تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

’میڈیا ٹی آر پی کیلئے مسلمانوں کو کر رہی ہے بدنام‘

مولانا مفتی مکرم نے بے لگام بھگوا میڈیا پر عدالتوں کی کاروائی کا کیا خیر مقدم

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شاہی فتح پوری مسجد کے امام ڈاکٹر مفتی مکرم نے آج نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں ملک کی فرقہ پرست بے لگام میڈیا پر عدالتوں کی کاروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے آج کہاکہ میڈیا کی گائڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے اور ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے جیسے معاملات عام ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کچھ میڈیا کے اینکر مخصوص فرقہ کو بدنام کرکے اپنی ٹی آر پی بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ٹی وی پر مباحثے ہوتے ہیں ان میں بھی کسی نہ کسی انداز میں مخصوص اقلیتی فرقہ یعنی مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا ہے۔ فرقہ پرستانہ جذبات کو اتنا بھڑکا دیا جاتا ہے کہ عوام اپنے سب دُکھ بھول کر ہندو مسلم نفرت میں مست ہو جاتے ہیں۔ بے لگام میڈیا کیلئے عدالتوں نے حال میں جو کارروائی کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔

مفتی مکرم نے کہاکہ سُدرشن ٹی وی کے خلاف سپریم کورٹ نے روک لگائی ہے اور حال ہی میں جمعیۃ علماء ہند کی شکایت پر دہلی ہائی کورٹ نے ری پبلک ٹی وی کے خلاف فیصلہ سنایا اور حکومت سے جواب مانگا ہے۔ ملک میں امن برقرار رکھنے کیلئے میڈیا میں سُدھار آنا بہت ضروری ہے ورنہ لنچنگ کے واقعات ایسے ہی ہوتے رہیں گے اور ملک بدنام ہوتا رہے گا۔ بدلتے ہوئے حالات میں مستعد رہنے کی ضرورت ہے۔

مفتی مکرم نے کہاکہ ٹائم میگزین نے شاہین باغ کی ایک دادی کو 100 بااثر لوگوں میں شامل کرکے ایک طرح سے سی اے اے کیخلاف پُرامن مظاہرہ کرنے والوں کی درپردہ حمایت کی ہے۔ جو لوگ پُرامن رہ کر آئین کو ہاتھ میں اٹھائے قانون کے دائرہ میں رہ کر احتجاج کر رہے تھے آج انہیں قسم قسم کے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے یہ بہت افسوس کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ مظلوموں کی آہ ہر طرف سنی جا رہی ہے۔ ان شاء اللہ تعالی ظلم کا دور بھی ختم ہوگا، دعا کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر مفتی محمد مکرم نے اپنے خطاب میں کہاکہ االلہ کا حکم ہے ’اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو‘۔ اس پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اتحاد میں طاقت ہے اور انتشار میں پسپائی ہے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے حکمت عملی کے ساتھ کامیابی کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close