اترپردیشتازہ ترین خبریں

تین طلاق پر آرڈیننس مذہبی آزادی کی خلاف ورزی: دارالعلوم دیوبند

دنیا کا مشہور اسلامی تعلیمی ادارہ دارالعلوم دیوبند نے تین طلاق پر روک لگانے سے متعلق نوٹی فیکیشن کو مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی نے جمعرات کو بیان جاری کرکے کہا کہ ہندوستانی آئین میں ہر طبقے کو آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا حق دیا گیا ہے لیکن مودی حکومت نے شرعی قانون میں مداخلت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلاق اور نکاح جیسے مسائل خالص مذہبی معاملے ہیں اور مذہبی معاملوں میں حکومت کی مداخلت نا قابل قبول ہے. انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے اس قدم کو ملک کے آئین کے خلاف مانتے ہیں. وہیں دوسری طرف دیوبند کی مسلم خواتین نے بھی اس نوٹی فیکیشن سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون بہت غلط ہے. یہ فیصلہ ہمارے خلاف ہے، یہ فیصلہ شریعت کے بھی خلاف ہے، ہمارے وزیراعظم ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ خواتین کی مدد کرینگے اور مسلم خواتین کو اپنی بہن بتاتے تھے، وزیراعظم نے ہمارے ساتھ نا انصافی کی ہے. ہمیں ان سے یہ امید نہیں تھی کہ وہ ہمارے خلاف جائینگے. اس فیصلے سے غریب مسلم خواتین کو بڑا نقصان ہوگا.

دیوبند کی مسلم خواتین کا کہنا ہے کہ غریب خواتین کورٹ کچہری کا چکّر کیسے کا ٹینگی. چند خواتین کو برقع پہناکر انکی بات مان لی گئی اور ہم ہزاروں خواتین نے سڑکوں پر اتر کر اختلاف کیا انکے بارے میں نہیں سوچا. یہ فیصلہ ہمیں کسی بھی صورت میں منظور نہیں ہے. جو چیز ہماری شریعت میں نہیں ہے، ہم اس بات کو کبھی بھی نہیں مان سکتے، ہم اس فیصلے کی مذمت کرتے ہیں.

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close