اپنا دیشتازہ ترین خبریں

اپوزیشن اپنے نمبر کی فکر نہ کریں ان کا لفظ ہمارے لئے قیمتی ہے: پی ایم مودی

وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو 17 ویں لوک سبھا کے آغاز سے قبل میڈیا سے کہاکہ جمہوریت میں فعال اپوزیشن کا ہونا بہت اہم ہوتا ہے۔ لیکن اسے اپنی تعداد کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ انہیں مضبوطی سے اپنی آواز اٹھانے اور ایوان کی کارروائی میں حصہ داری بنانے کی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ اجلاس کامیاب ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا،’’جمہوریت میں اپوزیشن کا ہونا، اپوزیشن کا فعال ہونا، اپوزیشن کا مضبوط ہونا، یہ جمہوریت کی لازمی شرط ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اپوزیشن کے لوگ نمبر کی فکر چھوڑ دیں۔ ملک کے عوام نے انہیں جو نمبر دیا ہے، وہ دیا ہے، لیکن ہمارے لئے ان کا ہر لفظ بامعنی ہے، ان کا ہر جذبہ اہمیت رکھتا ہے اور جب ہم ایوان کی اس کرسی پر بیٹھتے ہیں، رکن پارلیمنٹ کے طور پر بیٹھتے ہیں، تب حکومت اور اپوزیشن سے زیادہ منصفانہ جذبہ اہمیت رکھتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے دائرے تقسیم کرنے کے بجائے منصفانہ جذبے سے مفادعامہ کو ترجیح دیتے ہوئے ہم آنے والے پانچ سال کےلئے اس ایوان کے معیار کو اوپر اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

مودی نے کہا،’’مجھے یقین ہے کہ ہمارے ایوان پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر رہیں گے اور عوام کے مفاد کے کاموں میں زیادہ توانائی،زیادہ رفتار اور زیادہ اجتماعی مراقبہ کے جذبے کو موقع ملےگا۔‘‘ نئے لوک سبھا ارکان کا استقبال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ بہتر انداز میں کام کاج کرے تو لوگوں کی امیدوں کو پورا کرسکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا،’’ گزشتہ پانچ برس کا تجربہ ہے کہ جب ایوان کی کارروائی چلی ہے، صحت مند ماحول میں چلی ہے، تب ملک کے مفاد میں فیصلے بھی بہت اچھے ہوئے ہیں۔ ان تجربات کی بنیاد پر میں امید کرتا ہوں کہ سبھی پارٹیاں بہت ہی اچھی بحث ،مفاد عامہ کے فیصلے اور عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کی سمت میں آگے بڑھیں۔‘‘

مودی نے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ نعرے کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ ملک کے عوام میں ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ نے ایک انوکھا یقین پیدا کردیا اور اس یقین کو لے کر لوگوں کی امیدوں اور خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ مودی نے کہا،’’الیکشن کے بعد نئی لوک سبھا کی تشکیل کے بعد آج پہلا اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ متعدد نئے ساتھیوں کے تعارف کا ایک موقع ہے اور جب نئے ساتھی جڑتے ہیں، تو ان کے ساتھ نئی امیدیں، نیا جوش، نئے خواب بھی جڑتے ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت کی خصوصیت کیا ہے؟ طاقت کیا ہے؟ ہر الیکشن میں ہم اس کا تجربہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹنگ اور سب سے زیادہ خواتین کی نمائندگی کا الیکشن ہوا ہے۔ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ تعداد میں خواتین ووٹروں کے ووتنگ کرنے سمیت متعدد خصوصیات سے یہ الیکشن پُر رہا۔ کئی دہائیوں کے بعد ایک حکومت کو دوبارہ مکمل اکثریت کے ساتھ اور پہلے سے زیادہ سیٹوں کے ساتھ عوام نے خدمت کرنے کا موقع دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان میں کئی رکن بہت ہی اچھے خیالات رکھتے ہیں،بحث کو بہت معیاری بناتے ہیں،لیکن زیادہ تر وہ تخلیقی ہوتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ میں کوئی رکن حکومت کی تنقید بھی بہت منطقی انداز میں کرتا ہے اور وہ بات پہنچتی ہے تو اس میں جمہوریت کو مضبوطی ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جمہوریت کو مضبوط بنانے میں بہت توقعات ہیں۔ شروع میں تو ضرور ان توقعات کو پورا کریں گے، لیکن پانچ سال تک اس جذبے کو مضبوط بنانے میں بہت بڑا مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا،’’آپ کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ 17ویں لوک سبھا میں ہم اسی نئی توانائی، نئےیقین، نئے عزم، نئے خوابوں کے ساتھ، ساتھ مل کر آگے چلیں۔ ملک کے عوام کی امیدوں اور توقعات کو پورا کرنے میں ہم کہیں کمی نہ رکھیں۔ اس ییقین کے ساتھ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔‘‘

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close