اپنا دیشتازہ ترین خبریں

جموں وکشمیر: بی ڈی سی انتخابات میں بی جے پی کی شکست فاش

جموں وکشمیر میں جمعرات کو پہلی بار منعقد ہونے والے بلاک ڈیولپمنٹ کونسل (بی ڈی سی) کے انتخابات میں بی جے پی کو ایک بڑا دھچکا لگا اور پارٹی 316 میں سے محض 81 نشستوں پر ہی کامیابی حاصل کر پائی۔ آزاد امیدواروں نے میدان مارتے ہوئے 217 نشستوں پر فتح حاصل کی۔

یاد رہے کہ ریاست کی علاقائی سیاسی جماعتوں اور قومی جماعت کانگریس نے بی ڈی سی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ علاقائی جماعتوں بشمول نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے بیشتر بڑے لیڈران پانچ اگست سے مسلسل نظر بند ہیں جس کے باعث ان جماعتوں نے بی ڈی سی انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ علاقائی جماعتوں اور کانگریس کے بائیکاٹ سے بی جے پی کے لئے میدان ہموار ہوا تھا لیکن بی جے پی فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ مرکزی حکومت کی طرف سے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کی منسوخی اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلے کے بعد جموں کشمیر میں یہ پہلی انتخابی سرگرمی تھی تاہم اس سیاسی سرگرمی میں تمام ووٹران کو حصہ نہیں لینا تھا بلکہ صرف پنچ اور سرپنچ ہی اس میں ووٹ ڈال سکتے تھے۔

بتادیں کہ جموں کشمیر کی سیاسی تاریخ میں بی ڈی سی انتخابات کا انعقاد پہلی بار عمل میں لایا گیا اور ان انتخابات میں پنچ اور سرپنچ ہی ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ تاہم پنچایتی انتخابات کے برعکس بی ڈی سی انتخابات کا انعقاد پارٹی بنیادوں پر کیا گیا۔

چیف الیکٹورل افسر جموں وکشمیر شیلندر کمار جو کہ پنچایتی راج ایکٹ کے تحت الیکشن اتھارٹی بھی ہے، نے کہا کہ بی ڈی سی انتخابات احسن اور پُر امن طریقے سے منعقد ہوئے جس میں مجموعی طور 98.3 فیصد پولنگ درج کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی آزاد امیدواروں نے حاصل کی جبکہ کامیابی کے تعلق سے بی جے پی دوسرے ، جے کے این پی پی تیسرے اور کانگریس چوتھے نمبرپر رہی۔

شیلندر کمار نے کہا کہ ضلع سری نگر میں صد فیصد پولنگ درج کی گئی جبکہ جنوبی اضلاع کے شوپیان اور پلوامہ میں بالترتیب 85.3 فیصد اور 86.2 فیصد پولنگ درج کی گئی۔ انہوں نے مزید کہاکہ آزاد امیدوارں نے سب سے زیادہ 217 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 81، جے کے این پی پی نے 8 اور انڈین نیشنل کانگریس نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی۔

کشمیر صوبے میں 128 بلاکوں میں آزاد امید واروں کو 109 ، بی جے پی 18 اور آئی این سی ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ صوبہ جموں میں آزاد امید واروں کو 88، بی جے پی کو 52 اور جے کے این پی پی کو 8 بلاکوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح لداخ صوبے میں آزاد امید واروں کو 20 جبکہ بی جے پی کو 11 بلاکوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ بی ڈی سی چیئرمین شپ کے لئے 316 بلاکوں میں سے 280 بلاکوں پر انتخابات منعقد ہوئے جبکہ 27 بلاکوں پر ا میدوار بلامقابلہ کامیاب قرار دئیے گئے۔ چیف الیکٹورل افسر نے صوبہ و ضلع انتظامیہ اور حفاظتی عملے اور دیگر متعلقین کو سراہتے ہوئے انتخابات کو احسن طریقے پر منعقد کرنے پر مبارک باد دی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بی ڈی سی انتخابات، جو ریاست میں پہلی مرتبہ منعقد ہوئے ہیں، میں سرپنچوں اور پنچوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ انہوں نے مزید کہا: ‘پولنگ اور گنتی کا عمل پرامن ماحول میں منعقد ہوا۔ انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے’۔

بی ڈی سی انتخابات میں 1 ہزار 65 امیدوار قسمت آزمائی کررہے تھے جبکہ 27 امیدواروں کو پہلے ہی بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا تھا۔ بی ڈی سی انتخابات میں ووٹروں کی تعداد 26 ہزار 629 تھی جن میں سے 18 ہزار 316 مرد اور 8 ہزار 313 خواتین ووٹر تھے۔ ان کے لئے ریاست بھر میں 310 پولنگ مراکز قائم کئے گئے تھے۔ تاہم بی جے پی نے وادی کے 50 پنچایتی حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے اور 20 آزاد امیدواروں کو حمایت دینے کا اعلان کیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی یاد دلانے کے قابل ہے کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے سال گزشتہ منعقد ہوئے بلدیاتی وپنچایتی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا اور ان جماعتوں نے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو لاحق خطرات کو اس کی وجہ بتائی تھی بعد ازاں دونوں پارٹیوں نے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا اور لوگوں سے مذکورہ دفعات کا دفاع کرنے کے وعدے پر ووٹ حاصل کئے جس کے چلتے نیشنل کانفرنس نے وادی کی تینوں پارلیمانی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close