اپنا دیشتازہ ترین خبریں

حج پر جانا اب نہیں ہوگا آسان، عازمین کو جمع کرنا ہوگا انکم ٹیکس ریٹرن

بجٹ 2019 کے فائنانس ایکٹ میں 2 لاکھ کے فورین ٹریول پر قانون لاگو ...........پڑوسی ممالک میں مذہبی سفر (یاتراؤں) کو رکھا گیا ریٹرن بھرنے سے مستشنیٰ 

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
حج بیت اللہ کے مبارک فرض کی ادائیگی کا ارادہ رکھنے والے ہندوستانی عازمین حج کیلئے اب حج بیت اللہ کے مقدس سفر پر جانا آسان نہ ہوگا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے 2 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ خرچ والے بیرونی ممالک کے عام سفر یا مذہبی سفر پر جانے کیلئے انکم ٹیکس ریٹرن فائل جمع کرنے کی لازمیت کر دی گئی ہے۔ لیکن پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلا دیش، نیپال، سری لنکا اور چین وغیرہ میں مذہبی سفر (یاترا) پر جانے والے زائرین کو، خواہ اس سفر میں 2 لاکھ یا اس سے زیادہ خرچ آئے، ان پر یہ لازم نہیں کہ وہ انکم ٹیکس ریٹرن بھریں۔ ان کو اس سے مستشنی رکھا گیا ہے۔ چونکہ حج کرنے کیلئے عازمین سعودی عرب جاتے ہیں اور وہ پڑوسی ملک نہیں ہے، نیز اس مقدس سفر پر دو لاکھ سے زیادہ ہی خرچ آتا ہے، اس لئے ہندوستان سے حج بیت اللہ روانہ ہونے والے ہرحاجی کو اب حج درخواست فارم بھرنے سے پہلے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر وہ حج پر نہیں جا سکیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ فائنانس ایکٹ 2001-2 میں تاریخ 11 جون کے نوٹیفکیشن نمبر S.O.508 (E) میں کسی بھی مذہبی مقدس سفر کیلئے بیرونی ممالک بنگلہ دیش، بھوٹان، مالدیوز، پاکستان، نیپال، سری لنکا، چین یا حج کمیٹی کے ذریعہ سعودی عرب حج پر جانے والے زائرین اور یاتریوں کے مذہبی سفر کو مخصوص مذہبی سفر مان کر انکم ٹیکس کے زمرے سے مستشنی رکھا گیا تھا۔ اگرچہ ان پر 2 لاکھ یا اس سے بھی زیادہ خرچ آئے، ان کو انکم ٹیکس ریٹرن فائل جمع نہیں کرنی تھی۔ لیکن اب فائنانس ایکٹ 2019 کے مطابق صرف ہندوستان کے پڑوسی ممالک کے عام یا مذہبی سفر کو چھوڑ کر جو بھی شخص بیرونی ممالک کے عام سفر یا مذہبی سفر پر 2 لاکھ روپے خرچ کر رہا ہے اسے انکم ٹیکس ریٹرن فائل جمع کرنا لازم ہے۔ لیکن اس میں سری لنکا، نیپال، چین، پاکستان، بنگلہ دیش، برما کے 2 لاکھ یا اس سے زیادہ خرچ کے سفر کو انکم ٹیکس زمرے میں نہیں رکھا گیا ہے، اسے عام سفر نہ مان کر ہند کے پڑوسی ممالک کا مذہبی مخصوص سفر مانا گیا ہے۔

جن کو پڑوسی ملک کی مخصوص مذہبی یاترا مانا گیا ہے ان میں، کیلاش مانسرور یاترا (چین) گرو دوارہ دار صاحب، (کرتارپور، پاکستان)، پشوپتی ناتھ مندر (نیپال) بدھشٹ مونیسٹری (سری لنکا اور برما) اور پڑوسی ممالک میں مساجد کا سفر کا بھی شامل ہے۔ ان کے سفر پر جانے والوں کو انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی ضروررت نہیں۔ لیکن اس میں سعودی عرب کو پڑوسی ملک نہ مان کر حج کے سفر کو اس سہولت سے الگ رکھا گیا ہے، حج پر جانے والوں کو ریٹرن فائل جمع کرنی ہوگی۔

