تازہ ترین خبریںمحاسبہ

یہ اِک چراغ کئی آندھیوں پہ بھاری ہے

محاسبہ…………….سید فیصل علی

لالو پرساد کو ضمانت تو مل چکی ہے، لیکن رہائی نہیں ملی، کیونکہ ان پر ایک اور معاملہ زیرسماعت ہے، جس کی سماعت اور 50 فیصد سزا پوری ہونے پر ہی وہ جیل سے باہر آ سکتے ہیں، اس کے لئے انہیں 9 نومبر تک انتظار کرنا پڑے گا، یعنی لالو پرساد بہار کے اسمبلی الیکشن کے جلسوں میں شریک نہیں ہو سکیں گے اور اس وقت تک جیل میں رہیں گے جب تک کہ الیکشن ہو نہیں جاتے۔ سو آج ہرذی شعور یہی سوچ رہا ہے کہ لالو پرساد کو سیکولر نوازی کی سزا مل رہی ہے۔ دلتوں، پچھڑوں، مظلوموں، اقلیتوں کو زبان دینے والے لالو اگر جیل سے باہر ہوتے تو قومی سیاست کا منظرنامہ دوسرا ہوتا۔ سیکولرزم، جمہوریت، گنگا جمنی تہذیب، ہندو-مسلم دوستی کو آلودہ کرنے والوں کی خیر نہیں ہوتی۔ خاص کر دلتوں اور مسلمانوں کو جس طرح ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے، اس ذلت کیخلاف لالو کی دہاڑ ضرور فرقہ پرستوں کو دہلا دیتی۔ وقت ہر بساط کو الٹنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اب بہار کی اقتدار وسیاست کو بھی الٹنے کا انتظام قدرت نے کر دیا ہے۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ کورونا، لاک ڈاؤن، سیلاب، بے کاری، پردیس سے آئے لاکھوں لوگوں کی بے روزگاری پر سرکار کی بے حسی سے پریشان بہار کے عوام کی آنکھوں میں ایک خاموش طوفان نظر آ رہا ہے، لیکن اب یہ خاموشی کا پیمانہ چھلک رہا ہے، جس کا نظارہ بہار کے اسمبلی انتخابات کی چناوی مہم میں دیکھا جا رہا ہے۔

بہار میں چناوی مہم جوں جوں تیز ہوتی جا رہی ہے، عوامی غصہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ بی جے پی اور جنتادل یو کے ممبران پارلیمنٹ و اسمبلی سے لے کر امیدواروں اور حامیوں کو اپنے حلقوں میں انتہائی فضیحت اور ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہ ووٹ مانگنے کی پاداش میں دوڑائے اور بھگائے جا رہے ہیں، کئی حلقوں میں ووٹ مانگنے والوں کی پٹائی بھی ہو رہی ہے۔ حاجی پور، جنداہا، سیتامڑھی، سمستی پور کے حلقوں میں سرکار کا پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ مانگنا مہنگا پڑ رہا ہے۔ حاجی پور کے جنداہا میں ایم ایل اے امیش کشواہا، سیتامڑھی کے علاقے میں جے ڈی یو بی جے پی ایم ایل اے کندن رام اور دنکر رام کے ساتھ ووٹروں نے جو سلوک کیا ہے، وہ ناقابل تحریر ہے۔ بی جے پی کے ایک ایم پی سے ان کے حلقوں میں جس طرح عوام نے سلوک کیا وہ بھی بہار کی سیاست میں ابال کا نتیجہ ہے۔

نتیش حکومت کے خلاف عوامی غم وغصہ کا عالم یہ ہے کہ ریاستی وزراء بھی اپنے حلقہ انتخاب میں جانے سے خوفزدہ ہیں۔ گزشتہ دنوں ریاستی وزیر تعلیم کرشندند ورما کو ان کے حلقے سے بھگا دیا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ اب کیوں آئے ہو، مصیبت کی گھڑی میں کہاں چھپے ہوئے تھے۔ بہار میں خواتین کا غصہ بھی ساتویں آسمان پر ہے۔ آدھے سال سے لاک ڈاؤن میں حکومت نے کوئی سدھ بدھ نہیں لی، پردیس سے گھر والا جس بے سروسامانی کے عالم میں واپس لوٹا ہے، وہ اس کا بھی چن چن کر بدلہ لیں گی۔ نتیش حکومت کے خلاف جو تازہ ترین سروے آیا ہے، اس کے مطابق 87 فیصد عوام نتیش سے نجات کے خواہاں ہیں۔ لیکن ان تمام زمینی حقائق، عوامی غم وغصہ کو دکھانے کے بجائے گودی میڈیا نتیش کمار کے سات کاموں اور مودی کے دکھائے گئے سپنوں کی بدولت ایک بار پھر بہار میں نتیش کمار کی سرکار بننے کا دعویٰ کر رہا ہے۔

