تازہ ترین خبریںمحاسبہ

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

محاسبہ…………….سید فیصل علی

بہار میں اسمبلی انتخابات کو محض تین دن باقی ہیں، بہار کا الیکشن مودی سے لے کر نتیش کمار دونوں کو آئینہ دکھا رہا ہے، مہاگٹھ بندھن کے سی ایم امیدوار تیجسوی یادو کی جس طرح عوامی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے اور بی جے پی -جے ڈی یو لیڈروں اور امیدواروں کی فضیحت ہو رہی ہے، اس نے ملک کو چونکا دیا ہے۔ تیجسوی یادو کے جلسوں میں عوامی سیلاب امنڈ رہا ہے تو نتیش کمار کے جلسوں میں نوجوانوں کا ہنگامہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے بی جے پی کے سرخیلوں کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہیں نہ صرف بہار میں اقتدار کا چراغ بجھتا دکھائی دے رہا ہے، بلکہ قومی سیاست میں بھی بی جے پی کی زمین کھسکتی نظر آ رہی ہے۔ چنانچہ بہار کے چناوی مہابھارت میں آر پار کی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ تیجسوی کو گھیرنے کے لئے پوری طاقت لگ چکی ہے۔ پی ایم مودی، راج ناتھ سنگھ، اسمرتی ایرانی، یوگی آدتیہ ناتھ، جے پی نڈا سمیت 20 اسٹار پرچارک بہار کے مہابھارت میں اتر چکے ہیں۔ لیکن مہاگٹھ بندھن کے واحد اسٹار پرچارک تیجسوی یادو کیا بی جے پی کے چکرویو میں آسکیں گے، اس پرخود بی جے پی کے سورما شش وپنج میں ہیں۔

بہار کے اسمبلی حلقوں میں جس طرح بی جے پی اور جنتادل یو کے امیدواروں کی درگت ہو رہی ہے، وہ بہار کی سیاست کا پہلا عبرتناک منظرنامہ ہے۔ یہاں عوامی غم وغصے کا عالم یہ ہے کہ اب تک برسراقتدار کے 13 ممبران اسمبلی، 22 سے زائد امیدوار، کئی ممبران پارلیمنٹ، آر کے سنگھ گری راج سنگھ جیسے دبنگ مرکزی وزارء کے علاوہ ریاستی وزیر کرشنانند رائے، ہزاری اور وجے سنہا تک سبھی عوامی عتاب کے شکار ہو چکے ہیں۔ ان کی گاڑیوں کو توڑا گیا ہے، ان پر پتھر برسائے گئے حتی کہ وزراء پر گوبر تک پھینکے گئے۔ عوام کا غصہ یہیں تک محدود نہیں رہا، بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ کو جلسوں تک میں بدترین عوام مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، یوگی واپس جاؤ کے نعروں کے ساتھ ان کی مخالفت کی گئی۔ ستم ظریفی تو یہ بھی ہے کہ بہار کے انتخابی جلسوں میں نتیش کمار بھی نہیں بخشے جا رہے ہیں، انہیں نوجوانوں کے سوالوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے جلسوں میں ہنگامے ہو رہے ہیں، یہ بڑا عبرتناک منظرنامہ ہے۔

