دلی این سی آر

سی اے اے کے خلاف ملی تنظیموں اور طلباء کا راجگھاٹ پر احتجاجی مظاہرہ

شہریت ترمیمی قانون کو واپس لینے کا مطالبہ، مذہب کی بنیاد پر نہیں برابری کی بنیاد پر ہو قانون

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پورا ملک احتجاج کی آگ میں جل رہا ہے اور سی اے اے کے خلاف جاری احتجاج طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ملک بھر سمیت راجدھانی دہلی میں سی اے اے کی مخالفت میں مسلسل جاری احتجاج کے چلتے آج مختلف ملّی تنظیموں اور طلباء نے پر امن مظاہرین پر پولیس کے تشدد کے خلاف اور شہریت ترمیمی قانون کو واپس لینے کے مطالبے کے ساتھ گاندھی سمادھی راجگھاٹ پر مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیا۔

اس موقع پر آل انڈیا مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہاکہ سی اے اے دستور ہند کے خلاف ہندوستان کی سالمیت پر حملہ ہے اور ان مجاہدین آزادی کی بے عزتی ہے جنہوں نے آئین ساز اسمبلی میں دستور کو بنایا تھا۔ لیکن سرکار کی ہٹ دھرمی اسکے ذہنی دیلوالیہ پن کی عکاسی کرتی ہے، حکومت چاہتی ہے یہ ہندو مسلمان کا ایشو بنے، لیکن ملک کے ہر فرقہ اور طبقہ کے لوگ اور ہر ذات برادری کے لوگ سمجھ گئے ہیں کہ یہ تقسیم کرنے کا ان کا پرانہ فارمولہ ہے، جس کو عوام یکجہتی دکھاتے ہوئے ناکام بنا رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے سکریٹری جنرل سلیم انجینئر نے کہاکہ سی اے اے قانون سے ملک بھر میں سرکار کے خلاف غصہ ہے۔ کیوںکہ آئین میں مذہب کی بنیاد پر فرق نہیں ہے۔ باہر سے آنے والے جن لوگوں کو شہریت دینی ہے ان کے لئے پہلے سے قانون موجود ہے جس میں مذہب کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن نئے ایکٹ میں مسلم نام ہٹا کر اس حکومت نے یہ پیغام دیا ہے کہ یہ ملک مسلمانوں کا نہیں ہے، اس قانون سے اس سماج اور ملک کے عوام کو بانٹنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

جمعیۃ علما ہند کے ایڈوکیٹ نیاز فاروقی نے کہاکہ مختلف کمیونٹی کے لوگ یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ یہ قانون ملک اور آئین کے خلاف ہے۔ جو تشدد ہو رہے ہیں وہ سرکار اور پولیس بھڑکا رہی ہے۔ گاندھی جی نے جو راستہ امن کا دکھایا ہے ہم اس کو فالو کر رہے ہیں کیونکہ تشدد کا جواب تشدد نہیں ہے۔ ہم یہ کہنے آئے ہیں کہ حکومتوں کی جانب سے گولی اور لاٹھی کا راستہ بند کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اس آگ میں گھی کا کام کر رہے ہیں، ہونا یہ تھا کہ وہ پولیس کو ہدایت دیتے کہ اگر کسی پو لیس اہلکار یا افسر نے زیادتی کی تو اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا، لیکن ایک طرفہ بات وہ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے کہاکہ اس قانون کو واپس لینے کیلئے اگر سرکار پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے تو عوام بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ بی جے پی حکومت احتجاج کو طاقت سے روکنا چاہتی ہے۔ یہ تشدد عوام نہیں بلکہ پولیس کر رہی ہے۔ یہ ایکٹ واپس لیا جانا چاہئے، اس کو سرکار بھی واپس لے سکتی ہے اور سپریم کورٹ بھی اس کو منسوخ کرسکتا ہے مذہب کی بنیاد پر تفریق کو ملک برداشت نہیں کرے گا۔ ڈاکٹر محمد شیث تیمی نے کہاکہ یہ ایکٹ آئین ہند کی نیادی دفعات کے خلاف ہے یہی وجہ ہے کہ بلا تفریق مذہب لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ دستور میں نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے اس لئے ہم مخالفت کر رہے ہٰیں اور اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک یہ کالا قانون واپس نہیں لیا جاتا یا اس پر نظر ثانی نہ کی جائے۔

