اپنا دیشتازہ ترین خبریں

سی اے اے: ہنگامہ کرنے والوں پر انتظامیہ سخت، سینکڑوں افراد پر قومی سلامتی ایکٹ کی تیاری

شہریت ترمیم ایکٹ- 2019 کی مخالفت میں جمعرات کو شروع ہوئے ہنگامہ آرائی کے کچھ واقعات کو چھوڑ کر اب انتظامیہ نے کنٹرول کر لیا ہے۔ اب اس ہنگامے سے ہوئے نقصان، فسادیوں کی شناخت اور قومی سلامتی ایکٹ کی تیاری چل رہی ہے۔ احتیاط کے طور پر اب بھی دارالحکومت سمیت یوپی کے 15 اضلاع میں انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔ لکھنؤ میں ہوئے ہنگامے میں پانچ کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ اس دوران 250 سے زیادہ فسادیوں پر قومی سلامتی ایکٹ لگانے کی تیاری ہے۔ فسادیوں کے خلاف سختی سے نمٹنے کے لئے سی ایم کے سخت ہدایات کے بعد پولیس نے گرفتاری بھی تیز کر دی ہے۔ سی سی ٹی وی سے دیکھ کر فسادیوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔

شہریت ترمیم قانون کے خلاف ہفتہ کو رامپور میں جہاں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک شخص نے دم توڑ دیا، وہیں پولیس اہلکاروں سمیت 15 لوگ زخمی ہیں۔ کانپور سنبھل، امروہہ، مظفر نگر اور فیروز آباد میں بھی مظاہرہ اور پتھراؤ کی خبریں آئیں۔ فیروز آباد میں پتھراؤ کے دوران ایس ایس پی، ایس پی سٹی، سٹی مجسٹریٹ، CO سٹی سمیت متعدد داروغہ اور سپاہی زخمی ہوگئے۔ یوپی کے لکھنؤ سمیت 15 اضلاع میں انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات پیر تک معطل رہیں گی۔ یوپی میں تشدد میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔

پولیس نے اب تک 11000 فسادیوں کے خلاف کارروائی کی ہے، 748 سے زیادہ لوگ گرفتار ہوچکے ہیں۔ 4500 پر کارروائی کی گئی ہے۔ 265 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور 415 طمنچے برآمد ہوئے ہیں۔ 13104 لوگوں کے خلاف متنازعہ پوسٹ ڈالنے پر کارروائی کی گئی ہے۔ اس معاملے میں 63 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئیں اور 442 لوگوں پر پابندی لگا دی گئی۔

یوپی پولیس نے فسادیوں کی شناخت کرکے انہیں جرمانہ وصولی کا نوٹس بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ جرمانہ نہیں ادا کرنے پر پراپرٹی قرق ہوگی۔ فسادیوں کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج سے کی جا رہی ہے۔ ادھر، لکھنؤ تشدد کے معاملے میں پھنسے بہت سے لوگوں کا مغربی بنگال سے کنکشن سامنے آیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق لکھنؤ میں تشدد کے دوران انہیں بنگال سے بلایا گیا تھا۔ پولیس ڈائریکٹر جنرل اوم پرکاش سنگھ نے بتایا کہ مظاہرے میں این جی او اور بیرونی عناصر شامل ہو سکتے ہیں۔ ہم چیک کرا رہے ہیں اور کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close