سیاست کا اونٹ کب کروٹ بدل لے! کہا نہیں جا سکتا، لوک جن شکتی پارٹی نے بھانپ لیا ہے کہ بہار میں اینٹی کمبینسی لہر چل رہی ہے، چنانچہ نتیش کی قیادت میں چناؤ نہیں لڑنے کی آڑ میں لوجپا نے خود کو این ڈی اے سے الگ کر لیا۔ چراغ پاسوان پوری قوت سے نتیش کمار کے خلاف مورچہ کھول چکے ہیں اور ان تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کر رہے ہیں، جہاں جے ڈی یو کے امیدوار کھڑے ہوں گے۔ وہ نتیش کمار کے سات کاموں میں گھپلے کا ایشو لے کر نتیش کمار کو اقتدار سے باہر کرنے کی عوام سے اپیل کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ لوک جن شکتی پارٹی کے الگ ہونے سے زیادہ فائدہ آر جے ڈی قیادت والی مہاگٹھ بندھن کو ہی ہوگا۔ لیکن تمام تر حکومت مخالف لہر، سیلاب، کورونا کے حالات، عوام کی شدید ناراضگی کے باوجود بہار میں این ڈی اے کا قلعہ بچانے کی جو حکمت عملی بنائی جا رہی ہے، اس سے بی جے پی مطمئن نہیں ہے۔ وہ نتیش کمار کی قیادت میں چناؤ ضرور لڑ رہی ہے، لیکن اس کا بھروسہ صرف مودی پر ہی ہے، جو بہار میں 22 ریلیاں کریں گے اور عوام کے غصے کو شانت کریں گے۔ لیکن بی جے پی کو سب سے زیادہ اطمینان اور امیدیں اسدالدین کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم سے وابستہ ہیں، جو بہار کے مسلم اکثریتی حلقوں میں امیدوار کھڑے کرے گی تو وہاں کے مسلم ووٹوں کا بکھراؤ ہی بی جے پی کی جیت کا سبب بن سکتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اویسی صاحب جیسے ذی شعور سیاستداں کو گزشتہ الیکشن سے ہی سبق لینا چاہیے تھا جہاں سیمانچل کے مسلمانوں نے پختہ سیاسی شعور کے تحت ان کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرا دی تھیں، مودی کے طوفان میں بھی آر جے ڈی کے ہاتھوں میں فتح کا پرچم تھما دیا تھا، لیکن اویسی ان تمام باتوں سے بے نیاز مسلم ایشو پر کاسۂ ووٹ لے کر مسلم حلقوں میں جا رہے ہیں اور مسلمانوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر انہیں صد فیصد مسلم ووٹ مل بھی گئے تو کیا ان کے امیدوار جیت جائیں گے؟ بھلے ہی ایم آئی ایم نے پپو یادو وغیرہ سے سمجھوتہ کیا ہوا ہے، مگر اویسی کی شدت پسندی کی وجہ سے غیرمسلم بھی انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آرجے ڈی نے ان کی طاقت وسیاست کو اہمیت نہیں دی۔ لیکن ہم اس تلح حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ اگر اویسی نے مسلمانوں کو جذبات کے افیون چٹاکر دوچار فیصد ووٹ بھی حاصل کرلئے تو اس کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ملے گا، کیونکہ اس بار کا الیکشن بڑے کانٹے کا ہوگا، اسی لئے اویسی کو بہار الیکشن میں ووٹ کٹوا کہا جا رہا ہے۔ اس خطاب پر ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی ایسے چراغ پا ہیں کہ وہ آرجے ڈی کو ہی ووٹ کٹوا کہہ رہے ہیں اور اس پر بی جے پی کی حکومت بنانے کا الزام لگا رہے ہیں۔ گرچہ اویسی بخوبی جانتے ہیں کہ آر جے ڈی کے بانی لالو پرساد یادو اپنی سیکولرنوازی کی وجہ سے ہی برسوں سے جیل میں ہیں۔ لالو پرساد جنہوں نے 23 اکتوبر 1990 کو اڈوانی کی رتھ یاترا کو بہار کے سمستی پور میں روک دیا تھا اور انہیں گرفتار کرکے جرأت اور سیکولر جذبے کی عظیم تاریخ رقم کی تھی، اگر لالو پرساد بی جے پی کے تئیں تھوڑا نرم رویہ رکھتے تو آج سلاخوں کے باہر ہوتے، لالو واحد لیڈر ہیں، جنہوں نے کبھی فسطائی قوتوں سے سمجھوتہ نہیں کیا، مگر اویسی صاحب اب لالو کی پارٹی کو ہی ووٹ کٹوا قرار دے رہے ہیں۔ وہ دہائی دے رہے ہیں کہ اس پارٹی نے مسلمانوں کے لئے کبھی کچھ نہیں کیا۔ ان کو اقتدار میں حصہ دار نہیں بنایا، آر جے ڈی ہی کی وجہ سے بہار میں بی جے پی کی حکومت ہے، مگر ووٹ کٹوا کون ہے! بہار میں کس کی وجہ سے بی جے پی کی حکومت ہے یہ بات بہار کے مسلمان بخوبی جانتے ہیں۔

