Khabar Mantra
آپ کی آواز

اَنّا کی بھوک ہڑتال ختم کرانا بی جے پی کا حربہ

تحریر...............ایم قمر علیگ

گاندھی وادی سماجی کارکن اناہزارے نے اپنے آبائی گاؤں رالیگن سدھی میں لوک پاک کے تعلق سے بھوک ہڑتال شروع کردی تھی، لیکن مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندرفڑنویس اور مرکزی ریاستی وزیر برائے زراعت رادھاموہن سنگھ کے سمجھا بجھانے اور اصرار کرنے پر انہوں نے 30 جنوری سے جاری اپنی بھوک ہڑتال توڑ دی۔ اناہزارے کئی مرتبہ یہ آندولن کرچکے ہیں، لیکن یقین دہانیوں کے بعد بھی ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوا ہے۔

مودی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں نہ صرف انہیں نظر انداز کیا، بلکہ ان کے مطالبہ کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا تھا، لیکن عام انتخابات کے پیش نظر انا کی بھوک ہڑتال بی جے پی کو متاثر کر سکتی ہے، لہذا اس نے اپنے لیڈر دیویندر فڑنویس اور رادھا موہن سنگھ کو اناہزارے کے پاس بھیج دیا اور انہیں یقین دہانی کرانے کے بعد بھوک ہڑتال ختم کرنے پر مجبور کر دیا۔ حالانکہ انا ہزارے پر بی جے پی کے ایجنٹ ہونے کے الزامات سیاسی پارٹیوں کی جانب سے عائد کئے جاتے رہے ہیں، لیکن کسی حدتک بدعنوانی پر روک لگانے کے لئے لوک پال کا ان کا مطالبہ جائز ہے، لیکن اپنے دور اقتدار میں مودی حکومت نے لوک پال کا تقرر کیوں نہیں کیا یہ بات قابل غور ہے اور اب جو یقین دہانی کرائی گئی ہے، اس کی ضمانت کیا ہے کہ دوبارہ بر سراقتدار ہونے پر بی جے پی ان کا مطالبہ پور کر دے گی۔ جب 30 کروڑ لوگوں سے جھوٹے وعدے کئے جاسکتے ہیں اور انہیں دھوکہ دیا جا سکتا ہے تو کیا انا ہزارے اس سے مستثنیٰ رہ پائیں گے؟ مودی حکومت جملہ بازوں کی حکومت ہے، جو کہ اخلاقیات سے عاری ہے۔

کوئی بھی سیکولر باشندہ اس بات پر یقین نہیں کرسکتا ہے کہ ایک ایسا بزرگ سماجی کارکن جس کی آواز پر کثیر تعداد میں شہری جمع ہو جاتے ہیں، اس کو باربار یقین دہانی کرائی جائے۔ لوک پال کی تقرری کے لئے کسی الیکشن کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ وزیراعظم ایک کمیٹی کے توسط سے لوک پال کا تقرر کر سکتا ہے، مگر یہ کام برسوں سے انجام نہیں دیا گیا۔

اسی اثنا فڑنویس نے شیوسینا کی تنقید کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اناہزارے کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کچھ سیاسی لیڈر اپنے سیاسی مفادات کے لئے ان کا استعمال کر رہے ہیں۔ انا ہزارے کا تو سیاسی استعمال بہت پہلے سے ہی کیا جا رہاہے۔ کانگریس کے کئی بڑے لیڈروں نے بھی ایک مرتبہ ان کی بھوک ہڑتال ختم کرائی تھی، جب انا ہزارے نے اپنا پہلا آندولن شروع کیا تھا تو اس وقت اروند کجریوال ان کے سب سے بڑے حامیوں میں سے ایک تھے، جب آندولن وسیع ہو گیا تو کجریوال نے اسے سیاسی پارٹی میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن انا ہزارے اس کے لئے تیار نہیں ہوئے تھے۔ انا ہزارے کے انکار کرنے کے بعد کجریوال نے ناراض ہو کر عام آدمی پارٹی بنالی تھی۔ کجریوال کی محنت اور عام آدمی پارٹی کی مقبولیت اس نہج پر پہنچ گئی تھی کہ اس نے دہلی کے اسمبلی انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی تھی۔ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے جب کام کرنا شروع کیا تو دہلی کے باشندے کافی حد تک خوش ہوئے تھے، لیکن اروند کجریوال کو حکومت چلانے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مرکز کی بی جے پی سرکار نہ صرف لیفٹننٹ گورنر کے توسط سے ان کو پریشان کر رہی تھی، بلکہ انا ہزارے نے بھی ان پر منفی تبصرہ کیا تھا۔ اپنے گاؤں میں تقریباً ساڑھے چار سال تک خاموش رہنے والے انا ہزارے اب عام انتخابات کے موقع پر پھر بیدار ہوگئے۔ بی جے پی نے اپنی مدت کار میں ملک کا کیا حال کر دیا ہے، انہیں نظر نہیں آیا۔ انا ہزارے ملک سے بدعنوانی دور کرنے کے لئے آندولن کر رہے تھے، لیکن انہیں وجے مالیہ، نیرو مودی اور میہل چوکسی کے ذریعہ بڑے پیمانے پر کی جانے والی گھوٹالہ بازی نظر نہیں آئی۔ یہ تمام گھوٹالے مودی کے دور اقتدارمیں ہی ہوئے تھے۔ اس پر بھی وہ خاموش رہے۔
امت شاہ کے اثاثوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا، اس پر بھی وہ خاموش رہے۔ حیرت کی بات ہے کہ زبردست گھوٹالوں میں ملوث بی جے پی کے بدعنوان وزراء کو مودی نے اس گاندھی وادی کارکن کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کے لئے رالیگن سدھی بھیج دیا، جو ملک سے بدعنوانی ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر دیکھا جائے تو گاندھی وادی ہونے کی وجہ سے بی جے پی کے لیڈروں کو انا ہزارے سے اسی طرح کی نفرت ہونی چاہیے جس طرح کی نفرت کا علی گڑھ میں پوجا شکن پانڈے نے مظاہرہ کیا تھا، لیکن یہاں بھی بی جے پی کو سیاسی مفاد نظر آیا۔ ایسے موقع پرجب کہ بی جے پی آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے زبردست طریقہ سے انتخابی مہم چلا کر رائے دہندگان کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے تو ایسی صورتحال میں اناہزارے کی بھوک ہڑتال سے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جہاں بی جے پی کے بارے میں یہ کہا جا رہاہے کہ الیکشن جیتنے کے لئے وہ ہرحربہ استعمال کر رہی ہے تو اناہزارے کی بھوک ہڑتال ختم کروانا بھی ایک حربہ ہوسکتا ہے۔

اس وقت بی جے پی نے سماجی کارکنان کے علاوہ تمام خودمختار اداروں کو مفلوج کر دیا ہے اور عوام اس سے بے زار ہو چکے ہیں، پھر بھی اسے خواب میں وزارت عظمیٰ کی کرسی نظر آ رہی ہے۔ ملک کے عوام سے بھی بی جے پی نے کتنے وعدے کئے، جن میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا گیا۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آتا ہے کہ بی جے پی کے لیڈروں کے اصرار پر کس بنیاد پر اناہزارے نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کی تھی؟

(Writer: M. Qamar Alig………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close