکہ اور یوروپ مسلمانوں سے اتنے خوف زدہ نہیں ہیں جتنے کہ اسلام سے خوفزدہ ہیں۔ اگر غور سے ان کے اس قول پر روشنی ڈالی جائے تو اس میں حقیقت کا عنصر دکھائی دیتا ہے کیونکہ مسلمانوں کو دہشت گردی سے منسوب کرنے سے قبل سلمان رشدی نے سیٹینک ورسز (Satanic Verses) کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی تھی جس میں قرآن کریم کی آیات کے برخلاف عبارتیں تحریر کی گئی تھیں۔ ہندوستان سمیت مسلم ممالک میں اس کتاب پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور آج یہ ملعون مصنف گمنامی کی زندگی گزار رہا ہے۔ دنیا کے جو غیر مسلم ممالک اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں اگر انہوں نے قرآن کریم کے تراجم کا مطالعہ کرلیا ہوتا تو ان کی عصبیت و عداوت اور غلط فہمی دور ہو جاتی کیونکہ اسلام عداوت، دہشت گردی اور دشمنی کا پیغام نہیں دیتا ہے بلکہ یہ تو بقائے باہم، رواداری اور امن و آشتی کا درس دیتا ہے۔

اسلام پر تنقید کرنے والوں کی تعداد حالانکہ بہت زیادہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر مطلق ہے، وہ ایک پل میں ہی لوگوں کے قلوب تبدیل کر دیتا ہے۔ چنانچہ ان میں سے ہی کچھ دانشور ایسے ابھر کر سامنے آتے ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے مذہب اسلام کا نہ صرف دفاع کیا ہے بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ تو مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ جہاں سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے نام نہاد مسلمانوں نے اسلام کو بدنام کرنے کا قبیح عمل انجام دیا ہے۔ دوسری جانب مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے چند دانشوروں اور مختلف شعبہ حیات میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی معروف شخصیات نے قرآن کریم کی حقانیت کا اعتراف کیا ہے۔ دنیا کے بہت سے غیر مسلم اسکالروں، تاریخ دانوں اور ماہرین تعلیم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کی عظیم مقدس ترین مذہبی کتابوں کے درمیان مقدس قرآن کریم کو ایک بہت ہی اہم ترین اور بلندترین مقام حاصل ہے کیونکہ اس کی الوہیت (Divinity) کسی بھی شک و شبہ سے پاک ہے۔

بہت سے مذہبی اسکالر، تاریخ داں اور ماہرین تعلیم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ قر آن کریم یوم آخر تک بنی نوع انسان کو ہدایت دینے والی اور رہنمائی کرنے والی آخری اور حتمی مقدس کتاب ہے۔ اس مقدس کتاب کا ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف صدیوں سے نسل در نسل بالکل اسی طرح سے پہنچا ہے، جس طرح سے یہ مقدس کلام اللہ رب العزت کی جانب سے نازل ہوا تھا۔ قرآن کریم کے تعلق سے جرمنی کے معروف فلاسفر گو ئتھے (Goethe) نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ ”یہ (مقدس قرآن) حیرت انگیز طور پر نہایت سرعت سے اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے اور ہمارے اندر عقیدت کا جذبہ پیدا کر دیتا ہے کیونکہ اس کے مشمولات اور مقاصد نہایت مستحکم اور عظیم ہیں۔ درحقیقت یہ ہمیشہ کے لئے اعلی و ارفع ہے۔ اسلئے اس مقدس کتاب کے مطابق صدیوں سے عمل ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔“ بنی نوع انسان نے معبودیت کی رہنمائی دو طریقوں سے حاصل کی ہے، اللہ تعالیٰ کے کلام اور پیغمبر حضرت محمدؐ کی احادیث مبارکہ سے، اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو اپنے احکامات تمام انسانوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث کیا تھا۔ ان دونوں طریقوں پر ہمیشہ سے عمل آوری ہوئی ہے۔ اگر ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز کر دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی صحیح جانکاری حاصل نہیں ہو سکے گی۔ غیر مسلم اپنی تمام تر توجہ اپنی مقدس کتابوں پر مرکوز کر لیتے ہیں جوکہ صرف الفاظ کی پہیلیاں ثابت ہوتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ لوگ انہیں سمجھ نہیں پاتے ہیں۔ عیسائی بائبل کو نظر انداز کرکے محض تمام تر اہمیت پیغمبر حضرت عیسیؑ کو دیتے ہیں جس کا نتیجہ آخر کار یہ ہوتا ہے کہ وہ منحرف ہو جاتے ہیں اور بائبل میں بیان کیا گیا توحید کا نظریہ مفقود ہو جاتا ہے۔ چونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کی گئی آخری مقدس کتاب ہے، اسی لئے اس کی عبارت اصل حالت میں موجود ہے۔ اس میں تحریف کی ذرہ برابر بھی گنجائش نہیں ہے کیونکہ خداوند قدوس نے بذات خود اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے۔

