اپنا دیشتازہ ترین خبریں

راہل گاندھی کی ’کھیتی بچاؤ یاترا‘ کے آگے جھکی کھٹر سرکار

نئی دہلی، (پی این این)
بلآخر راہل گاندھی کے کھٹر سرکار جھک گئی ہے اور انہیں ہریانہ میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی پنجاب میں اپنی تین روزہ ’کھیتی بچاؤ یاترا‘ کو ختم کرنے کے بعد ہریانہ پہنچے تھے کہ انہیں سرحد پر روک دیا گیا۔ گھنٹوں پابندی اور ہائی وولٹیج ڈرامہ کے بعد کھٹر سرکار نے راہل گاندھی سمیت کئی لیڈروں کو ہریانہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔ لیکن شرط یہ لگا دی کہ راہل گاندھی اپنے ساتھ آئے سینکڑوں کسانوں کے ساتھ ریلی نہیں کریں گے۔ اس سے قبل ٹریکٹر ریلی میں شامل لوگوں سے پولیس کی جھڑپ بھی ہوئی۔ کیونکہ پولیس نے ٹریکٹر ریلی کو روکنے کیلئے زبردست بیرکیڈنگ کی تھی جس کو توڑنے کیلئے ریلی میں شامل لوگوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ لیکن پولیس نے معاملہ بڑھنے نہیں دیا اور بلآخر راہل گاندھی کو آگے بڑھنے کی اجازت دے دی گئی۔

غورطلب ہے کہ راہل گاندھی کسان قانون کے خلاف ٹریکٹر ریلی کے ذریعہ کھیتی بچاؤ یاترا پر نکلے ہیں وہ ہریانہ سرحد پر پہنچے تھے کہ پولیس نے روک دیا۔ اس سے قبل ہریانہ سرکار نے اعلان کیا تھا کہ ریلی کی وجہ سے ماحول خراب ہوگیا اس لئے اجازت نہیں دی جائے گی۔

اطلاع کے مطابق راہل گاندھی ہریانہ میں اپنے دوروزہ یاترا کے دوران یہاں کے کسانوں سے ملیں گے انہیں خطاب کریں گے، کروچھیتر میں شب گزاری ہوگی، پھر کل بدھ کو پیپلی کے کسانوں سے ملیں گے۔ پیپلی میں زرعی قانون کے خلاف مظاہرین پر پولیس نے لاٹھی چارچ کیا تھا۔ اس کے بعد راہل نیلوکھیڑی اور کرنال کا دورہ کرکے دلی لوٹ جائیں گے۔ خاص بات تو یہ بھی ہے کہ پٹیالہ کے نرنول میں اپنی آخری ریلی ختم کرنے کے بعد راہل گاندھی خود ٹریکٹر چلا کر ہریانہ سرحد پر پہنچے ان کے ساتھ ٹریکٹر پرپنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ، پنجاب کانگریس کے صدرسنیل جاکھڑ، سینئر رہنما ہریش راوت وغیرہ بھی موجود تھے۔

اس دوران راہل گاندھی نے کہاکہ کسانوں کے خلاف جو قوانین وزیر اعظم نے بنائیں ہیں یہ کاشتکاری اور خوراک کی حفاظت کے موجودہ ڈھانچے کو تباہ کرنے کا طریقہ ہے۔ یہ کسانوں پر حملہ ہے اور ہم اس حملے کو روکیں گے، ان قوانین کے خلاف لڑیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ان قوانین سے فائدہ ہوتا تو پھر پارلیمنٹ میں ان پر بحث کیوں نہیں کرائی گئی، اگر کوئی فائدہ ہے تو پھر کورونا مہاماری کے وقت جلد بازی میں کیوں منظور کرایا گیا۔ اگر منڈیاں بند کر دی گئیں تو ان میں کام کرنے والوں کا کیا ہوگا؟

ہاتھرس جانے کے دوران ان کے ساتھ ہوئی ہاتھاپائی پر راہل گاندھی نے کہا، پورے ملک کو دھکے دیئے جا رہے ہیں، مارا جا رہا ہے، پیٹا جا رہا ہے۔ اگر مجھے تھوڑا سا دھکا لگا تو کیا بڑی بات ہے۔ ایسی حکومت ہے اگر ہم کھڑے ہوں گے تو دھکا لگے گا، لاٹھی پڑے گی ٹھیک ہے کھا لیں گے دھکا، کیا بڑی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کا بیٹا یا بیٹی مارا جاتا ہے تو اس کے والدین کو بند کر دیا جائے، ڈرایا جائے کہ سب چلے جائیں گے، ہم بچیں گے! اسی وجہ سے میں ہاتھرس گیا، کنبہ کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری تھا۔

اس دوران ملک بھر سے آئے کسان تنظیموں کے کسان برنالہ روڈ واقعہ ڈپٹی وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ کی رہائش کا گھیرائو کیا۔ حالانکہ ہریانہ کے ڈپٹی وزیر اعلیٰ کی رہائش پر سخت سیکورٹی تھی۔ اس موقع پر پتھر بازی بھی ہوئی، پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور کسانوں کو وہاں سے ہٹنے پر مجبور کیا۔ کھٹر حکومت کے خلاف کسانوں نے نعرے بازی کی اور سڑک جام کی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close