بہار کے انتخابی مہابھارت کا یہ منظرنامہ اس بات کا غماز ہے کہ بہار میں تبدیلی کی لہر اٹھ چکی ہے، جس کو روکنا اسٹار پرچارکوں کے بس کی بات نہیں رہی۔ اطلاع ہے کہ بہار بی جے پی انتخابی امور کے انچارج مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ فڑنویس کو کورونا ہو چکا ہے، اس سے قبل نائب وزیراعلیٰ سشیل مودی، راجیوپرتاپ روڑھی، سید شاہ نواز حسین وغیرہ بھی کورونا پازیٹیو ہو چکے ہیں، مگر عام افواہ ہے کہ عوام کے درمیان جانے کے خوف سے ان لوگوں نے خود کو کوارنٹائن کر لیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو لگتا ہے کہ بی جے پی کے لیڈر درپردہ شکست قبول کر چکے ہیں۔ لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اقتدار کے لئے ہرسطح تک جا سکتی ہے۔ وہ این ڈی اے سے الگ چراغ پاسوان سے درپردہ ہمدردی رکھتی ہے اور بہار کے 18 فیصد مسلمانوں کو بھی توڑنے کی کوشش میں ہے۔ اس کی امیدیں اسدالدین اویسی سے بھی وابستہ ہیں، جنہوں نے اپنی پارٹی کے امیداوار ان مسلم اکثریتی اضلاع میں کھڑے کئے ہیں، جو بہار کے اقتدار میں بادشاہ گر علاقے کہلاتے ہیں۔ لیکن تمام تر زہریلی سیاست کے باوجود بہار انقلاب کی دھرتی ہے۔ جہاں ایک طویل عرصے کے بعد انقلاب کی دھمک صاف سنائی دے رہی ہے، جو اس بات کا اشاریہ ہے کہ بہار میں تبدیلی کی لہر اب اندر ہی اندر نہیں رہی، بلکہ اوپر بہہ رہی ہے، جس کی گواہ تیجسوی کی ریلیاں ہیں، جو عوامی سیلاب سے لبالب بھری نظر آتی ہیں۔ دوسری طرف پی ایم سے لے کر سی ایم کی ریلیاں ہیں، جہاں صرف کرسیوں پر بیٹھے لوگ نظر آتے ہیں، جو ایک امید کے ساتھ ان کے جلسوں میں آتے ہیں، لیکن مایوس ہوکر چلے جاتے ہیں، جبکہ تیجسوی کے جلسوں میں نوجوان امید اور سنہرے مستقبل کا خواب آنکھوں میں لے کر پرجوش لوٹتے ہیں۔ تیجسوی یادو نے عزم کیا ہے کہ ان کی حکومت بنتے ہی پہلا فیصلہ بے روزگاروں کو 10 لاکھ سرکاری نوکریاں دینے کا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ بہار میں صنعتیں بھی لگانے کی کوشش کریں گے تاکہ بہار میں مزید روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ حالانکہ تیجسوی کے اس عزم کا شروع میں بی جے پی اور نتیش نے خوب خوب مضحکہ اڑایا اور کہا گیا کہ پیسے کہاں سے لائیں گے؟ نتیش کمار نے یہ بھی تاویل دی تھی کہ بہار سمندر کے پاس نہیں ہے، اس لئے صنعتیں نہیں لگ سکتیں، لیکن اب نتیش کمار اور بی جے پی خود سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔ بی جے پی نے تیجسوی کے دس لاکھ سرکاری نوکریوں کے جواب میں 19 لاکھ لوگوں کو روزگار دینے کا اعلان کیا ہے، مگر بی جے پی کے اس اعلان کو بہار کے عوام محض جملہ سمجھ رہے ہیں۔ خاص بات تو یہ ہے کہ گودی میڈیا بی جے پی کے اسٹار پرچارکوں کے چہروں اور بھاشنوں کو ہی دکھا رہا ہے۔ جان بوجھ کر بی جے پی کے عوامی جلسوں کی بھیڑ کو نہیں دکھا رہا ہے، حالانکہ سوشل میڈیا کے ذریعہ تیجسوی کے جلسوں کی حقیت اور مودی -نتیش کے جلسوں کی پول بھی کھل رہی ہے۔

