تازہ ترین خبریںمحاسبہ

ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

محاسبہ…………….سید فیصل علی

17 اکتوبر کو حسب روایت فرزندازن مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے سر سید احمدخاں کے یوم پیدائش پر ’ایس ایس ڈے‘ کا اہتمام کیا۔ دہلی سمیت ملک کے گوشے گوشے میں سرسید کی خدمات کا اعتراف کیا گیا، اس موقع پر ملت کے تئیں ان کے مشن کو پورا کرنے کا عزم بھی کیا گیا۔ لیکن کیا یہ عزم محض ایک دن کا عزم ہوکر خاموش ہو جائے گا؟ حالانکہ اے ایم یو میں اس کے قیام کی صدسالہ تقریبات کی تیاریاں بھی زوروں پر ہیں اور اکتوبر کا مہینہ تو اے ایم یو کے اولڈ بوائز کی تقریبات کا ہی مہینہ ہے، ایسے موقع پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت میں نہ صرف جدید تعلیم کی راہیں ہموار کرنے کی حکمت عملی کی جائے، بلکہ اے ایم یو کے اولڈ بوائز مقابلہ جاتی امتحانوں میں مسلم بچوں کی کامیابی کے لئے ہر بڑے شہر میں دوچار کوچنگ سینٹر بھی قائم کریں تو یہ عمل سرسید کے مشن کو بڑی تقویت دے گا۔ خاص کر مسلم بچیوں کے لئے بھی اعلیٰ تعلیمی اداروں کی قیام کا منصوبہ سازی ہو تو یہ بھی سرسید کے خوابوں کی ایک تعبیر ہوگی۔ کیونکہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی کی ضوء پورے سماج کی تعلیمی تیرگی کو زائل کرنے میں اہم رول اداکرے گی۔ ملت کی رگوں میں حصول علم سے دلچسپی کی لہر دوڑانے کا سعی پیہم سرسید کے مشن کا محور بھی ہے اور سرسید کا سب سے بڑا پیغام جہاں مسلمانوں میں تعلیم کی روشنی پھیلانا ہے، وہیں قوم کو جذباتی بھونر سے نکال کر سنجیدگی کی شاہراہ پر گامزن کرنا بھی ہے تاکہ وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ سکے۔
1857 کی پہلی جنگ آزادی جسے متعصب مورخین غدر کے نام سے پکارتے ہیں، وہ دور بھی غضب کا تھا، سرسید نے اسی دور منحوس میں سلطنت مغلیہ کے ٹمٹماتے چراغ کو دیکھا۔ انگریز حکومت کے طلوع ہوتے آفتاب کو دیکھا، نئے زمانے کی روشنی میں جس طرح مسلمان معتوب کئے گئے، وہ سرسید کی نظروں کے سامنے ہوا، انگریزوں کی مخالفت کی پاداش میں مسلمانوں کی پامالی بھی تاریخ کا ایک ایسا المناک باب ہے، جو ہمیں درس عبرت بھی دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کی حب الوطنی پر چوٹ پہنچانے والوں کو بھی آئینہ دکھاتا ہے۔ چنانچہ سرسید پر اس دلسوز منظرنامہ کا جو اثر ہوا، اس نے سرسید کو ایک ریفارمر اور انکو مفکر کے روپ میں بدل دیا۔ سرسید نے بڑی دانشمندی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے جو حکمت عملی بنائی وہ تریاق ثابت ہوئی، وہ مسلمانوں کو زمانے میں معتبر بنانے کے لئے جدید علم حاصل کرنے کی تلقین کرنے لگے، قوم کو لکیر کا فقیر بنے رہنے، پدرم سلطان بود کے زعم سے نکالنے کی سعی کرنے لگے۔ وہ اس سچائی سے پوری طرح واقف تھے کہ مسلمانوں کو جذباتی بھونر سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لانے میں ہی ان کی فلاح ہے، گرچہ یہ ایک انتہائی کٹھن مرحلہ ہے، کیونکہ جو قوم انگریزی تعلیم کو مذہب پروار سمجھتی تھی، کالج کی تعلیم کو بے حیا ماحول سے تعبیر کرتی تھی، لڑکیوں کی تعلیم کی بات پر تو پورے مسلم معاشرے کی پیشانی تمتما جاتی تھی، اسی دور میں سرسید نے تعلیمی مرکز قائم کرنے کا جو بیڑا اٹھایا وہ کسی عام انسان کی نہیں، بلکہ کسی لیجنڈ ریفارمر کے حوصلے کی بات تھی۔ سرسید کو قوم کو سمجھانے بجھانے کی پاداش میں کیا کیا نہ جھیلنا پڑا۔ سرعام گالیاں سنی پڑیں، ان پر تھوکا گیا، حتیٰ کہ انہیں کافر تک قرار دیا گیا، لیکن وہ بددل نہیں ہوئے۔ تمام تر لعن طعن، مسائل اور تنگ نظر ماحول کے باوجود انہوں نے 24 مئی 1875 کو دینی وعصری تعلیم کے لئے مدرسةالعلوم کی بنیاد رکھی، یہ مدرسہ 1877 میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں تبدیل ہوگیا، پھر سرسید کے دانشگاہ علم و فن کا دائرہ وسیع تر ہوتا گیا۔ 27 اگست 1920 کو مسلم یونیورسٹی بل پیش کیا گیا۔ 9 ستمبر 1920 کو یونیورسٹی بل منظور ہوگیا۔ 14 ستمبر 1920 کو اس بل کو گورنر جنرل کی منظوری مل گئی، یکم ستمبر 1920 کو اے ایم یو کا قیام عمل میں آگیا اور 17 ستمبر 1920 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں باضابطہ افتتاح ہوا۔ اے ایم یو کی 100 سالہ عظیم تعلیمی تاریخی دور نہ صرف سرسید اور ان کے رفقاء کی جدو جہد کا ثمرہ ہے، بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ مسلمانوں کا اتحاد اس وقت تک بیکار اور بے مصرف ہے، جب تک اس اتحاد سے ذاتی مفاد، جذباتی افکار نکال نہ دیئے جائیں اور سنجیدہ فکر وشعور کے افراد شامل نہ ہوں۔ آج کا دور بھی مسلمان ہند کی جذباتیت اور بے مصرف اتحاد کا منظرنامہ ہے اور ہر میدان میں مسلمانوں کو ناکام بنانے کا سبب بن رہا ہے۔
سرسید ڈے کے موقع پر ہمیں یہ عزم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم جذباتی فکر وخیال سے نکل کر سنجیدگی کے ساتھ قوم وملت کی ترقی کا لائحہ عمل طے کریں، کیونکہ آج کا دور بھی مجھے اسی دورکشاکش کی یاد دلاتا ہے، جب انگریزوں نے مسلمانوں کو بے وقعت سمجھ لیا تھا۔ آج کے دور میں بھی مسلمان بے وقعت ہیں۔ نام نہاد ہندوتو کے علم بردار فرقہ پرستی اورنفرت کی بساط بچھاکر مسلمانوں کو حاشیہ پر ڈالنے میں کامیاب ہوچکے ہیں، انہیں اپنی اکثریتی قوت پر بڑا گمان ہے، نتیجہ یہ ہے کہ ایوان اقتدار وسیاست سے لے کر ہرشاہراہ حیات میں نفرت، تعصب، حقارت کے قمقمے جلے ہوئے ہیں، اب مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے، ایسے نازک دور میں ہمیں بڑی سنجیدگی اور تحمل کے ساتھ اس زہریلی روشنی میں چلنا ہے اور اپنی ترقی کی راہیں نکالنا ہے۔ ذرا سی جذباتی حماقت اور اشتعال فرقہ پرست قوتوں کو نہ صرف موقع فراہم کرے گی، بلکہ ہمیں مزید پیچھے دھکیل دے گی۔
