اترپردیشتازہ ترین خبریں

رامپور میں اعظم خاں کا دبدبہ برقرار

وقار کی جنگ میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے اترپردیش کی رامپور اسمبلی سیٹ بچانے میں کامیاب رہی۔ یہاں ایس پی کی ڈاکٹر تنظیم فاطمہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بھارت بھوشن کو نزدیکی مقابلے میں 7716 ووٹوں سے شکست دے کر حلقے میں اپنے رسوخ کو برقرار رکھا ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر تنظیم فاطمہ کو 79 ہزار 43 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی امیدوار کو 71327 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہی اکتفاء کرنا پڑا۔ ابتدائی رجحانات میں ایس پی امیدوار نے اچھے ووٹوں سے سبقت حاصل کر لی تھی حالانکہ 18 ویں مرحلے کے بعد بی جے پی امیدوار کے ووٹوں کے گراف میں اضافہ ہوا اور آخری مراحل میں سانس روکنے دینے والے مقابلے میں سماجوادی پارٹی کی جیت ہوئی۔

بتا دیں کہ یہاں مقابلہ اعظم خان بنام بی جے پی مانا جا رہا تھا کیوںکہ جب سے اتر پردیش میں بی جے پی حکومت اقتدار میں آئی ہے تبھی سے ان پر یوگی حکومت اور رامپور انتظامیہ کی جانب سے کوئی نہ کوئی کارروائی کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے اب تک ان پر 80 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں۔ ان پر بکری چوری، کتاب چوری، چھیڑ خانی، مار پیٹ سے لے کر مرغی چوری تک کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ضمنی انتخاب میں اپنی اہلیہ کے لئے مہم جوئی کے دوران اعظم خان نے کہا تھاکہ وہ خود کو فروخت نہیں کر سکے اس لئے ان پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ رام پور ایس پی کی روایتی سیٹ رہی ہے جہاں پارٹی کے قدآور لیڈر محمد اعظم خان آٹھ بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ مسٹر اعظم کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔ ایس پی کے لئے وقار کا مسئلہ بنی اس سیٹ پر پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے بھی انتخابی مہم چلائی تھی۔ ایس پی امیدوار کو یہاں 49.13 فیصدی ووٹ ملے جبکہ بی جے پی امیدوار کے حصے میں 44.34 ووٹ آئے۔ اس سیٹ پر کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سمیت دیگر امیدواروں کے ضمانت ضبط ہوگئی۔اس سیٹ پر 44 فیصدی ووٹنگ ہوئی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close