تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

ہاتھرس معاملہ: کانگریس کارکنان پر برسیں پولیس کی لاٹھیاں

راہل، پرینکا کے ہاتھرس جانے کی کوشش کیلئے گھنٹوں جمع رہا کانگریسیوں کا جم غفیر

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ہاتھرس میں اجتماعی آبرو ریز کی شکار متاثرہ کو انصاف دلانے کیلئے سینہ سپر کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی ہاتھرس جانے کی کوشش کے چلتے ڈی این ڈی پر جمع کانگریسیوں کے جم غفیر کو ڈی این ڈی سے ہٹانے کیلئے پولیس کی جم کر لاٹھیاں برسیں۔ جس میں کئی کانگریسی کارکنان کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو ہاتھرس جانے سے روکنے کیلئے پولیس انتظامیہ نے پوری طاقت لگا رکھی تھی اور موقع پر پولیس کے اعلی افسران موجود تھے جبکہ بارڈر کو سیل کیا ہوا تھا۔

بڑی تعداد میں یوتھ کانگریس اور کانگریسی کارکنان کے ڈی این ڈی پر جمع ہونے کے سبب وہاں لمبا جام لگ گیا تھا، راہل اور پرینکا اور ارکان پارلیمنٹ کے قافلے کو ڈی این ڈی پر یوپی پولیس کے ذریعہ روکنے پرکانگریسی جم کر نعرے بازی کر رہے تھے۔ پولیس نے کانگریسیوں کو ڈی این ڈی خالی کرنے کو کہا، لیکن کارکنان وہیں جمے رہے اور نعرے بازی کرتے رہے، جس کے بعد ان کو ہٹانے کیلئے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا، جس میں کئی لوگوں کو چوٹیں بھی آئیں۔ راہل گاندھی اور پرینکا کو لاٹھی چارج کی خبر ملنے پر وہ خود زخمیوں سے ملنے پہنچے۔

وہیں کانگریسی لیڈران کے ساتھ پورے قافلے کے بجائے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت کل پانچ لوگوں کو ہاتھرس جانے کی اجازت ملی ہے، جس کا اعلان خود راہل گاندھی نے کیا مائک سے کیاکہ پانچ لوگوں کو ہاتھرس جانے کی اجازت مل گئی ہے۔ راہل گاندھی نے کانگریسی کارکنان سے ان کو راستہ دینے کی اپیل کی تاکہ وہ ہاتھرس جلد سے جلد پہنچ سکیں۔ راہل اور پرینکا واڈرا کے ساتھ غلام نبی آزاد، رندیپ سرجے والا اور کے سی وینو گو پال کیساتھ جانے کی اطلاع تھی، جبکہ پی ایل پنیا اور مکل واسنک بھی وہاں موجود تھے۔ ہاتھرس جانے کیلئے نکلی پرینکا گاندھی نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر اس مرتبہ بھی پولیس نے جانے نہیں دیا تو وہ پھر کوشش کریں گے۔ لیکن گینگ ریپ کی متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کیلئے جانے کی راہل اور پرینکا کی یہ کوشش کامیاب ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے جانے کی کوشش کی تھی، لیکن پولیس نے انہیں جانے نہیں دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ کئی روز سے پولیس نے متاثرہ کے گاؤں میں داخلہ ممنوع کیا ہوا تھا، یہاں تک کہ میڈیا کو بھی گاؤں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن آج میڈیا کو گاؤں میں داخل ہونے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ لیکن سیاسی شخصیات کا داخلہ ممنوع کیا ہوا ہے۔ وہیں پولیس نے حفاظتی انتظامات بھی سخت کر دیئے ہیں۔ پرینکا اور راہل گاندھی کے ہاتھرس جانے کی خبر پر اتر پردیش پولیس بھی مستعد ہوگئی تھی اور یوپی گیٹ پر پیکیٹس لگا دیئے تھے، جس سے دہلی سے غازی آباد جانے کیلئے لمبا جام بھی لگ گیا تھا۔ ادھر ٹول پلازا سے جمنا تک راہل اور پرینکا کے ہاتھرس روانہ ہونے تک لمبا جام لگا رہا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close