تازہ ترین خبریںدلی نامہ

’دہلی والوں پر دو طرفہ حملہ، ایک پرالی کا دھواں اور دوسرا کورونا انفیکشن‘

دہلی میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے، وزیر صحت ستیندر جین نے اس کی وجہ بتائی

نئی دہلی (امیر امروہوی)
دہلی میں کورونا اور فضائی آلودگی کی وجہ سے جہاں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں اموات کے اعداد و شمار میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین (Satyendar Jain) نے دہلی میں مریضوں اور اموات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے باشندوں کو ایک سات دو طرفہ حملوں سے گزرنا پڑ رہا ہے، ایک طرف کورونا ہے اور دوسری جانب پرالی کے جلنے سے پیدا ہونے والا دھواں ہے۔ انہوں نے کہاکہ دھواں پھیپڑے کے اندر چلا جاتا ہے لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اسی کے سبب دہلی والوں کو ایک ساتھ دو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ اس بیماری سے بچنے کے لئے ماسک کا لگانا بہت ضروری ہے اس لئے ہم ماسک کے استعمال پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔ کچھ دنوں سے ہم دیکھ رہے تھے کہ لوگ ماسک لگانے میں لا پروائی برت رہے تھے، بازاروں میں لوگ بغیر ماسک ہی گھومتے نظر آرہے تھے اور کچھ لوگ ماسک کو گلے میں ڈال کر رکھتے تھے۔ اس کو صحیح طرح استعمال نہیں کر رہے تھے ہم نے ان سب کو دیکھتے ہوئے جرمانہ کی رقم بڑھائی تھی اور دو تین دنوں میں اس کا اثر لوگوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مہینے میں دارالحکومت دہلی میں کورونا بے حد خطرناک ثابت ہو رہا ہے اور برابر کورونا کی معاملوں میں اضافہ ہو رہا ہے پچھلے تین دنوں میں سو سے زیادہ مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔ ہمیں یہ بھی جانکاری مل رہی ہے کہ ابھی اس میں کوئی راحت ملنے والی نہیں ہے جس سے ہماری تشویش بڑھتی جا رہی ہے اور مجھے قوی امید ہے کہ ایک دو ہفتوں میں اس پر قابو پا لیا جائے گا اور دہلی میں اموات میں بھی کمی آئے گی۔

انہو نے بتایا کہ اسپتالوں میں اب بھی 7900 بستر خالی ہیں پہلے کے مقابلے میں بہتری آرہی ہے۔ 7 نومبر کو، انفیکشن کی شرح 15.33 فیصد تھی۔ 11 نومبر کو 8500 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد، انفیکشن کی شرح آہستہ آہستہ کم ہورہی ہے۔ایک دن قبل، انفیکشن کی شرح 12 فیصد کے آس پاس تھی۔انہوں نے کہا کہ لگاتار تین دن تک کورونا کی وجہ سے ایک سو سے زیادہ مریضوں کی موت کے معاملے سامنے آئیں ہیں جس کی اہم وجہ یہ ہے دہلی کے آس پاس کی ریاستوں میں پرالی کے جلنے سے آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے بہت پریشانی ہو رہی ہے، کورونا سے متاثرہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں سانس لینے سے دھوئیں سے اس بیماری کی شدت میں اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ سے موت کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ اس کے مضر اثرات دو سے تین ہفتوں تک رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرالی کا دھواں اب دہلی تک نہیں پہنچ رہا ہے، لہذا، آہستہ آہستہ کیس دو ہفتوں میں کم ہو جائیں گے۔

ستیندر جین نے گزشتہ روز رانی باغ مارکیت کا دورہ کرکے لوگوں میں ماسک تقسیم کئے۔ اس دوران صرف دو افراد ملے جنہوں نے ماسک نہین پہنا تھا ہماری اپیل سے لوگوں میں تبدیلی آئی ہے اور ان کے جوش و جذبے میں اضافہ ہوا ہے۔دہلی میں لوگ سو فیصد ماسک کا استعمال کر رہے ہیں۔

 

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close