Khabar Mantra
آپ کی آواز

ابھینندن معاملہ کے سبب جنگ ٹل گئی؟

لمحۂ فکریہ.....جاوید جمال الدین

پاکستان کی گرفت میں آئے ایئرفورس کے پائلٹ ابھینندن کی واپسی بھی ایک کٹھن مرحلہ تھی، مگر ہندوستان اپنی حکمت عملی میں کامیاب رہا۔پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اچانک پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایوان میں اعلان کیا کہ ہم نے ہندوستان کے محصور پائلٹ کو جمعہ کے روز ہندوستان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ قدم خطہ میں امن کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے شکایتی انداز میں کہا کہ پڑوسی ملک سے واضح طور پر کہا گیا کہ پلوامہ حملہ کے سلسلہ میں ثبوت پیش کیا جائے، لیکن ان کی طرف سے فضائی حملہ کیا گیا، جس کا جواب بھی دے دیا گیا ہے اور جمعرات کو پلوامہ کے بارے میں ڈویزئیر بھیجا ہے۔

عمران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے کشیدگی کے دوران ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی سے بات کرنے کی کوشش کی اور اس عمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اس کا مقصد خطہ میں امن قائم کرنا ہے کیونکہ برصغیر دنیا کا سب سے زیادہ غربت کا شکار خطہ ہے۔ حالات کا جائزہ لیں تو دیکھا جائے کہ پاکستان اور ہندوستان میں جاری کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان چلنے والی ریل سروس، سمجھوتہ ایکسپریس، معطل کر دی گئی ہے جس کے وجہ سے درجنوں مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے ہندوستانی پائلٹ کو چھوڑنے کے اعلان سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھیں پاکستان اور ہندوستان کی جانب سے پُرکشش اور معقول خبریں مل رہی ہیں۔ جبکہ جمعرات کی شام سعوی عرب کے سفیر نے وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر افسران سے ملاقات کی۔ یہ ایک کامیاب سفارتی کوشش تھی، بتایا جاتا ہے کہ روس اور ترکی نے بھی اس تعلق سے کافی اہم رول نبھایا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان نے ایک دوسرے پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کے نئے الزامات عائد کیے اور پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستان میں داخل ہونے والے ایک مگ 21 طیارے کو مار گرایا اور کم ازکم ایک ہواباز ابھینندن کو حراست میں لے لیا ہے، لیکن یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کا ممکنہ تبادلہ ہو گا۔ جمعرات کی صبح تک یہ سوال کیا جارہا تھا کہ ونگ کمانڈر ابھینندن کی وطن واپسی کیسے ممکن ہوگی، لیکن ’بیک ڈور‘ یعنی پس پشت جو کچھ ہوا، اس کے نتیجہ میں انہیں محض تقریباً 60گھنٹے میں رہائی نصیب ہوئی ہے۔ ہندوپاک کے درمیان جنگی قیدیوں کی حراست اور برسوں بعد رہائی کا سب سے بڑا واقعہ 1971 کی ہندپاک جنگ کے دوران پیش آیا تھا جب مشرقی پاکستان میں 90 ہزار سے زیادہ پاکستانی فوجی جنگی قیدی بنالیے گئے اور ان کی رہائی اندرا گاندھی اور ذالفقار علی بھٹو کے مابین شملہ معاہدے کے تحت عمل میں آئی تھی اور یہ رہائی مرحلہ وار ہوئی تھی۔ 1999 کی کارگل کی لڑائی کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ ایک ملک کے کسی فوجی کو دوسرے ملک نے حراست میں لیا اور رہائی ممکن ہوئی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک میں روز قیدیوں کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے لیکن یہ قیدی اکثر ایسے غیر فوجی افراد، دیہاتی اور مچھیرے ہوتے ہیں جو مویشیوں یا مچھلیوں کی تلاش میں غلطی سے دوسرے ملک کی حدود میں پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے مابین 1999 میں کارگل کے میدان میں جنگ ہوئی، لیکن فوجیوں کا معاملہ دوسرا ہوتا ہے۔ 1999 میں کارگل کی جنگ میں پاکستان کی فضائیہ نے لائن آف کنٹرول کے قریب ہندوستانی فضائیہ کے دو مِگ 29 طیارے مار گرائے تھے۔ جو دو ہوا بازوں میں سے پاکستان کی جانب سے ایک کو زندہ جبکہ دوسرے کی لاش کو ہمیں واپس کیا گیا تھا۔ اس فضائی لڑائی میں مارے جانے والے اسکواڈرن لیڈر اجے اہوجا کی لاش کی حوالگی کا معاملہ متنازعہ رہا کیونکہ پاکستانی فوج نے انھیں بھی زندہ پکڑا تھا لیکن بعد میں ہلاک کر دیا حالانکہ پاکستان کا موقف کچھ اور تھا۔

