اپنا دیشتازہ ترین خبریں

طلاق آرڈیننس عدالتی فکراور ملکی قوانین سے متصادم: پروفیسر طاہرمحمود

قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین اور لا کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن پروفیسر طاہر محمود نے کہا ہے کہ حکومت کامجوّزہ طلاق آرڈیننس طلاق سے متعلق سپریم کورٹ کی معروف فکر اور متعدد فیصلوں سے متصادم ہے۔

یواین آئی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے واضح کیا کہ مقدمۂ شمیم آرا سمیت اپنے کئی حالیہ فیصلوں میں عدالت نے بار بار طے کیا کہ جو طلاق صحیح قرآنی طریقے کے خلاف دی گئی ہو وہ عدالتوں میں تسلیم نہیں کی جائے گی اور پھر سال گزشتہ سائرہ بانو کے کیس میں ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کے غیر مؤثر ہونے کا حکم لگایا لیکن اس نے طلاق کے کسی معاملے کو کسی قسم کے تعزیری قانون کے تحت لانے کا کبھی کوئی اشارہ تک نہیں دیا۔

مقدمۂ سائرہ بانو کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس کیہر اور جج عبدالنذیر کے اقلیتی فیصلے میں حکومت سے صاف طورپر کہا گیا تھاکہ طلاق ثلاثہ کیلئے مسلم ممالک میں جو قانون سازی ہوئی ہے اسی طرزپر ہمارے یہاں بھی قانون بنایا جائے۔ فیصلے میں ان بیرونی قوانین کی پوری تفصیل دی گئی ہے جنکے تحت ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کے صرف ایک واحد رجعی طلاق کے مساوی سمجھے جانے کا حکم لگایا گیاہے اسے جرم مان کر مردوں کو اس کیلئے جیل بھیجنے کا کوئی قانون کہیں نہیں بنا ہے۔

پروفیسر طاہر محمودنے مزید کہا کہ بیوی کو غیرقانونی طریقے سے چھوڑ دینے کا رواج معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہے جس کیلئے مختلف فرقوں کیلئے نافذ عائلی قوانین میں سے کسی کے تحت اسے جرم نہیں قرار دیا گیا ہے، طلاق ثلاثہ کی بدعت بھی اسی طرح کا ایک رواج ہے جس پر قانونی پابندی لگنی چاہئیے لیکن اسے جرم قرار دینا مسلم خاندانوں کیلئے مزید مسائل پیداکرے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ’’ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے ایک سال سے زیادہ ہوچکا اور اس پر تعزیری قانون بنانے کا حکومت کا اراد ہ بھی مہینوں سے سب کو معلوم ہے اگر اس عرصے میں دینی حلقوں کی طرف سے مسلم ممالک کی طرز پراس مسئلے کا حل نکال لیا جاتا تو آج یہ نوبت نہیں آتی‘‘۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close