اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کسانوں کا بھارت بند: ریل ٹریک جام، یوپی میں خاصا اثر، کئی علاقوں میں مظاہرے

چندی گڑھ/ لکھنؤ، (یو این آئی)
مرکزی
حکومت کی طرف سے پارلیمنٹ میں منظور شدہ تین زرعی بلوں کے خلاف کسان تنظیموں کی بھارت بند کی کال پر پنجاب، ہریانہ اور اترپردیش سمیت کئی ریاستوں میں آج بڑی تعداد میں کسان اور آڑھتی سڑکوں پر اتر آئے انہوں نے متعدد قومی شاہراہوں اور ریل روٹوں کو جام روک دیا۔ کسانوں نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرکے پارلیمنٹ میں منظور شدہ زرعی بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ وہیں کسانوں کے احتجاج کے پیش نظر کئی یونیورسٹیوں اور کالجوں کی ان ریاستوں میں آج ہونے والے امتحانات ملتوی کردیئے گئے ہیں۔ کسانوں کی اس تحریک کو دونوں ریاستوں میں کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

پنجاب میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور شورومینی اکالی دل (ایس اے ڈی) اور ہریانہ میں انڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی)، آڑھتی تنظیموں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ کئی پنجابی گلوکار بھی کسانوں کی تحریک کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ پنجاب میں چودہ سابق آئی اے ایس افسر، ڈاکٹر منموہن سنگھ، ڈاکٹر ہرکیش سنگھ سدھو، منجیت سنگھ نارنگ، کلبیر سنگھ سدھو، گورنیہال سنگھ پیرزادہ، سریندرجیت سنگھ سدھو، سکھجیت سنگھ، پریتھی چند، کیپٹن نریندر سنگھ، تیجندر سنگھ، ڈاکٹرکرم جیت سنگھ سرن، رامیندر سنگھ، اجاگر سنگھ اور پربجیت سنگھ بھی کسانوں کی تحریک کی حمایت کر رہے ہیں۔

وہیں اترپردیش میں راجدھانی لکھنؤ سے منسلک بارہ بنکی، سیتا پور اور رائے بریلی کےعلاوہ مغربی اترپردیش میں بھی کسان آج مختلف لیڈروں کے ساتھ سڑکوں پر اترے۔ کئی جگہ پر پرالی جلائی گئی۔ پولیس کے بے حد مستعد رہنے کے باوجود کئی جگہوں پر سڑک جام کرنے کی کوشش کی گئی۔ بھارتیہ کسان یونین کے بینر کے نیچے مغربی اترپردیش میں بھی کسان متنازع بلوں کی مخالفت میں سڑکوں پر اترے۔ لکھنؤ سے منسلک بارہ بنکی کے ساتھ ہی باغپت، مرزا پور میں کسان احتجاج کررہے ہیں۔ لکھنؤ کے موہن لال گنج میں بڑی تعداد میں کسان تحصیل پہنچے، بارہ بنکی میں سینکڑوں کی تعداد میں کسان اجوھیا۔لکھنؤ ہائی وے کو جام کردیا۔ جس کی وجہ سے راہ گیروں کو کافی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔

کسانوں کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پاس کئے گئے زراعت سے متعلق پاس کئے گئے بل سے کم از کم سہارا قیمت کا نظم ختم ہوجائے گا اور زرعی شعبہ بھی ملک کے بڑے کاروباریوں ںکے ہاتھوں میں چلا جائےگا۔کسانوں کا کہنا ہے کہ تینوں بل واپس لئے جانے تک وہ اپنی لڑائی جاری رکھیں گے۔ زراعت سے متعلق بلوں کی مخالفت میں آج بند میں 31 تنظیمیں شامل ہیں۔ بل کی مخالفت کسان تنظیموں کے علاوہ کانگریس، آر جے ڈی، سماج وادی پارٹی، اکالی دل، عام آدمی پارٹی، ٹی ایم سی سمیت متعدد اپوزیشن پارٹیاں شامل ہیں۔

بل پر مرکزی حکومت اور وزیر اعظم کے زبانی تیقن کے باجود کسانوں کا غصہ کم نہیں ہو رہا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے زراعت سے متعلق پاس کئے گئے تین بلوں نے کسان سمیت پورے اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close