پیغمبر حضرت محمدؐ کی حیات مبارکہ میں جب قرآن کریم نازل ہوا تھا تو اس کی آیات کو پام کے پتوں، چرمی کاغذات اور دیگر مناسب چیزوں پر تحریر کر لیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں آپؐ کے ہزاروں ہزار صحابہ کرام تھے انہوں نے اور خود حضور اکرمؐ نے مکمل قرآن کریم حفظ کر لیا تھا۔ حضور پاک ؐ سال میں ایک مرتبہ حضرت جبرائیلؑ کی موجودگی میں قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے اور آپؐ نے اپنی حیات کے آخری سال میں دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔”Unveiling Islam“ کے عنوان سے کتاب تحریر کرنے والے مصنف روگرڈوپاسکویئر (Rogar du Pasquier) کا کہنا ہے کہ ”اسلام کا مرکزی معجزہ قرآن کریم کا نزول تھا جو ہمیشہ رہے گا۔ آج تک کوئی بھی شخص اس بات کا وثوق کے ساتھ جواب نہیں دے سکا ہے کہ ساتویں صدی کے ایک امّی کارواں تاجر نے بذات خود اپنے طریقے سے یہ کارنامہ انجام دیا ہوگا اور وہ بھی اس طرح کی مقدس کتاب جوکہ لاثانی ہے، جو قلوب و جذبات پر اثر انداز ہوتی ہے جس کی عبارت بے مثال اور نفیس ہے، جس میں علم وحکمت کا خزینہ ہے اور جو موجودہ دور کے تصور اور نظریہ سے بالاتر ہے۔ مغربی ممالک میں جو تحقیقات ہوتی ہیں، ان سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے قرآن کریم سے استفا دہ کیا ہے اور وہی ذرائع استعمال کئے ہیں جن کی جانکاری حضرت محمدؐ نے دی تھی لیکن ان ریسرچ اسکالروں کے ذریعہ ان ذرائع کے استعمال سے انحراف کرنا ان کے متعصب ہونے کی دلیل ہے۔ اسی طرح جے ایم رو ڈویلس (J.M.Rodwells) کی کتاب قرآن (Koran) کا پیش لفظ لکھنے والے دانشور جی مرا گلیوتھ (G.Margliouth) کا کہنا ہے کہ ”مذہبی شعبہ میں قرآن کریم آخر مقدس کتاب ہے اور پوری دنیا میں اس کے افکار و نظریات اثر پذیر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگ اس سے وابستہ ہوئے ہیں۔ ایک نئے کردار کے ساتھ اس نے ایک نیا اور فرحت بخش دور شروع کیا ہے۔ سب سے پہلے اس نے عرب جزائر کے ریگستانی قبائلیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا جو کہ اس وقت ملک کے ہیرو بن گئے تھے، اس کے بعد پوری دنیا میں مذہبی سیاسی انقلاب رونما ہو گیا تھا، جن کا تقابل آج کے یوروپ سے کیا جا سکتا ہے۔

