دلی این سی آر

’یوگی حکومت رام راج کو نہیں راون راج کو فروغ دے رہی ہے‘

کانگریس کمٹی ضلع بابر پور کے تحت کبیر نگر مین روڈ پر جنسی زیادتیوں کے خلاف ستیہ گرہ کا انعقاد

نئی دہلی (امیر امروہوی)
بابر پور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر کیلاش جین کی قیادت میں ہاتھرس کی بیٹی کو انصاف دلانے و جنسی زیادتیوں کے خلاف ستیہ گرہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں رامپش شرما، اجے کمار شرما، دہلی کانگریس کمیٹی کے نائب صدر علی مہدی، سلیم پور سے بلاک صدر گھونڈا چودھری روہتاس (بابر پور بلاک صدر)، منگ گاڈو جی کردم پوری بلاک صدر صغیر احمد، سبھاش محلہ بلاک صدر نفیس احمد، راجیو کوشک، سابق بلاک صدر شاہنواز حاجی ظریف وید پرکاش بلاک کے صدر پردیپ سنجے سنور، راجکمار شرما سمیت بابر پور ضلع کانگریس کے سیکڑوں کانگریس کرکنان اور بڑی تعداد میں عوامی سطح پر لوگ موجود تھے۔

اس موقع پر کیلاش جین نے کہاکہ گذشتہ دنوں ہاتھرس میں جو ہوا وہ پورے ملک کو شرمسار کرنے والا ہے لیکن یوپی کی بی جے پی حکومت اس پر پردہ پوشی کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھاری رہی ہے جس طرح ملزمین کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر ایک بڑا سوال اٹھ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندو رسم و رواج کے مطابق رات میں انتم سنسکار نہیں کیا جاتا ہے لیکن پولیس کے اعلیٰ افسران نے رات کے اندھیرے میں اس معصوم بیٹی کا انتم سنسکار کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس سلسلے میں سرکار کے ساتھ ساتھ انتظامیہ بھی بہت کچھ چھپا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ جب تک ہاتھرس کی بیٹی کو انصاف نہیں ملے گا اور مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا تب تک ہم کانگریسی خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ کانگریس کے نوجوان لیڈر علی مہدی نے کہاکہ بی جے پی کے اقتدار میں بے شمار عصمت دری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنی تقریرروں میں کہتے ہیں کہ بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ تو میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہاتھرس جیسے واقعات رونما ہونے سے ان کا یہ اعلان کہاں سچ ثابت ہوتا ہے۔ یوپی کے وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ رام راج کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے کارنامے راون راج سے بھی زیادہ بدتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یوپی میں جس طرح جنگل راج نے اپنے پیر پسار ے ہیں اس سے لوگوں کا اعتماد سرکار سے اٹھ گیا ہیہر طرف انصاف کا گلا دبایا جا رہا ہے۔ ملزمان کی پشت پناہی کھلے عام ہو رہی ہے راہل گاندھی اور پرینکا کے ساتھ انتظامیہ نے جو رویہ اپنایا ہے وہ نا قابل برداشت ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close