قابل غور ہے کہ حج کمیٹی کے ذریعہ حج کے مقدس سفر پر 2 لاکھ سے زیادہ خرچ آتا ہے، جبکہ پرائیوٹ ٹور آپریٹرس کے ذریعہ اس سے بھی زیادہ خرچ آتا ہے۔ وہیں انکم ٹیکس ریٹرن فائل جمع کرنے کی لازمیت کا قانون حاجی کو سفر حج پر بھیجنے کیلئے خرچ کرنے والے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس کو انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانا ہوگا۔ اگر کسی نے انکم ٹیکس ریٹرن فائل جمع نہیں کی تو اس کو انڈرسیکشن 142 کے تحت نوٹس آسکتا ہے اور اس پر ایک ہزار سے 10 ہزار تک کا جرمانہ لگ سکتا ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ اسکی ریٹرن فائل بناکر اس کو نوٹس ایشو کر دیگا کہ کتنا ٹیکس اس کو ادا کرنا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس سال کوویڈ 19 عالمی وباء کی وجہ سے ہندوستانی عازمین حج پر نہیں جا سکے تھے، جس کے سبب ریٹرن فائل جمع کرنے کی یہ بات منظر عام پر نہیں آ سکی تھی، لیکن اب جبکہ کچھ ماہ بعد ہی حج 2021 کے درخواست فارم بھرنے کیلئے وقت قریب ہی ہے تو یہ بات بھی کھل کر سامنے آگئی کہ اب سفر حج پر جانے کیلئے انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنا لازم ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کی حمایت کا دم بھرنے والے لیڈران، ملّی اور سماجی تنظیموں کو مختلف پلیٹ فارموں سے اعلی سطح پر آواز اٹھانا چاہئے۔

خود مرکزی وزارت اقلیتی امور اور حج کمیٹی آف انڈیا کو مرکزی وزیر مالیات سے مل اس معاملے کو اٹھانا چاہئے کہ انہیں 2001 کے نوٹیفیکشن کو برقرار رکھنا چاہئے۔ کیوںکہ مسلمان جب حج پر جاتے ہیں تو وہ ان کی ایک سال کی کمائی نہیں ہوتی بلکہ بعض افراد تو حج کیلئے تھوڑا تھوڑا جوڑتے ہوئے بوڑھے ہو جاتے ہیں، وہ ان کی زندگی بھر کی کمائی ہوتی ہے۔ تب وہ حج پر جاتے ہیں۔ وہ ریٹرن کہاں سے بھریں گے۔ حج کی سعادت حاصل کرنے کیلئے لوگ مذہبی ارکان کے ساتھ دلی خواہش ہوتی ہے۔ بوڑھے اور رٹائرمنٹ والے یا گاؤں دیہات کے لوگ جو پیسہ پیسہ جوڑ کر حج پر جاتے ہیں وہ ریٹرن کہاں سے بھریں گے؟۔

غرض یہ کہ یہ حج کیلئے انکم ٹیکس ریٹرن بھرنے کی لازمیت کو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی ہمدردی کا دم بھرنے کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت کا یہ دکھاوا ہی ہے کہ ایک جانب وہ شور مچا مچا کر کہتی ہے حج کوٹہ بڑھا کر دو لاکھ کرانے کا تاریخی کام انجام دیا گیا ہے وہیں اسی حکومت کی وزارت مالیات کی جانب سے فائنانس ایکٹ میں حاجیوں پر انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی لازمیت کر دی گئی ہے۔

دوسرے مذاہب کیلئے پڑوسی مالک میں مقدسہ مقامات کی اہمیت ہے اور یہ تقسیم ہند سے قبل ہندوستان کا ہی حصہ رہے ہیں۔ لیکن مکہ مدینہ کا سفر کرنے والے ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہے، ان کیلئے بھی یہ مقدس مقامات اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لئے ان کو بھی رعایت ملنی چاہئے۔ اگر سفر حج کو انکم ٹیکس ریٹرن سے مستشنی نہیں کیا گیا تو بوڑھے، غریب اور ناخواندہ عازمین کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جس پر مرکزی اقلیتی وزیر مختار عباس نقوی کو سنجیدگی سے توجہ دیکر حاجیوں پر انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی لازمیت کو ختم کرانے کی اشد ضرورت ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close