تھائی لینڈ میں شیانگ مائی (Shiang Mai) یونیورسٹی کے تشریح العضاء اور علم الاجناء (Anatomy and Embryology) شعبہ کے سابق سربراہ پروفیسر تگاتاتگاسون (Tagata Tagasone) جو کہ بعد میں یونیورسٹی کے کالج آف میڈیسن کے ڈین ہو گئے تھے۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ ”میں اپنے مطالعہ کی بنیاد پر اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ سب کچھ جو 1450سال قبل قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے وہ سب سچ ہے، جن کو سائنس کے طریقہ کار سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ پیغمبر حضرت محمد امّی تھے اور تحریر سے بھی واقف نہیں تھے لہذا وہ لازمی طور پر اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے اور آپؐ نے جو کچھ بھی لوگوں تک پیغام پہنچایا وہ بالکل سچ ہے۔ آپ نے جو کچھ بھی منکشف کیا وہ سب اس عرفانیت پر مبنی تھا جو کہ خالق کائنات نے آپ ؐ کو عطا کی تھی اور وہ خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ یہی مناسب وقت ہے کہ ’لا الہ الااللہ‘ کہا جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد ؐ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔

قرآن کریم نہ صرف سائنسدانوں اور ماہرین تعلیم کو عزیز ہے بلکہ یہ ہر ایک شخص کو اپنی جانب متوجہ کرتا اور ان کو دائرہ اسلام میں لے آتا ہے۔ سابق بر طانوی پوپ اسٹار جوکہ کیٹ اسٹیوین (Cat Steven) کے نام سے معروف تھے، انہوں نے کہا کہ تھا کہ ”ہر چیز کے بہت سے مطلب ہوتے ہیں، قرآن کریم کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ آپ کو غور کرنے اور رضا ظاہر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ جب میں نے قرآن کریم کا مزید مطالعہ کیا تو اس سے مجھے عبادت، رحم دلی اور فیاضی کا درس ملا، اس وقت تک میں مسلمان نہیں تھا لیکن میں نے یہ محسوس کیا کہ میرے تمام سوالوں کے جواب قرآن کریم میں موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہی میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا تھا۔ قرآن کریم کی یہ تاثیر ہے کہ جو بھی اس کا مطالعہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو منور کر دیتا ہے اور سیکڑوں یا ہزروں افراد اپنا مذہب تبدیل کرکے اسلام کی آغوش میں آجاتے ہیں۔ فرانس میں میڈیسن کے ایک ڈاکٹر علی سلمان بینوئسٹ(Ali Selman Benoist) ایسے ہی ایک شخص ہیں جنہوں نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد یہ کہا تھا کہ ”میرے اسلام قبول کرنے کا دراصل اور یقینی طور پر قرآن کریم ہی ذریعہ تھا۔ اسلام قبول کرنے سے قبل تنقیدی نظریہ سے میں نے قرآن کریم کا مطالعہ کرنا شروع کیا تھا جیسے کہ مغربی ممالک کے دانشور کرتے ہیں۔ اس مقدس کتاب میں خصوصی آیات ہیں جن کو قرآن کریم نے 1450 سال قبل منکشف کیا تھا، ان میں بالکل وہی نظریات بیان کئے گئے ہیں جو کہ نہایت جدید سائنسی تحقیقات سے ثابت ہوگئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں نے اسلام قبول کرلیا۔

