دلی این سی آر

لال کنواں علاقہ میں نوجوان نے لگائی پھانسی

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
پرانی دہلی کے بلیماران اسمبلی حلقہ کے تحت آنے والے لال کنواں علاقہ میں ایک 38 سالہ نوجوان کے پھانسی لگا کر خودکشی کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ نوجوان کی شناخت محمد کاشف کے طور پر ہوئی ہے، جو منٹو روڈ علاقہ کی بستی حضرت میر درد (شکور کی ڈنڈی) میں رہتا تھا اور لال کنواں کے گلی چابک سوار میں جویلری باکس بنانے کے کارخانے میں کام کرتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ معاشی بحران اور قرضدار ہونے سے ذہنی دباؤ میں تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ 8 سال قبل کاشف کی شادی محلہ نیاریان کی ایک لڑکی سے ہوئی تھی، جوکہ معزور بھی ہے، اس سے اس کے دو بچے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں کاروبار نہ ہونے اور معاشی بحران کا شکار ہونے سے وہ اپنے ایک دوست راہل کا قرضدار بھی ہوگیا تھا، جو نہیں دے پا رہا تھا، اس کی وجہ سے گھر میں بھی اس کی بیوی سے ان بن چلتی رہتی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ رات بھی اس کی بیوی سے کافی کہا سنی ہوئی تھی جس کے بعد وہ اسے اس کے مائکے محلہ نیاریان چھوڑ ا ٓیا تھا اور گلی چابک سوار لال کنواں پر واقع اپنے کار خانے آ ٓگیا تھا۔ آج صبح جب اس کے کارخانے کا مالک فہیم کار خانے پہنچا تو اس کی نعش وہاں فرش پر ملی، وہیں چھت کے ایک کنڈے میں معمولی سی رسی بھی ملی۔ اس کی لاش فرش پر کیسے ا ٓئی یہ بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے۔

واقع کی اطلاع ملتے ہی تھانہ حوض قاضی کے ایس ایچ او اور پولیس ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور نعش کو اپنے قبضے میں معاملہ درج کر لیا ہے اور تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کو بھی ظاہری طور پر یہ معاملہ معاشی بحران کے سبب ذہنی دباؤ کا شکار ہونے پر پھانسی لگاکر خود کشی کا نظر آتا ہے، لیکن متوفی کے والد اور دیگر اہل خانہ کا الزام ہے کہ اس کا قتل کیا گیا ہے وہ خودکشی نہیں کر سکتا۔ پولیس نے فی الحال معاملہ درج کرلیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جس طرح کاشف کے اہل خانہ قتل ہونے کا شک ظاہر کر رہے ہیں اگر تفتیش میں قتل کے ثبوت پولیس کو ملتے ہیں تو کیس قتل کے کیس میں منتقل کیا جائے گا۔ فی الحال پولیس ہر زاویہ سے معاملے کی چھان بین کر رہی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close