دلی نامہ

حکومت کو سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت: کجریوال

پرالی جلانے کے مسئلے کے حل کیلئے نئی ٹکنالوجی کا مظاہرہ دیکھنے کیلئے وزیر اعلی اروند کجریوال 24 ستمبر کو پوسا کیمپس کا کریں گے دورہ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
موسم سرما میں راجدھانی سے منسلک ریاستوں میں پرالی جلائے جانے سے راجدھانی دہلی میں فضائی آلودگی کا بڑ امسئلہ درپیش رہتا ہے۔ جس کیلئے دہلی حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ہر سال دہلی کے سامنے آنے والے پرالی کے دھویں کے مسئلے سے نبٹنے کا حل ہندوستانی زرعی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پوسا، نئی دہلی کے سائنسدانوں نے نکال لیا ہے۔

اے آر اے آئی پوسا کے ڈائرکٹر ڈاکٹر اے کے سنگھ اور اے آر اے آئی کے کئی سینئر سائنسدانوں نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال سے ملاقات کی اور پورے شمالی ہندوستان میں موسم سرما کے مہینوں میں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ، زرعی باقیات کو ضائع کرنے کے حل (پرالی جلانے) کیلئے انسٹی ٹیوٹ کی تیار کردہ جدید ٹکنالوجی کی پر فورم پیش کی۔ آئی اے آئی کی تیار کردہ اس نئی ٹکنالوجی کی تعریف کرتے ہوئے دہلی کے وزیراعلی اروند کجریوال نے کہاکہ دہلی میں سردی کے موسم میں آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ دھان کی پرالی جلانا اور فصلوں کے دیگر باقیات ہیں۔

وزیر اعلی نے کہاکہ میں آئی اے آئی، پوسا کے سائنسدانوں کو فصلوں کی باقیات کو جلانے کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے کم لاگت مؤثر جدید تکنیک تیار کرنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ فصلوں کی باقیات (پرا لی) کو جلانے کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے حکومتوں کو سائنسدانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر وزیر ماحولیات و ترقی گوپال رائے، محکمہ ماحولیات وترقی کے اعلی افسران اور ڈی ڈی سی بھی بطور خاص موجود تھے۔

پرالی سے ہونے والی آلودگی سے نجات دلانے والی اس موثر باصلاحیت اور آسانی سے استعمال میں آنے والی جدید ٹکنالوجی سے متاثر ہوکر وزیر اعلی اروند کجریوال نے 24 ستمبر کو براہ راست مظاہرے کیلئے پوسا کیمپس کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے محکمہ ترقی افسران کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ لاگت سے فائدہ کے بارے میں تفصیلی تجزیہ کریں اور بیرونی دہلی کے تمام کھیتوں میں جن کو فصلوں کی باقیات کا مسئلہ درپیش ہے، وہاں اس ٹکنالوجی کے کام کرنے کے تعلق سے نفاذ کو دریافت کریں۔

اے آر اے آئی پوسا کے ڈائرکٹر ڈاکٹر اے کے سنگھ نے وزیر اعلی اروند کجریوال اور وزیر ماحولیات گوپال رائے کو بتایا کہ اس تکنیک کو پوسا ڈینک پیجر کہا جاتا ہے، جس کو آسانی سے دستیاب ان پٹ کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے، اس سے فصلوں کے کھیتوں میں چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ 8-10 دن میں فصلوں کے ڈنٹھلوں کے منتقلی کو یقینی بنانے اور جلانے کی ضرورت کو روکنے کیلئے کھیتوں میں چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والے کیپسول کی قیمت صرف 20 روپے فی ایکڑ ہے اور موثر طریقے سے فی ایکڑ 4-5 ٹن کچے بھوسے کو ضائع کیا جا سکتا ہے۔ اے آر اے آئی کی جانب سے پنجاب اور ہریانہ کے زرعی علاقوں میں گذشتہ 4 سالوں میں کی جانے والی تحقیق میں بہت حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں، جس سے پرالی کو جلانے کی ضرورت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ کھاد کی کھپت کو کم کرنا اور اس کا استعمال سے زرعی پیداوار میں اضافے کے پیش نظر ہے اس کے استعمال سے فائدہ ملا ہے۔

اروند کجریوال کے مطابق اگر یہ تکنیک دہلی میں بہتر کام کرتی ہے تو راجدھانی میں آلودگی کم کرنے میں موثر ثابت ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی دہلی سے منسلک ریاستوں میں بھی اس تکنیک کو اپنایا جانا چاہئے تاکہ سردی کے موسم میں پرالی جالائے جانے سے پیدا ہونے والی آلودگی سے نجات حاصل ہو سکے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close