اپنا دیشتازہ ترین خبریں

سری نگر میں تصادم، پاکستانی کمانڈر سمیت دو جنگجو ہلاک

سری نگر، (یو این آئی)
جموں و کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے رام باغ علاقے میں پیر کی صبح سکیورٹی فورسز نے ایک جنگجو مخالف آپریشن کے دوران ایک پاکستانی اعلیٰ کمانڈر سمیت لشکر طیبہ کے دو جنگجوئوں کو ہلاک کیا۔ طرفین کے درمیان تصادم کی وجہ سے چند رہائشی ڈھانچے خاکستر ہوئے ہیں۔ تاہم اس میں سکیورٹی فورسز یا عام شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان نے مہلوک جنگجوئوں کی شناخت لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر سیف اللہ ساکن پاکستان اور ارشاد احمد ڈار عرف ابو اسامہ ساکن پلوامہ کے طور پر ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ارشاد احمد گذشتہ برس مئی سے سرگرم تھا وہیں سیف اللہ نے اسی سال کے اوائل میں سرحد کے اس پار دراندازی کی تھی۔
پولیس ترجمان کے مطابق دونوں جنگجوئوں کو خود سپردگی اختیار کرنے کی پیشکش کی گئی تھی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تصادم کی جگہ سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے تصادم کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوؤں کے چھپنے کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر جموں وکشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی ایک مشترکہ ٹیم نے پیر کی علی الصبح سری نگر کے رام باغ علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ جوں ہی تلاشی آپریشن کی ایک ٹیم مشتبہ مقام کے نزدیک پہنچی تو وہاں پناہ گزیں جنگجوؤں نے ان پر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان تصادم چھڑ گیا۔

پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں رام باغ علاقے میں پیر کی صبح ہونے والے تصادم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ‘اس تصادم کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں لشکر طیبہ کا پاکستانی کمانڈر سیف اللہ مارا گیا جو تین بڑے حملوں میں شامل تھا’۔ انہوں نے کہا کہ سیف اللہ بڈگام کے چاڈورہ میں سی آر پی ایف پر ہونے والے حملے میں شامل تھا جس میں سی آر پی ایف کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہلاک ہوا تھا اور ماہ رواں کی سات تاریخ کو کنڈی زال پانپور میں سی آر پی ایف پر ہونے والے حملے، جس میں دو اہلکار ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے تھے، میں بھی سیف اللہ شامل تھا اور نوگام کے بغل میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے جس میں پولیس کے دو اہلکار ہلاک ہوئے تھے میں بھی سیف اللہ شامل تھا۔

قبل ازیں کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے جائے تصادم آرائی پر نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ اس انکاؤنٹر میں لشکر طیبہ سے وابستہ پاکستانی کمانڈر سیف اللہ اور ایک مقامی جنگجو پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف اللہ حالیہ پانپور حملے، جس میں سی آر پی ایف کے دو اہلکار ہلاک جبکہ دیگر تین زخمی ہوئے تھے، کے علاوہ چاڈورہ میں سیکورٹی فورسز پر ہوئے حملے میں بھی ملوث ہے۔ موصوف کا مزید کہنا تھا کہ سیف اللہ اسی سال پاکستان سے کشمیر آیا تھا اور پہلے شمالی کشمیر میں سرگرم تھا اور گذشتہ دو ماہ سے وسطی کشمیر میں سرگرم تھا۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close