تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی فسادات معاملہ: گرفتار نوجوانوں وطلبا کی رہائی کا مطالبہ

سیول سوسائٹیز کے ممتاز کارکنان برائے انسانی حقوق نے پولیس کی کارکردگی پر اٹھائے سوال

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات معاملے اور سی اے اے، این آر سی کے مخالف مظاہروں میں جانچ کے نام پر نوجوانوں اور طلبا کی گرفتاریوں پر پولیس انتظامیہ کی کا ر کردگی پر مسلسل سوال اٹھ رہے ہیں۔ صفورہ زرگر، عشرت جہاں، خالد سیفی، گل افشاں، آصف اقبال، شرجیل امام، نتاشا ناروال، دیوانگا کلتا اور جے این یو کے سابق طلبہ عمر خالد سمیت متعدد نوجوانوں اور طلبا کو جانچ کے نام پر گرفتار کیا گیا ہے۔ جن کو انصاف دلانے کیلئے ملک کے سینئر وکیل پرشانت بھوش کے ساتھ کارکنان برائے انسانی حقوق اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اوران بے قصور نوجوانوں اور طلبا کی رہائی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

جانچ کے نام پر گرفتار کئے گئے نوجوانوں اور طلبا کی گرفتاری پر پریس کلب آف انڈیا میں منعقد پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی، جس میں پرشانت بھوشن، ڈاکٹر سیدہ حمید، پروفیسر نندا نارائن، صحافی پامیلافلی پوز، پروفیسر اپور وانند، ڈاکٹر ہرش مندر، صبا نقوی، یواے پی اے ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے حاجی خالد سیفی کی اہلیہ، جماعت اسلامی ہند کے سلیم انجینئر، عمر خالد کے والد ڈاکٹر قاسم رسول الیاس وغیرہ نے شرکت کی۔ مقررین نے پولیس کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ جانچ کے نام پر سرکار کی پالیسی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی آواز کو دبا نے کیلئے ایک مجرمانہ سازش کے تحت ان کو جیلوں میں ڈالال جا رہا ہے تاکہ حق کی آواز کو دبایا جا سکے۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا سی اے اے کے خلاف پر امن دھرنوں میں مسلم خواتین نے اپنے حق اور دستور کے تحفظ کیلئے سڑکوں پر اتری تھیں، جمہوریت میں نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کا دستوری حق ہے۔ دھرنوں میں حب الوطنی کی باتیں اور لوگوں کو آئین اور جمہوریت کے تعلق سے بتایا جا رہا تھا، لیکن ان دھرنوں کی قیادت کرنے والوں کو فسادات کرانے کے ماسٹر مائنڈ بتاکر جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ جبکہ کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر جو بھڑکاؤ بیان بازیاں کر رہے تھے ان کی اشتعال انگیزی پولیس اور حکومت کو دکھائی نہیں دی۔ پلاننگ کمیشن کی سابق رکن ڈاکٹر سیدہ حمید نے کہاکہ حکومت کی پالیسی ہے، جو بولے اس کو خاموش کر دو اور اسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔

سی پی آئی لیڈر کویتا کرشنن نے کہاکہ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی دہلی فسادات میں عمر خالد اور دیگر طلبا و طالبات کے خلاف 11 لاکھ صفحات پر مشتعمل اور 20 جی بی ڈاٹا موجود تھے، جبکہ لاک ڈاؤن میں لاکھوں غریب مزدور جو شہروں سے اپنے گھروں کی طرف کوچ کیا اور پیدل سفر کرنے پر مجبور ہوئے اور بہت سے لوگ جاں بحق ہوئے ان کی تفصیل پولیس انتظامیہ کے پاس نہیں ہے۔

ڈاکٹر نندیتا داس نے کہاکہ وطن عزیز دوبارہ سے غلامی کی زنجیروں کی طرف جکڑتا جا رہا ہے، ایسے میں ہمیں متحد ہوکر فاشست طاقتوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس موقع پر دیگر انسانیت کے پاسبان سیول سوسائٹیز کے معزز افراد بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close