تازہ ترین خبریںدلی نامہ

ہاتھرس گینگ ریپ کے خلاف راجدھانی میں زبردست احتجاج

وجے چوک پر کانگریس کا مظاہرہ، پولیس نے کانگریسی لیڈران اور دہلی مہیلا کانگریس کی صدر کو لیا حراست میں ٭ اسپتال میں دھرنے پر بیٹھے بھیم آرمی لیڈر چندر شیکھر آزاد ٭ سیاسی لیڈران کی متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
اتر پردیش کے ہاتھرس میں اجتماعی آبروریزی کی شکار ہوئی دلت سماج کی دو شیزہ تقریباً 15 دنوں سے زندگی اور موت کی جنگ لڑتے ہوئے اسپتال میں زندگی کی لڑائی ہار گئی۔ متاثرہ کی دہلی کے اسپتال میں موت ہو جانے کے بعد راجدھانی میں لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا ہے۔ اجتماعی عصمت دری کی شکار دو شیزہ کی موت پردلت سماج کے ساتھ کانگریسی کارکنان سڑکوں پر اتر ا ٓئے ہیں اور مہیلا کانگریس کی جانب سے وجے چوک اور اسپتال پر احتجاج کیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ 14 ستمبر کو اجتماعی عصمت دری کے بعد دوشیزہ کی زبان کاٹ دی گئی تھی اور اس کی ریڑھ کی ہڈی بھی توڑی گئی تھی۔ متاثرہ کی موت کے بعد پوسٹ مارٹم کیا گیا، ساتھ ہی فورنسک ماہرین نے بھی جانچ کی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متاثرہ کی زبان نہیں کاٹی گئی تھی بلکہ متاثرہ لڑکی کی زبان کو زخمی کیا گیا ہے۔

ادھر متاثرہ کی موت کی خبر پر اسپتال پہنچے بھیم ا ٓرمی کے چیف چندر شیکھر آزاد ’راون‘ اس انسانیت سوز واقعہ کے خلاف انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے وہیں اسپتال کے احاطے میں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ بھیم آرمی کے متاثرہ اہل خانہ سے ملاقات کے بعد وہاں ہنگامہ برپا ہو گیا اور بھیم آرمی کے کارکنان نے دونوں طرف سے سڑک جام کر دی، جس سے رنگ روڈ پر ٹریفک جام کی صورت حال پیدا ہوگئی تاہم کچھ دیر کے بعد راستہ کھلوا دیا گیا۔

اجتماعی عصمت دری کا شکار متاثرہ کی موت پر کانگریس کے لیڈران کی قیادت میں ہوئے احتجاجی مظاہرہ میں دہلی مہیلا کانگریس کی صدر امرتا دھون کی قیادت میں وجے چوک پر کانگریس کی خواتین کارکنان نے احتجاج کیا۔ خاتون مظاہرین کے غصے کی شدت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے دہلی خواتین کانگریس کی صدر امریتا دھون سمیت متعدد خاتون مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اس کے علاوہ دیگر کانگریسی مظاہرین سابق ایم پی ادت راج، سابق ایم ایل اے ویر سنگھ دھینگان سمیت متعدد کانگریسی مظاہرین لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے حراست میں لیا اور بس میں بھر کر لے گئی۔

سابق ممبر پارلیمنٹ اور کانگریس لیڈر ادت راج نے کہاکہ یوگی اور مودی حکومت میں دلتوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ ادت راج نے کہاکہ متاثرہ لڑکی کو انصاف ملنا چاہئے اور اس طرح کے معاملات پر سخت قانون آنا چاہئے۔ دہلی مہیلا کانگریس کی صدر امریتا دھون نے کہاکہ مودی اور یوگی کی حکومت میں ظلم و تشدد کی تانا شاہی چل رہی ہے۔ یوگی حکومت میں مسلسل خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، ملک میں یہ ظلم ہم چلنے نہیں دیں گے اور اس کے خلاف آخری سانس تک کانگریس لڑے گی۔ ادت راج سمیت دہلی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر راکھی بڑلان، دہلی کے وزیر راجندر پال گوتم اور ’آپ‘ ترجمان سوربھ بھاردواج بھی متاثرہ کے اہل خانہ سے ملنے اسپتال پہنچے۔ ساتھ ہی سابق مرکزی وزیر جتن پرساد نے بھی متاثرین سے ملاقات کی۔ ’آپ‘ ایم ایل اے سوربھ بھاردواج، راکھی بڑلان اور وزیر راجندر پال گوتم نے کہاکہ اتر پردیش میں قانون کا نظام خستہ حال ہے۔ یوگی حکومت ایک خاص ذات کیلئے کام کر رہی ہے اور دوسری ذات کے لوگوں پر ظلم کر رہی ہے۔

ادھر عصمت دری کی شکار ہوئی دوشیزہ کے اہل خانہ نے ان کے کنبے کو تحفظ فراہم کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے امدادی رقم کے طور پر ایک کروڑ روپے اور کنبہ کے ایک ممبر کو سرکاری ملازمت دیئے جانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اسپتال انتظامیہ پر غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کسی اور جگہ پوسٹ مارٹم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ کنبے کے افراد کا کہنا ہے کہ کسی ایک مرکزی وزیر کو بھی یہاں آکر انہیں انصاف کی یقین دہانی کرانی چاہئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close