اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کسان بل 2020: سڑکوں پر کسانوں اور ایوان میں سیاستدانوں کی مخالفت

یہ کسان کی خواہش ہے، تینوں بلوں کو شکست دی جائے: کجریوال..........کسانوں کو روکنے کیلئے دہلی بارڈروں پر فورس تعینات

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
کسان بل 2020 کی مخالفت میں جہاں ملک کا ’ان داتا‘ کسان سڑکوں پر اتر آیا ہے اور جگہ جگہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔ وہیں اس بل کو لیکر سیاست بھی گرم ہو گئی ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال گزشتہ کئی دنوں سے کسان بل 2020 کی مستقل مخالفت کر رہے ہیں۔ کجریوال کی جانب سے غیر بی جے پی جماعتوں کو ایک ساتھ اس بل کے خلاف کھڑے ہونے کیلئے کہا جا رہا ہے۔ آج بھی کجریوال نے ایک بار پھر ٹویٹ کیا ہے اور راجیہ سبھا کے تمام ارکان سے کسان کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے۔ حالانکہ کجریوال اور بی جے پی لیڈر منوج تیواری کے درمیان ٹویٹ فائٹ بھی شروع ہو چکی ہے۔

وزیر اعلی اروند کجریوال نے ٹویٹ کرکے کہا کہ آج پورے ملک کے کسانوں کی نظر راجیہ سبھا پر ہیں۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی اقلیت میں ہے۔ میں تمام غیر بی جے پی پارٹیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مل کر تینوں بلوں کو شکست دیں، ملک کے کسان یہی چاہتے ہیں۔ اس ٹویٹ کے جواب میں بی جے پی ایم پی منوج تیواری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک اور تمام کسان بھائی چاہتے ہیں کہ اس بل کو منظور کیا جائے تاکہ کھلا بازار ہو اور بدعنوانی بند ہو۔ لیکن آپ تو سی اے اے پر بھی بدگمانی پھیلا کر لوگ کو گمراہ کر رہے تھے، کیا کسی کی شہریت گئی کیا؟۔ اسی طرح، اب آپ ایک بار پھر کانگریس کے ساتھ مل کر بھرم پھیلا رہے ہو، جبکہ تمام کسان بھائی اس بل سے فائدہ اٹھائیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی وزیر اعلی اروند کجریوال نے ٹویٹ کرکے اس کسان بل کی مخالفت کی تھی کہ مرکز کے تینوں بل کسانوں کو بڑی کمپنیوں کے استحصال کیلئے چھوڑ دیں گے۔ میری تمام غیر بی جے پی جماعتوں سے درخواست ہے کہ وہ راجیہ سبھا میں متحد ہوں اور ان بلوں کی مخالفت کریں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے تمام ممبران پارلیمنٹ موجود ہوں اور واک آؤٹ کا ڈرامہ نہ کریں۔ پورے ملک سے کسان آپ کو دیکھ رہے ہیں۔

کسان بل پر پارلیمنٹ میں لڑائی کے ساتھ ملک کے مختلف صوبوں کے کسان سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں اور دہلی کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن سرحدوں پر بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہے کہ بھارتیہ کسان یونین کی ہریانہ یونٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ مرکزی حکومت کے زرعی آرڈیننس کے خلاف آج اتوار کے روز ریاست بھر میں احتجاج کرے گی۔ اس کے دوران اس کے ممبر تین گھنٹے تک چکّہ جام کریں گے۔ دہلی پولیس کے مطابق پڑوسی ریاستوں میں کسانوں کے مظاہروں اور دہلی میں ممکنہ داخلے کے پیش نظر احتیاطی اقدام کے طور پر سرحدی علاقوں میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔

پولیس کے مطابق غازی آباد کے اشوک نگر کے قریب دو کمپنیاں تعینات کی گئیں ہیں۔ پولیس نے دہلی، ہریانہ بارڈر پر چوکسی بڑھا دی ہے۔ مشرقی ضلع کے ڈی سی پی جسمیت سنگھ نے کہاہم نے احتیاطی تدابیر کے طور پر دہلی، اترپردیش بارڈر پر پولیس فورس تعینات کی ہے۔ ادھر کسان بل 2020 کے خلاف دہلی میں کانگریس کے ریاستی دفتر کے باہر پانچ ریاستوں اترپردیش، ہریانہ، مدھیہ پردیش، دہلی اور پنجاب کے سیکڑوں کسان اور آل انڈیا کسان کانگریس کے کارکنان احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے اور مودی حکومت کے خلاف مسلسل نعرے بازی کر رہے تھے، جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ ادھر ہریانہ میں یوتھ کانگریس کی جانب سے مظاہرہ میں ساتھ ہزاروں کسانوں نے زبردست احتجاج کیا، جن کو منتشر کرنے کیلئے پولیس کی جانب سے واٹر کینن کا استعمال بھی کیا گیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close