اترپردیشتازہ ترین خبریں

یوگی آدتیہ ناتھ کو برطرف کیا جائے: مایاوتی

لکھنؤ، (یواین آئی)
بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے ہاتھرس و بلرامپور اضلاع میں اجتماعی عصمت دری و قتل معاملے میں اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی سخت تنقید کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو تبدیل کیا جائے۔

محترمہ مایاوتی نے جمعرات کو کہا کہ’ہاتھرس اور بلرامپور کے سانحہ نے مجھے اندر سے ہلا دیا ہے۔ اس وقت ریاست میں قانون کی کوئی حکمرانی نہیں ہے علاوہ ازیں کریمنل، مافیا و خواتین کی عصمت تار تار کرنے والوں کا ریاست پر کنٹرول ہے۔ ریاست میں نظم ونسق مکمل طور سے تباہ ہوچکا ہے۔ موجودہ حکومت کے زیر اقتدار ریاست میں خواتین بالکل بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بی ایس پی سپریمو نے مرکزی حکومت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔

محترمہ مایاوتی نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو ریاست میں صدر راج کے نفاذ پر غور کرنا چاہئے۔ یوگی کو آر ایس ایس کے تباہ میں ریاست کا وزیراعلی بنایا گیا تھا۔ اب بی جے پی کو معاملے کو آر ایس ایس سے اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہئے۔ یہ کافی بہتر ہوگا کہ یوگی آدتیہ ناتھ مٹھ میں واپس جائیں یا پھر انہیں رام مندر کی تعمیراتی کام کی دیکھ بھال کرنی چاہئے۔ سابق وزیر اعلی نے یوگی آدتیہ ناتھ پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا’یوگی آدتیہ ناتھ بھی ایک خاتون کے پیٹ سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں خواتین کی عزت کرنی چاہئے۔ آج یوپی میں کرائم کا بول بالا ہے۔ انہیں فورا اپنے عہدے سے استعفی دے دینا چاہئے۔

محترمہ مایاوتی نے جمعرات کے روز ہاتھرس آبروریزی معاملے میں سپریم کورٹ سے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عصمت دری کی شکار کی لاش کو اس کے خاندان کے حوالے نہ کرنا ریاستی حکومت اور پولیس کے کردار پر شک پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش پولیس نے ایک دلت متاثرہ لڑکی لاش کو اس کے کنبہ کے حوالے نہیں کی اور کل آدھی رات کو اس کی رضا مندی کے بغیر اور اس کی عدم موجودگی میں آخری رسومات ادا کردینا لوگوں میں کافی شکوک و شبہات اور ناراضگی پائی جاتی ہے۔ بی ایس پی پولیس کے ایسے غلط رویے کی شدید مذمت کرتی ہے۔

بی ایس پی سپریمو نے کہا ، "بہتر ہوگا کہ اگر سپریم کورٹ اس سنگین معاملے کو خود ہی نوٹس لیتے ہوئے مناسب کارروائی کرے ، ورنہ اس گھناؤنے معاملے میں اترپردیش حکومت اور پولیس کے رویہ ایسا نہیں لگتا ہے کہ اجتماعی زیادتی کی شکار بچی کی موت کے بعد بھی، اس کے اہل خانہ انصاف اور ملزمان کو سخت سزا ملے گی۔ ”

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close