بہار میں اسمبلی انتخاب مسلمانوں کے لئے ایک بڑاچیلنج ہے۔ گزشتہ الیکشن میں بہار کے سیکولر عوام اورمسلمانوں نے ہندوتو کے بڑھتے قدم کو روک دیا تھا۔ لالواورنتیش کی جوڑی کو تاریخ ساز جیت سے ہمکنار کیا تھا، لیکن نتیش بی جے پی کی گود میں جا بیٹھے، اس دغابازی کا صدمہ ہرذی شعور کو ہے۔ علاوہ لاک ڈاؤن کے ناگفتہ حالات، لاکھوں مزدوروں کی بہار واپسی، کورونا کی یلغار، سیلاب کی مار، لاکھوں بے روزگار اور بھکمری کے شکار بہار کے عوام کی کسی کو پراہ نہیں ہے۔ بہار کے عوام کاغم وغصہ لازمی ہے، مگر اس غصے کو دبانے کے لئے بہار میں پھر جذباتی ایشو کا جادو جگایا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ این ڈی اے کی سرکار نہیں بنی تو کشمیر سے آتنک وادی آجائیں گے۔ حالانکہ گزشتہ الیکشن میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ بہار میں مہاگٹھ بندھن کی جیت سے پاکستان میں پٹاخے پھوٹیں گے، لیکن بہار کے عوام نے دانشمندی کا ثبوت دیا، فسطائیت کو شکست دی لیکن نتیش کمار خود فسطائیت نوازوں کی چھترچھایا میں چلے گئے، چنانچہ این ڈی اے کو امید ہے کہ وہ ایک بار پھر بہار میں سرکار بنائے گی، اس کی امیدیں اویسی سے وابستہ ہیں، کیونکہ ان کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے بہار کے 25 مسلم اکثریتی حلقوں میں امیدوار کھڑے کئے ہیں، یہ مسلم اکثریتی حلقے بادشاہ گر کہلاتے ہیں، بی جے پی کو امید ہے کہ ان حلقوں میں مسلم ووٹ کے بکھراؤ سے ان کے اقتدار کا چراغ روشن ہوگا۔ حالانکہ یہ بی جے پی کی خوش فہمی ہے، معاملہ اس کے برعکس ہے، بہار کا دباکچلا طبقہ، پچھڑے، دلتوں اورمسلمانوں کی نظریں ایک بار پھر لالوکی طرف ہیں، جو جیل میں بند ضرورہیں، لیکن ان کی آواز بن کر تیجسوی یادو مہاگٹھ بندھن کی قیادت کر رہے ہیں۔ گزشتہ الیکشن کی طرح اس بار بھی بہار میں فرقہ پرست قوتوں کو نہ صرف جھٹکالگے گا، بلکہ قومی سطح پر بھی ہندوتو پر مبنی ایوان اقتدار وسیاست کے درودیوار ہل جائیں گے۔ مجھے ایسے نازک موقع پر سرسید کے چمن سے ابھرے پھولوں سے امید ہے کہ وہ بہار کے میدان میں اپنے تہذیبی شعور کی خوشبو پھیلائیں گے، وہ قوم کو جذباتی ایشوکے گردآب سے نکالنے کی سعی کریں گے۔ سرسید نے ہندو اور مسلمانوں کو دو آنکھوں سے تشبیہ دی تھی، وہ اس پیغام کے تحت بہار میں مہاگٹھ بندھن کی سرکار بنانے کے لئے ضرور سرگرم ہوں گے۔ مسلم ووٹوں کو بکھیرنے کی سازش کو ناکام بنائیں گے۔
میں ایک بار پھر سرسید کی خدمات و پیغامات وعظمت کو سلام کرتے ہوئے ملت کے فرزند شعیب آفتاب کو بھی مبارکباد دیتا ہوں۔ 15 لاکھ امیدواروں کے درمیان شعیب NEET میں نہ صرف ٹاپر ہوئے ہیں، بلکہ 720میں 720 نمبرات حاصل کرکے جو تاریخ رقم کی ہے، وہ دراصل سرسید کے مشن کو بھی جلا بخشتی ہے۔ بقول منظور ہاشمی:
یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

([email protected])

محاسبہ………………………………………………………………………………………سید فیصل علی

 

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close