Khabar Mantra
تازہ ترین خبریںدلی نامہ

سپریم کورٹ نے ریویوپٹیشن کا اختیار خود ہی دیا پھر مسترد کیوں..؟: مفتی مکرم

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شاہی فتح پوری مسجد کے امام ڈاکتر مفتی مکرم احمد نے سپریم کورٹ میں بابری مسجد معاملے میں نظر ثانی درخواستوں کو مسترد کئے جانے پر آج کہاکہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد معاملے میں نظر ثانی کی تمام درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے، حالانکہ اگر سماعت کے بعد کوئی فیصلہ دیا جاتا تو وہ زیادہ بہتر ہوتا۔ ڈاکٹر مفتی مکرم احمد آج شاہی فتح پوری مسجد میں نماز جمعہ قبل خطاب کر رہے تھے۔ مفتی مکرم نے کہاکہ نظر ثانی کی درخواست پر انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جانا چاہئے تھا اس سے سپریم کورٹ کے وقار میں اضافہ ہوتا۔ سپریم کورٹ نے ریویوپٹیشن کا اختیار خود ہی تو دیا تھا تو پھر مسترد کرنے کی کیا وجہ؟۔

انہوں نے حقوق انسانی پر کہاکہ حقوق انسانی کا تحفظ سب سے زیادہ مذہب اسلام میں کیا گیا ہے۔ اگر مذہبی تعلیمات پر عمل کر لیا جائے تو حقوق کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 10دسمبر کو یوم حقوق انسانی منایا جاتا ہے لیکن آج حقوق انسانی کی جتنی پامالی ہو رہی ہے افسوسناک ہے۔ساری دنیا میں بے شمار مثالیں ہیں جن پر اقوام متحدہ کا ادارہ بھی خاموش نظر آرہا ہے۔ مفتی مکرم نے کہاکہ کچھ دن پہلے صدرٹرمپ نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ میں اسرائیل کا سب سے بڑا حمایتی ہوں اس کا مطلب یہ ہوا وہ ظالم کے حمایتی ہونے پر خوش ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کے ذریعہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی جتنی بے قدری ہو رہی ہے اتنی کہیں اور خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ انہوں نے اپیل کی کہ حقوق انسانی کا تحفظ ہر حال میں کیا جائے اور اقوام متحدہ کو فلسطین کی مدد کرنی چاہئے۔

مفتی مکرم نے امریکہ اور ایران کے ایک ایک قیدی کے تبادلہ پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے امن قائم کرنے میں مدد ملے گی اس طرح کی تبادلہ کی کارروائی ہر ملک کو کرنی چاہئے۔ انہوں نے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کئے جانے کا بھی خیرمقدم کیا۔
شہریت ترمیمی بل پاس ہونے پر انہوں نے کہا کہ اس کے فائدے اور نقصانات تو بعد میں سامنے آئیں گے ہر طرف اس بل کی مخالفت ہو رہی ہے۔ ایک فرقہ کے ساتھ ناانصافی ملک کے آئین کی یقین دہانی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کا مسلمان انصاف پسند ہے اور ملک کی خدمت کرنے میں ہر میدان میں پیش پیش ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close