بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

ڈاکٹر رگھوونش پرساد سنگھ کا انتقال

نئی دہلی، (یواین آئی)
دیہی ترقی کے سابق مرکزی وزیر اور بہار کی اہم اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سابق قومی نائب صدر ڈاکٹر رگھوونش پرساد سنگھ کا آج دہلی کے آل انڈیا میڈیکل سائنس انسٹی ٹیوٹ (ایمس) میں علاج کے دوران انتقال ہوگیا۔ وہ 74 برس کے تھے۔

خاندانی ذرائع نے یہاں بتایا کہ کہ پھیپھڑے کے انفیکشن میں مبتلا ڈاکٹر سنگھ کو ابھی حال ہی میں دہلی ایمس میں داخل کرایا گیا تھا،جہاں علاج کے دوران ان کا انتقال ہوگیا۔ اس سے پہلے کورونا متاثر ہونے پر انہیں پٹنہ ایمس میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں علاج کے بعد وہ ٹھیک ہوگئے تھے ۔بعد میں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے انہیں دہلی کے ایمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کے لواحقین میں دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔ڈاکٹر سنگھ نے دہلی میں ایمس سے ہی 10 ستمبر کو آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کو خط لکھ کر پارٹی سے استعفی دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا تھا،‘‘جن نائک کرپوری ٹھاکر کے انتقال کے بعد 32 سال تک آپ کے پیچھے کھڑا رہا لیکن اب نہیں۔ پارٹی رہنما اور عام لوگوں نے بڑا پیار دیا، مجھے معاف کریں۔

’’وہیں آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے ڈاکٹر سنگھ کو منانے کے لئے جیل سے جمعرات کو ہی جذباتی چٹھی لکھ کر چار دہائی پرانے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے پورے حق کے ساتھ کہا تھا،‘‘چار دہائیوں میں ہم نے ہر سیاسی، سماجی اور یہاں تک کہ خاندانی معاملوں میں مل بیٹھ کر ہی غور و خوض کیا ہے ۔ آپ جلد ٹھیک ہوں، پھر بیٹھ کے بات کریں گے۔ آپ کہیں نہیں جا رہے ہیں، سمجھ لیجیئے۔ آپ کا لالو پرساد۔’’

واضح رہے کہ سابق رکن پارلیمنٹ راما سنگھ کو آڑ جے ڈی میں لائے جانے کی خبر کے بعد سے ہی ڈاکٹر رگھوونش پرساد سنگھ ناراض تھے۔ مسٹر لالو پرساد یادو نے بھی انہیں منانے کی کوشش کی،اسی دوران مسٹر یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو نے ڈاکٹر سنگھ کے سلسلے میں متنازعہ بیان دے دیا تھا کہ ‘سمندر سے ایک لوٹا پانی نکل جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا’ ایسا سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر سنگھ اس سے کافی افسردہ تھے اور توہین محسوس کررہے تھے ۔ آخر میں انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ سماجوادی رہنما ڈاکٹر سنگھ نے بہار کے ویشالی لوک سبھا حلقے کی کئی بار نمائندگی کی۔چھ جون 1946 کو ویشالی ضلع کے شاہ پور میں پیدا ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے بہار یونیورسٹی سے ریاضی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہیں دیہی اور زرعی شعبہ کے بارے میں مہارت حاصل تھی۔ جوانی میں انہوں نے لوک نائک جے پرکاش نارائن کی قیادت میں ہوئی تحریکوں میں حصہ لیا۔

سال 1973 میں انہیں جوائنٹ سوشلسٹ پارٹی کا سکریٹری بنایا گیا۔ 1977 سے 1990 تک وہ بہار سے راجیہ سبھا کے رکن بھی رہے۔ سال 1977 سے 1979 تک وہ بہار کے وزیر توانائی رہے۔ اس کے بعد انہیں لوک دل کا صدر بنایا گیا۔ سال 1985 سے 1990 کے دوران وہ لوک لیکھا سمیتی کے صدر رہے ۔لوک سبھا کے رکن کے طورپر ان کا پہلا دور اقتدار سال 1996 سے شروع ہوا۔ وہ 1996 کے لوک سبھا الیکشن میں منتخب ہوئے ۔ لوک سبھا میں دوسری بار وہ 1998 میں منتخب ہوئے اور 1999 میں تیسری بار لوک سبھا رکن بنے۔ ڈاکٹر سنگھ اس دور اقتدار میں داخلی امور کی کمیٹی کے رکن رہے۔

انہیں سال 2004 میں چوتھی مرتبہ لوک سبھا رکن کے طورپر منتخب کیا گیا۔وہ ترقی پسند اتحاد (یوپی اے ) کے من موہن سنگھ حکومت میں 23 مئی 2004 سے 2009 تک دیہی ترقی کے مرکزی وزیر رہے۔ اس دور اقتدار میں ان کے سر مفاد عامہ کے لئے مہاتما گاندھی دیہی روزگار گارنٹی یوجنا (منریگا) کے تصور اور اسے نافذ کرنے کا سہرا جاتا ہے۔ اس کے بعد سال 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے پانچویں بار جیت درج کی۔ وہ پانچ بار لوک سبھا رکن اور تین بار مرکزی وزیر رہے۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close