اپنا دیشتازہ ترین خبریں

ہاتھرس معاملہ انتہائی سنگین: سپریم کورٹ

ہاتھرس معاملے میں سماعت 12 اکتوبر تک ملتوی، اترپردیش حکومت سے کچھ نقطوں پر سوال

نئی دہلی، (یو این آئی)
سپریم کورٹ نے اترپردیش کے ہاتھرس کے مبینہ اجتماعی ریزی اور قتل معاملے میں ریاستی حکومت کو کچھ نقائط پر حلف نامہ دائر کرنے کی منگل کو ہدایت دی اور سماعت ایک ہفتے کے لئے ٹال دی۔

چیف جسٹس شرد اروند بوبڑے کی صدارت والی بینچ نے ریاستی حکومت سے حلف نامہ دے کر یہ بتانے کو کہا کہ وہ معاملے کے گواہوں کی حفاظت کے لئے کیا قدم اٹھارہی ہے اور کیا متاثرہ کے کنبے نے کوئی وکیل منتخب کیا ہے؟ جسٹس بوبڑے نے کہاکہ وہ یقینی بنائیں گے کہ ہاتھرس معاملے کی جانچ صحیح طریقے سے چلے۔ عرضی گزار کی جانب سے پیش وکیل اندرا جے سنگھ نے دلیل دی کہ متاثرہ کے کنبہ سی بی آئی جانچ کی ریاستی حکومت کی سفارش سے مطمعین نہیں ہے، وہ خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) سے ہی جانچ چاہتا ہے، جس کی نگرانی عدالت خود کرے۔

چیف جسٹس نے کہا،’’ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس معاملے میں عرضی گزاروں کا ’لوکس‘ ہے یا نہیں لیکن ابھی ہم صرف معاملے کی سماعت اس لئے کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک دہلا دینے والا معاملہ ہے۔‘‘ خاتون وکیلوں کی جانب سے کیرتی سنگھ نے بھی کہا کہ یہ دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ اس پر جسٹس بوبڑے نے کہا،’’ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ ہم بھی یہ مانتے ہیں تبھی آپ کو سن رہے ہیں۔ لیکن آپ الہ آباد ہائی کورٹ کیوں نہیں گئیں؟ کیوں نہیں معاملے کی سماعت پہلے ہائی کورٹ کرے، جو بحث یہاں ہو سکتی ہے، وہیں ہائی کورٹ میں بھی ہوسکتی ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہائی کورٹ معاملے کی سماعت کرے؟‘‘

مختلف فریقوں کی دلیل سننے کے بعد عدالت نے کہاکہ اترپردیش حکومت حقائق پر جواب دے کہ کیا گواہوں کے تحفوظ سے متعلق اقدامات کئے جا رہے ہیں؟ اور کیا متاثرہ کے کنبے نے کوئی افرادی وکیل کیا ہے؟عدالت نے کہا کہ ریاستی حکومت اسے ہائی کورٹ میں مقدمے کے حالات کے بارے میں مطلع کرائے۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ وہ جمعرات کو تفصیلی حلف نامہ دائر کردیں گے۔اس کے بعدعدالت نے معاملے کی سماعت ایک ہفتے کےلئے ٹال دی۔

اس سے پہلے، ریاستی حکومت نے صبح میں ہی سپریم کورٹ میں حلف نامہ دائر کرکے کہا تھا کہ ہاتھرس معاملے کے بہانے کچھ میڈیا اہلکار اور سیاسی پارٹیاں ذات اور سماجی بھائی چارے کو بگاڑنے کو کوشش کر رہے ہیں۔ انتظامیہ کو اس بات کی خفیہ معلومات تھی کہ بڑی تعداد میں کچھ سیاسی پارٹیوں کے کارکنان اور کچھ شر پسند عناصر جمع ہونے لگے تھے۔ صبح ذات پات پر مبنی تشدد بھڑک سکتا تھا اور سماجی بھائی چارہ بگڑ سکتا تھا۔ اس لئے متاثرہ کے گھروالوں کی رضامندی کے بعد لاش کی پورے رسم و رواج کے ساتھ آخری رسومات ادا کردی گئیں۔

اترپردیش حکومت نے ہاتھرس معاملے کی سماعت سے پہلے ہی بغیر نوٹس کے اپنی جانب سے منگل کی صبح ایک حلف نامہ دائر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ہاتھرس معاملے کے بہانے ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کے مقصد سے سوشل میڈیا، ٹی وی اور پرنٹ میڈیا پر جارحانہ مہم چلائی گئی۔ ریاستی حکومت نے کہاکہ کچھ میڈیا اہلکار اور سیاسی پارٹیوں کے لوگ ہاتھرس معاملے کے بہانے اپنے ذات مفادات کے لئے ذات پات اور سماجی بھائی چارے کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ،’’چونکہ یہ معاملہ پورے ملک کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، اس لئے اس کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو سے ہونی چاہئے۔‘‘

یوگی حکومت نے ہاتھرس کیس میں حلف نامہ دائر کرکے سپریم کورٹ کو سی بی آئی جانچ کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا۔ اس نے معاملے میں اب تک ہوئی جانچ کی تفصیل عدالت کو سونپی اور دعوی کیاکہ کچھ ذاتی مفادات منصفانہ انصاف کے راستے میں رخنہ ڈال رہے ہیں۔ سپریم کورٹ سے بی آئی جانچ کی نگرانی کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close