بہار میں بی جے پی-جے ڈی یو امیدواروں کی درگت اور اسٹار پرچارکوں کی چناوی جلسوں کی حالت دیکھ کر بھاجپا عوام کو جذباتی جال میں پھنسانے کی سیاست کر رہی ہے۔ بہار کے الیکشن میں پاکستان، مسلمان، کشمیر اور مدرسوں کی انٹری ہو چکی ہے۔ مودی اپنے جلسوں میں کہتے پھر رہے ہیں کہ اپوزیشن کشمیر میں 370 کا فیصلہ پلٹنا چاہتا ہے۔ یوگی ڈمرو بجا رہے ہیں کہ کانگریس کے لیڈران پاکستان کی تعریف کرتے ہیں، نڈا گھوم گھوم کر دہائی دے رہے ہیں کہ ساری دنیا ہندوستان کی تعریف کرتی ہے تو راہل پاکستان کی بات کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اب بہار کا الیکشن جیتنے کے لئے بی جے پی کے پٹارے میں صرف پاکستان، مسلمان، کشمیر، مدرسے کے نام پر ڈسنے والے سنپولئے ہی رہ گئے ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی کی آخری امید اویسی سے وابستہ ہے، جنہوں نے مایاوتی سے گٹھ بندھن کیا ہے، جنہوں نے سی اے اے، این آرسی اور تین طلاق کی کھل کرحمایت کی۔ اب ایم آئی ایم کے امیدوار مسلم اکثریتی حلقوں میں ووٹوں کے سب سے بڑے طلبگار بنے ہوئے ہیں۔ ستم تو یہ بھی ہے کہ سیمانچل کے ارریا ضلع کا جوکی ہاٹ اسمبلی حلقہ جو مرحوم تسلیم الدین کا مضبوط ترین حلقہ سمجھا جاتا ہے، جہاں 50 برسوں میں بی جے پی کا کھاتہ نہیں کھلا، وہاں تسلیم الدین کے بیٹے سرفراز عالم آرجے ڈی کے امیدوار ہیں، ان کے مقابلے میں اویسی صاحب نے ان کے چھوٹے بھائی شاہنواز کو کھڑا کر دیا ہے۔ دوبھائیوں کی جنگ سے تاریخ میں پہلی بار یہاں ایک نئے باب کا اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن بہار کے مسلمان باالخصوص سیمانچل کے مسلمان اتنا ناپختہ شعور نہیں رکھتے ہیں، وہ اپنی حکمت عملی سے بی جے پی کی ہر سیاست کے ہوا نکال دیں گے، جیسا کہ 2015 میں انہوں نے حکمت عملی اپنائی تھی۔

بہرحال بہار میں این ڈی اے کی خستہ حالی ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے، چنانچہ بی جے پی ہر روز کینچلی بدل رہی ہے، انسانیت پر سیاست کو ترجیح دے رہی ہے، ووٹ دو، ویکسین لو کی تجارت ہونے لگی ہے۔ بی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ بہار کے ووٹروں کو مفت کورونا ویکسین دی جائے گی، گرچہ ابھی تک کورونا ویکسین تیار ہی نہیں ہوئی ہے، لیکن ووٹروں کو لالچ دے دی گئی ہے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ جس نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا کیااسے ویکسین نہیں ملے گی۔ مجھے یہ کہنے میں قطعی گریز نہیں ہے کہ بہار میں تیجسوی کی آندھی چل رہی ہے، تیجسوی اکیلے 12-12 ریلیاں کر رہے ہیں، کورونا اور سیلاب کے مارے لوگوں کے لئے فلاح کی باتیں کر رہے ہیں۔ بے روزگاری دور کرنے کا اعلان کر رہے ہیں اور عوام کو اپنے عزم و حوصلے کا آئینہ دکھا رہے ہیں۔ لالو جی جیل میں ہیں، ان کی غیرموجودگی بھی بہار کے لوگوں کو حد درجہ محسوس ہو رہی ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی موجودگی این ڈی اے کیلئے جتنی نقصاندہ نہیں ہوتی، اس سے کہیں زیادہ ان کا جیل میں رہنا این ڈی اے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ بہار کے عوام کو یہ احساس ہے کہ مظلوموں، دلتوں اور اقلیتوں کو حوصلہ اور زبان دینے والے لالو پرساد سیاسی انتقام کے تحت جیل میں ہیں۔ یہی احساس و ہمدردی تیجسوی کی طاقت بن رہی ہے۔ تیجسوی نے اعلان کیا ہے کہ 9 نومبر کو لالو پرساد جی رہا ہوں گے اور 10 نومبر کو نتیش کی حکومت کی وداعی ہوگی اور بہار میں پریورتن کا نیا دور شروع ہوگا، بقول احمد فرازـ:

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

([email protected])

محاسبہ………………………………………………………………………………………سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close