بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

بہار اسمبلی میں زبردست ہنگامہ، سرکار اور اپوزیشن اپنے سامنے

پٹنہ (یو این آئی)
17 ویں بہار اسمبلی کے پہلے سیشن کے آخری دن گورنر کے خطبہ پر بحث کے دوران وزیراعلیٰ نتیش کمار پر اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو کے ذاتی تبصرہ کی وجہ سے ایوان میں جم کر ہنگامہ ہوا۔

اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر جنتال یونائٹیڈ (جے ڈی یو) کے رکن اسمبلی اور سابق پارلیمانی امور کے وزیر شرون کمار نے شکریہ کی تجویز پیش کی اور اس کی منظوری بھارتیہ پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی رانا رندھیر سنگھ نے دی۔ دونوں لیڈران کے بیانات کے بعد جب اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو کو بولنے کا موقع ملا تب انہوں نے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف یکے بعد دیگرے کئی ذاتی حملے کئے۔ وہیں سنجیدگی سے باتوں کو سن رہے وزیراعلیٰ کو اپوزیشن لیڈر کی باتوں پر ہنسی آگئی۔

دوسری جانب جے ڈی یو اور بی جے پی اراکین نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔ اس کی وجہ سے حزب اقتدار اور اختلاف کے اراکین کے مابین تیکھی نوک جھونک بھی ہوئی۔ اس پر اسمبلی اسپیکر وجے کمار سنہا نے اپوزیشن لیڈر سے معتدل زبان استعمال کرنے اور نجی تبصروں کے بجائے ترقیاتی امور پر گفتگو کرنے کی درخواست کی لیکن مسٹر یادو نہیں مانے اور مسلسل ذاتی حملے کرتے رہے۔ حزب اقتدار کی جانب سے ٹوک۔ٹاک سے ناراض مسٹر یادو نے انتباہی لہجے میں کہاکہ ”آپ ایسا کریں گے تو ہم ایوان چلنے دیں گے کیا، کسی کو بھی بولنے کا موقع نہیں دیں گے۔

اسمبلی اسپیکر مسٹر سنہا نے وزیراعلیٰ کے خلاف کئے گئے ذاتی تبصرے اور غیر پارلیمانی الفاظ کو کاروائی سے ہٹانے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد ہی حزب اقتدار کے اراکین پرامن ہوئے اور پھر اسے کے بعد اپوزیشن لیڈر کی تقریر شروع ہوئی۔ وقفہ طعام ہو جانے کی وجہ سے ایوان کی کاروائی دو بجے دن تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے اسپیکر نے کہاکہ جب ایوان کی کاروائی پھر سے شروع ہوگی تب اپوزیشن لیڈر اپنی تقریر جاری رکھیں گے۔

اس سے قبل صبح 11 بجے ایوان کی کاروائی شروع ہوتے ہی آرجے ڈی، کانگریس، سی پی آئی ایم ایل، سی پی آئی، اور سی پی آئی ایم کے اراکین زرعی بل واپس لینے کے مطالبے کو لیکر نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے بیچ میں آگئے۔ حالانکہ اسمبلی اسپیکر کی درخواست پر اپوزیشن کے اراکین کچھ دیر بعد ہی اپنی سیٹوں پر لوٹ گئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close