میں بڑے فخر سے کہتا ہوں کہ بہار کا مسلمان کبھی جذباتی ہتھکنڈوں کا شکار نہیں ہوتا، اس کا خاموش اور پختہ سیاسی شعور بی جے پی کے قدموں میں سدا بیڑیاں ڈالتا رہا ہے، وہ لالو کے دور کو نہیں بھلا سکتا، جہاں لالو نے دلتوں، پچھڑوں اور مسلمانوں کو فسطائی قوتوں کے خوف سے نکالا، انہیں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی زبان جرأت دی۔ لالو پرساد 1990-97 تک بہار کے وزیراعلیٰ رہے۔ انہوں نے پہلی وزارت میں اونچی ذات کے 28 ممبران میں سے 18 کو وزیر بنایا، دو آدیواسی جیت کر آئے تھے، دونوں وزیر بنائے گئے، 22 دلت ممبروں میں 11 کو وزارت ملی، 12 مسلمانوں میں سے 8 وزیر بنے، 69 پسماندہ طبقات کے ممبران میں سے 31 وزیر تھے، لالو یادو کی نشاد یعنی ملاح ذات کے لئے سمان کا جذبہ بھی قابل ستائش ہے۔ کیپٹن جے نارائن نشاد کو مرکز میں وزیر بنوا دیا، ودیا ساگر نشاد کو منتری بنایا، رام آسرے کو بھی وزارت دی، بلدور کے منڈل جی کو راجیہ سبھا بھیجا، لالو کے دور میں بڑی تعداد میں لکچرار کی بحالی ہوئی، اس میں بھی سماجی انصاف کا عزم دکھائی دیا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ تنیش وغیرہ دلتوں، پچھڑوں اور مسلمانوں کو ٹکٹ دینے پر مجبور ہیں۔ بھلے ہی ان کی فلاح کے مواقع کم ملے، لیکن ان میں ہمت وحوصلہ کا جذبہ لالو کی دین ہے اور اسی جذبے کے تحت آج مسلمان اقتدار میں حصہ داری کے دعویدار ہیں۔ آنکڑوں کا یہ سچ آر جے ڈی دور کے دلت، پچھڑا اور اقلیت کو اقتدار میں حصہ داری اور احترام کا ایک ایسا ائینہ ہے، جس میں لالو کا سیکولر قد مزید بلند نظر آتا ہے۔ لیکن جب کسی کے پاس کوئی ایشو نہیں ہوتا، عوامی طاقت نہیں ہوتی تو وہ جذباتی ایشو کو سامنے لاتا ہے، جھوٹ کے پٹارے کھولے جاتے ہیں، نفرت کے زہریلے سنپولئے نکالے جاتے ہیں، آج بھی وہی سب چل رہا ہے۔ لالو کی سیکولر نوازی، لالو حکومت کو بدنام کرنے کی سیاست جاری ہے، ان پر یادو نوازی کا الزام بھی لگایا جاتا ہے، لیکن یہ پبلک ہے جو سب جانتی ہے۔

لالو پرساد بھلے ہی سلاخوں کے پیچھے ہیں لیکن قدرت کا بھی عجب کرشمہ ہے کہ وہ ایک دروازے بند کرتی ہے تو دوسرا کھول دیتی ہے۔ اب بہار کے عوام کی نظریں تیجسوی یادو کی طرف ہیں، جن کے کندھے پر لالو کے خوابوں کی تکمیل کی ذمہ داری ہے۔ وہ بہار کو بی جے پی کے شکنجے سے نکالنے کے لئے لالو پرساد کی آواز اور طاقت بن کر چناوی مہا بھارت میں ہیں اور آر جے ڈی کانگریس مہاگٹھ بندھن کی فتح یاب کرانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایسی نازک گھڑی میں اگر بہار کے مسلمانوں نے اسی سیاست سے کام لیا جس سیاست کا استعمال سیمانچل کے مسلمانوں نے کیا تھا تو یقینا بہار میں بی جے پی کے اقتدار کا دوبارہ سورج طلوع نہیں ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ لالو پرساد الیکشن کے بعد ہی سہی جیل کی بند کوٹھری سے باہر آئیں گے، پھر نئی سیاست کا چراغ روشن ہوگا، پھر دنیا بھی دیکھے گی کہ فسطائی سیاست کا پانسہ کیسے پلٹا ہے، بقول شاعر:

دعا کرو کہ سلامت سدا رہے ہمت
یہ اِک چراغ کئی آندھیوں پہ بھاری ہے

([email protected])

محاسبہ………………………………………………………………………………………سید فیصل علی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close