دیگر مذہبی مقدس کتابوں کا موازنہ کرتے ہوئے متحدہ ہائے امریکہ کے سیف الدین ڈرک وا لٹر موسگ (Saifuddin Dirk Walter Mosig) نے کہا تھا کہ ”میں نے ہر مذہب کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ مجھے کسی مذہب میں وہ سب کچھ نہیں ملا جو کہ مجھے اسلام میں ملا ہے یعنی تکمیلیت، کسی دیگر مقدس کتاب کے مقابلے جب میں نے قرآن کریم پڑھا تو مجھے یہ آفتاب کی مانند محسوس ہوا، جس کی برابری کی کوئی مثال موجود نہیں ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو تہہ دل سے جو پڑھے گا وہ سچائی سے آشنا ہو کر مسلمان ہو جائے گا۔“ قرآن کریم میں جن حقائق کو بیان کیا ہے ابھی حالیہ دور میں سائنسدانوں نے انہیں دریافت کیا ہے، بے شک اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ اس نے پیغمبر حضرت محمدؐ پر نازل فرمایا تھا اور اس سے یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت محمدؐ اللہ تعالیٰ کے سچے پیغمبر ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کسی نے 1450 سال قبل ان سائنسی حقائق کو دریافت کر لیا ہوگا جوکہ حالیہ دور میں جدید ترین سائنسی آلہ جات کے توسط سے ثابت کئے جا رہے ہیں۔ اس بیانیہ سے مکمل طور پر قرآن کریم کی حقانیت ثابت ہوتی ہے۔ کناڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں تشریح العضاء اور علم الجناء کے عالمی معروف ترین سائنسدان پروفیسر کیتھ مورے (Keith Moore) کا کہنا تھا کہ ”انسانی ترقیات کے بارے میں جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے اس کی وضاحت کرنے میں مجھے زبردست خوشی حاصل ہوئی ہے۔ یہ بات مجھ پر بالکل واضح ہے کہ اللہ جل شانہ کی جانب سے حضرت محمدؐ پر وحی کے توسط سے ان جانکاریوں کا نزول ہوا تھا جن کے تعلق سے وہ جانکاریاں کئی صدیوں تک حاصل نہیں ہوئی تھیں۔ اس سے مجھ پر وہ صداقت واضح ہوگئی اور یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ پیغمبر حضرت محمدؐ اللہ تعالیٰ کے رسول اور پیغمبر تھے۔

اخلاقی اور عملی ضابطوں کے ساتھ اسلام مسلمانوں کے لئے عقیدہ کا ایک نظام ہے، جس کا منبع قرآن کریم ہے۔ اللہ جل شانہ، قرآن کریم میں فرماتا ہے ”بے شک قرآن سیدھے اور صاف راستہ کو دکھانے میں رہنمائی کرتا ہے“ اور اللہ رب العزت یہ بھی فرماتا ہے کہ ”ہم نے تمہا رے لئے اس کتاب میں سب کچھ منکشف کر دیا ہے جو کہ ہر معاملے پر صاف صاف وضاحت کرتا ہے۔“ ہندوستان کی مجاہد آزادی، شاعرہ اور دانشور سروجنی نائیڈو اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ ”قرآن کریم مکمل طور پر راہ راست دکھاتا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ”اسلام کا نظام عدل نہایت عجیب و غریب و مثالی اصولوں پر مبنی ہے کیونکہ جیسے ہی میں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا اس میں مجھے زندگی کے ڈائنامک(Dynamic) اصول نظر آئے جو کہ پوری دنیا کے موافق معمول حیات میں عملی اخلاقی ضابطوں پر مبنی ہیں۔ حالیہ دور میں ایسی مثالیں سامنے آ رہی ہیں کہ غیر مسلم اسلام اور قرآن کریم کے پیغام سے آشنا ہوتے جارہے ہیں۔ نیو زی لینڈ میں جب کرائسٹ چرچ النور مسجد میں جو دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا، جس میں پچاس لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے تو وہاں کی وزیر اعظم جیسنڈاآرڈن نے فوری طور پر سرگرمی دکھائی تھی۔ انہوں نے نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف قانونی کارروائی کرائی بلکہ نماز کے دوران مسجد کے باہر سیکورٹی تعینات کرنے کا حکم بھی صادر کر دیا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی ممالک کے ارباب اقتدار اور عام باشندے اسلام کی بنیادی جانکاریوں اور اس کے پیغام سے آشنا ہوتے جا رہے ہیں۔

([email protected])

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close