مولانا عبدالحمید نعمانی نے کہاکہ یہ ہندو مسلم کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ آئین بنام حکومت ہے۔ ملک کے وسائل حیات، آبادی اور جگہ سے جڑا مسئلہ ہے۔اس میں برابری ختم ہو رہی ہے، کسی کو شہریت دینا ایشو نہیں ہے بلکہ اس میں ایک خاص طبقہ کو الگ کیا گیا ہے وہ ایشو ہے، لیکن بھائی پرمانند، ساورکر اور گول وانکر کی سوچ سے یہاں فرقہ وارانہ ماحول بنایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر بال کرشن سدا شیو منجے نے کہا تھا کہ نظام کو قائم رکھنے کیلئے تشدد کا راستہ بھی اپنا سکتے ہیں، یہ اسی سمت میں لیجانا چاہتے ہیں۔ یہ تقسیم کی کوشش ہے، بابا امبیڈکر نے مختلف تہذیبوں کو سامنے رکھ کر آئین لکھا لیکن یہ منو وادی لوگ صرف ایک ہندو تہذیب مانتے ہیں۔ یہی ان کا نظریہ ہے جس کے تحت یہ قانون لایا گیا ہے۔

دہلی یو نیورسٹی کے سابق پرو فیسر راجکمار جین نے کہا کہ سی اے اے اور این آر سی کے ذریعہ بی جے پی اور آر ایس ایس ملک میں بانٹنے کا کام کر رہی ہے اور ہماری آزادی کی تحریک کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ ان مظاہروں کی بھی خوبی یہی ہے کہ اس میں مسلمانوں سمیت صحیح سوچ کے تمام مذاہب کے لوگ شرکت کر رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر قانون بنا کر مسلمانوں کو جو ٹارگیٹ کر نے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ بیحد خطرناک ہے۔ ہم اس کے خلاف ہیں اور جہاں جہاں بھی اس کا لے قانون کے خلاف مظاہرہ ہو، ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں۔

پروفیسر راجکمار جین نے کہاکہ اگرحکومت کو ہندوستانی نژاد شہریوں کی واقعی فکر ہے تو جو بھی ہندوستانی نژاد ہیں ان کو بلا تفریق مذہب یہاں کی شہریت دینے کیلئے قانون بنائیں اور دنیا میں کہیں بھی جہاں جہاں ہندوستانی نژاد لوگ آباد ہیں اگر ان پر ظلم ہوتا ہے تو ان کو یہاں کی شہریت ملنی چاہئے لیکن یہ مذہب کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہئے۔ سماجی کارکن محمد تقی نے کہاکہ ہمیں نہ بناگلی آتی ہے نہ پشتو آتی ہے، پاکستان میں پہلے ہی مہاجر موجود ہیں۔ ہمیں یہ حکومت بتائے کہ ہمیں کون سا ملک لیگا؟۔ ہمیں 1947 یاد ہے اس لئے ہم سی اے اے اور این آر سی سی کی مخالفت کرتے ہیں۔

اجمیری گیٹ وارڈ سے میونسپل کو نسلر را کیش کمار نے کہاکہ اگر کشمیر میں یکساں سیول کوڈ لگائی جا رہی ہے تو یہاں مذہب کے نام پر تفریق کیوں کی جا رہی ہے؟۔ این آر سی اور سی اے اے میں مذہب کی تفریق کیوں؟۔ یہاں برا بری اور حقوق کہا گئے۔ سی اے اے میں مذہبی تفریق ملک کے آئین کی خلاف ورزی اور دستور پر حملہ ہے۔ ساتھ ہی یہ ایک مذہب کے ساتھ نا انصافی ہے جس کی ہم سخت مخالفت کرتے ہیں۔ آج اسی لئے ہم راجگھاٹ سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک سب کا ہے اس میں مذہبی تفریق کے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس طرح کی تفریق پھیلانے والے کسی قانون کو قبول کریں گے۔

دہلی گیٹ کے میونسپل کو نسلر آ ل محمد اقبال نے کہاکہ یہ قانون ملک کے عوام کو تقسیم کر نے والا قانون کے جو ملک کے آئین اور دستور پر سیدھا حملہ ہے۔ یہ منو وادی سوچ کے لوگ اس ملک کے آئین کو تباہ کر نے پر آمادہ ہیں جو ملک کے عوام ہو نے نہیں دیں گے۔ مولوی عظیم اللہ صدیقی قاسمی نے کہاکہ یہ یکجہتی کا مظاہرہ جو ظلم کے خلاف ہے، جہاں مظاہرہ ہو رہے ہیں وہاں بلٹ تو نظر آتی ہے لیکن ایمبولینس اور فائر برگیڈ نظر نہیں آتیں اس کا مطلب صاف ہے کہ حکومت خود تشدد کو بھڑکانا چاہتی ہے، آئین کے ساتھ جو چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے اس کو ملک کے عوام قبول نہیں کریں گے۔

اس موقع پر ڈاکٹر اپرنا سرین، پو نم کوشک، وسیم خان آرین، مولانا جاوید قاسمی، سراج طالب، مولوی ضیا اللہ قاسمی، مولوی عظیم اللہ قاسمی، قاری سمیع اللہ، محمد ارشاد، عاقل ننو سمیت بڑی تعداد میں مختلف تنظیموں کے ذمہ داران اور طلبا ء موجود تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close