اس واقعے میں فلائٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتا کی حراست اور چند دن بعد حوالگی کی خبروں کی بازگشت برسوں بعد بھی سنائی دیتی رہی، تاہم اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ جنگی قیدیوں سے متعلق بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں۔ جنگی قیدیوں کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین میں سب سے معتبر دستاویز جینوا میں طے پانے والا ایک معاہدہ ہے۔ اس دستاویز پر پہلی مرتبہ 1929 میں اتفاق کیا گیا تھا، تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد 1949 میں پہلے معاہدے میں خاصی تبدیلیاں کی گئیں اور اس میں جنگی قیدیوں سے سلوک کے حوالے سے کئی دفعات کا اضافہ کیا گیا۔ اس معاہدے کو تیسرا جنیوا معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اب تک دنیا کے 149 فریق اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، جن میں دونوں ملک بھی شامل ہیں۔

جنیوا کنونشن ہر رکن ملک کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی جنگی قیدی سے تفتیش کے دوران ہر قسم کے جسمانی یا ذہنی تشدد یا کسی بھی قسم کے دباؤ سے پرہیز کرے گا اور جس قدر جلد ممکن ہو گا، قیدی کو جنگ کے مقام سے دْور لے جائے گا۔ کارگل کی لڑائی میں پاکستانی فوج کی حراست میں لیے جانے والے فلائیٹ لیفٹینٹ کمبامپتی نچِکیتا کی حوالگی کے سلسلے میں پاکستان سب کے سامنے ہندوستانی سفیر پارتھا سارتھی کے حوالے کریں گے۔ لیکن تنازعہ کو حل کرلیا گیا۔ پاکستانی فوج نے زیر حراست پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ ان سے چند سوالات کیے گئے جن کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان سے پاکستان میں اچھا سلوک ہو رہا ہے اور اگر وہ اپنے ملک واپس گئے تو اپنا بیان نہیں بدلیں گے۔ گروپ کیپٹن کمبامپتی نچِکیتا کی طرح ونگ کمانڈر ابھینندن نے بھی یہ گفتگو چائے پیتے ہوئے کی اور پاکستانی فوج کی چائے کی تعریف بھی کی ہے۔

گزشتہ دوہفتہ سے جو جنگ کے بادل برصغیر پر چھائے ہوئے تپے، وہ فی الحال کم ہوچکے ہیں، ابھینندن کی واپسی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلق کی امید ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ہم جب چاہیں تمھارے علاقے میں گھس کر فوجی کارروائی کر سکتے ہیں، اس لیے کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں رہنا۔ اگر دیکھا جائے تو دونوں کے اندام میں جارحانہ رویہ نہیں تھا اور بار بار اس کے سیاستداں امن کی دھائی دیتے رہے، ہندوستان نے بالاکوٹ پر حملہ کو غیر فوجی قرار دیا اور اس بے پناہ قربت سے یہی لگتا ہے کہ شاید تکرار اور نفرت بہتر تعلقات میں تبدیل ہو جائے۔ اس معاملہ میں ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا کا رول انتہائی پچکانہ رہا اور یہ باریکیوں کو سمجھنے اور جاننے کے بجائے آغاز سے جنگ کا بگل بچا رہے تھے اور دو ملکوں کے درمیان جنگ کو ہی ایک بہترین حل سمجھتے ہیں جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہوتا ہے، جنگ ٹل گئی ہے، یہ نہیں کہا جاسکتا ہے، کیونکہ چند سیاستداں آئندہ الیکشن کے لیے اسے بھنانے کی کوشش کریں گے اور بقول راج ٹھاکرے ایسا کرنا ملک اور قوم کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔

(Writer: Javed Jamaluddin………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close