تازہ ترین خبریںدلی نامہ

فیس بک تنازعہ: سپریم کورٹ نے بھیجا دہلی اسمبلی کو نوٹس

آئندہ سماعت 15 اکتوبر کو، عذرداری کو نپٹانے تک دہلی اسمبلی کی پیس اینڈ ہارمنی کمیٹی نہیں ہوگی میٹنگ: عدالت عظمی

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات معاملے میں دہلی اسمبلی کی پیس اینڈ ہارمنی کمیٹی کی جانب سے نفرت پھیلانے کو روکنے میں ناکامی پر فیس بک کے نائب صدر اجیت موہن کو نوٹس جاری کرنے کو چیلنج کرنے کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے پیس اینڈ ہارمنی کمیٹی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اس کی آئندہ سماعت کے لئے کورٹ نے 15 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا کہ اجیت موہن کی عذرداری کو نپٹانے تک دہلی اسمبلی کی امن و ہم آہنگی کمیٹی کی کوئی میٹنگ منعقد نہیں کی جائے گی۔ عرضی گذار نے اسمبلی کی کمیٹی کے ذریعہ 10 اور 18 ستمبر کو جاری سمن کو چیلنج کیا ہے۔

واضح رہے کہ فیس بک جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے نفرت پھیلانے میں ناکامی اور اس کے نتیجے میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر دہلی اسمبلی کی پیس اینڈ ہارمنی کمیٹی کی جاری میٹنگوں میں فیس بک کے نائب صدر کو اپنا موقف رکھنے کیلئے طلب کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے یہ جواب دیا کہ یہ سنوائی پارلیمنٹ میں چل رہی ہے جہاں وہ اپنا جواب دے چکے ہیں۔ جس کے بعد کمیٹی کے چیئر مین راگھو چڈھا نے ان کو ایک آخری موقع دیتے ہوئے پھر سے نوٹس دیا گیا تھا جس میں ان پر زور دیا گیا تھا کہ انہیں 23 ستمبر کو دہلی اسمبلی کی امن اور ہم آہنگی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا ہی پڑے گا۔ جس کو چیلنج دینے کیلئے اجیت موہن کی جانب سے سپریم کورٹ میں پٹیشن ڈالی گئی، جس پر آج سنوائی کی گئی۔

جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس کرشن مواری کی بنچ نے اجیت موہن کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل ہریش سالوے اور دہلی اسمبلی کی امن و ہم آہنگی کمیٹی کے چیئرمین راگھو چڈھا کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کی دلیلیں سننے کے بعد دہلی اسمبلی کی کمیٹی کو نوٹس جاری کیا۔ہریش سالوے نے دلیل دی ہے کہ اسمبلی کی پیس اینڈ ہارمنی کمیٹی کے سامنے نجی طور سے پیش ہونا اور اسے سزا کی دھمکی دینا بنیادی آزادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جس پر کمیٹی کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے دلیل دی ہے کہ کمیٹی کے ذریعہ موہن کو ملزم کے طور پر نہیں بلایا گیا تھا بلکہ انہیں فیس بک کے غلط استعمال پر لگام لگانے کیلئے نظام تیار کرنے کے ارادے سے بلایا گیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہاکہ سپریم کورٹ میں سماعت کے پیش نظر دہلی اسمبلی کی امن و ہم آہنگی کمیٹی کی آج کی مجوزہ میٹنگ بھی رد کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسٹر موہن کے خلاف کسی بھی طرح کی تعزیراتی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس یقین کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت کیلئے 15 اکتوبرکی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس سے قبل اجیت موہن کے وکیل ہریش سالوے نے کہا تھا کہ اجیت موہن امریکہ میں واقع کمپنی فیس بک کے ملازم ہیں اور وہ ہندوستانی سیاست جیسے حساس مسائل پر نہیں بولنا چاہتے۔ انہوں نے کہاکہ آئین میں اظہار رائے کی آزادی کی بنیاد ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری کو بولنے کا بھی حق ہے اور خاموش رہنے کا بھی حاصل ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں فیس بک سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے جم کر نفرت آمیز پوسٹیں کی گئی تھیں، جس پر دہلی اسمبلی کی پیس یانڈ ہارمنی کمیٹی کی میٹنگوں میں اس معاملے کو اٹھایا گیا تھا اور اسی کی پوچھ تاچھ کیلئے فیس بک کے نائب صدر کو طلب کیا گیا تھا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close