اپنا دیشتازہ ترین خبریں

انڈونیشیائی تبلیغی جماعت: عدالت سے 12 افراد باعزت بری

ممبئی۔ (یو این آئی)
انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت سے وابستہ 12 افراد جن پر پاسپورٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے غیر قانونی طریقہ سے ہندوستان میں داخل ہونے، کرونا وائرس پھیلانے، اقدام قتل دفعہ 307 اور دفعہ (2) 304 انڈین پینل کورڈ دفعہ 14 اور سیکشن کوڈ 19 سینٹرل ایکٹ کے الزام میں گرفتار انڈونیشائی جماعت کے تمام افراد کو ممبئی کی مقامی باندرہ عدالت نے باعزت بری کر دیا ہے اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔

باندرہ عدالت کے جج جے دیو وائی گھلے کے ذریعہ انڈونیشائی جماعت کے ساتھیوںکی با عزت رہائی کا فیصلہ آنے کے بعد ممبئی تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں نے راحت کی سانس لی اور خدائے وحدہ لا شریک کا شکر ادا کیا کہ بیرونی جماعت کے بے گناہ ساتھیوں کو اذیت ناک سزاء سے نجات ملی۔ تفصیلات کہ 29 مطابق فروری 2020 کو تبلیغی جماعت کے طریقہ کار کو دیکھنے کے لئے انڈونیشا کا ایک وفد (جن میں 6 مرد اور 6 خواتین شامل تھیں) انڈیا کے مرکز نظام الدین دہلی آیا چند دن قیام کے بعد 6 مارچ کو انڈو نیشاء کا وہ وفد بذریعہ ٹرین ممبئی پہونچا اور نوی ممبئی کے مختلف علاقوں میں قیام پذیر رہا، ملک میں اچانک لاک ڈائون کے اعلان اور پھر مرکز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انہیں حراست میں لے کرکے باندرہ میں کورنٹائن کر دیا گیا تھا، ان کا ٹسٹ کرایا گیا جن میں سے 10 لوگوں کی رپورٹ نگیٹیو آئی، کورنٹائن کی مدت مکمل ہوتے ہی پولیس نے انہیں گرفتار کرکے ان پر مختلف الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ جمعیۃ لیگل سیل نے ممبئی سیشن کورٹ نے ان کی ضمانت بھی منظور کرائی تھی۔

کرناٹک، ممبئی ہائی کورٹ( اورنگ آباد اور ناگپو بنچ) کا تبلیغی جماعت کے حق میں تاریخی فیصلہ آنے کے بعد مذکورہ بالاعدالتوں کے فیصلوں کو بنیاد بناتے ہوئے انڈونیشائی جماعت کے 12 افراد پر ممبئی میں دائر کردہ مقدمات کو ڈسچارج کرنے کے لئے باندرہ عدالت میں درخواست داخل کی گی تھی دفاع کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں باندرہ کورٹ میں جو چارج شیٹ داخل کی تھی وہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھی اس میں لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد تھے اور کوئی ایسا خاطر خواہ ثبوت نہیں تھا جس کی وجہ سے تبلیغی جماعت کے اراکین کو قصور وار ٹھرایا جا سکے

آج عدالت نے جمعیۃ علما مہاراشٹر کی جہد و مسلسل اور کوششوں کے نتیجہ میں ان احباب کی باعزت رہائی عمل میں آئی اور کیس کو بنیادی طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جا نب سے اس مقدمہ کی پیروی جمعیۃ لیگل سیل کے سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کی نگرانی میں ایڈوکیٹ عشرت علی خان و دیگر کر رہے تھے۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close