دلی این سی آر

کسانوں کیلئے ’اسپیک اپ فار فارمر‘ تحریک چلائیگی دہلی کانگریس

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
ملک کے کسانوں کی حمایت میں اور پارلیمنٹ میں پاس ہوئے کسان بل کے خلاف کانگریس کی جانب سے باقائدہ تحریک چلائی جائے گی۔ دہلی کے ریاستی صدر چو دھری انل کمار کی قیادت میں دہلی کانگریس کے زیر اہتمام بی جے پی کے زیر اقتدار مرکزی حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں منظور شدہ کسان بل کے خلاف احتجاج میں کسانوں کو بچانے کیلئے ریاستی سطح، ضلع اور بلاک سطح پر پروگراموں کا انعقاد کیا جائے گا۔

چودھری انل کمار نے کہا کہ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی شدید مخالفت کے باوجود کسان بل منظور ہوا۔ 26 ستمبر کو سوشل میڈیا پر SpeakUpforFarmer کے نام سے ایک آن لائن مہم چلائی جائے گی۔ 28 ستمبر کو ریاستی سطح پر راج گھاٹ سے راج بھون تک پیدل مارچ نکالا جائے گا۔ 2 اکتوبر 2020 کو دہلی کے ہر اسمبلی حلقہ میں وزیر اعظم مودی کا پتلا جلایا جائے گا۔ 2 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک دستخطی مہم کا انعقاد کیا جائے گا اور 10 اکتوبر کو ریاستی سطح پر کسان سمیلن کا انعقاد کیا جائے گا۔

دریں اثنا ء دہلی کانگریس کے صدر چودھری انل کمار کی موجود گی میں آ ج ’آپ‘ اور بی جے پی کے کئی لیڈران نے کا نگریس میں شمولیت اختیار کی۔ 2017 میں آپ سے کارپوریشن کا انتخاب لڑ چکے ’آپ‘ کے بانی ممبر تارا چند اور سکریتا کمارکے ساتھ ’آپ‘ کے اور بی جے پی کے تقریباً 150 کارکنان کانگریس میں شامل ہو ئے۔ ریاستی کانگریس کے صدر انل کمار نے شامل ہونے والون کو کانگریس کے ٹوپیاں اور پٹکے پہنکا کر کانگریس کنبے میں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر ریاستی نائب صدر علی مہدی بھی بطور خاص موجود تھے۔

چودھری انیل کمار نے کہا کہ کارکن پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کانگریس ہمیشہ بڑے اور اہم فیصلے لیتے ہوئے اپنے کارکنوں سے مشورے لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے لیڈران اور کارکنان کے مطابق جو کانگریس میں شامل ہوئے ہیں ان کو کانگریس پارٹی میں عزت اور مقام ملے گا جو ان لوگوں کو بی جے پی اور’آپ‘ نے نہیں دیا تھا، دونوں جماعتوں نے پارٹی کارکنان ووٹ بینک کی سیاست کے لئے استعمال کر کے چھوڑ دیا ہے۔

انیل کمار نے کہا کہ عوام سے کئے گئے کسی بھی وعدے کو پورا نہ کرنے پر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کا اصل چہرہ بے نقاب ہوا ہے، مجموعی طور پر، تمام ترقیاتی کام رکے ہو ئے ہیں۔کانگریس میں شامل لیڈران نے کہا کہ وہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی میں گھٹن کا احساس کررہے ہیں کیونکہ دونوں جماعتیں جمہوری طریقے سے کام نہیں کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی میں کارکنان کی آواز کو نظرانداز کیا جاتا ہے، جبکہ نچلی سطح کے کارکنان عوام سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ان لوگوں نے دونوں جماعتوں کے اعلی لیڈران کی جھوٹ بولنے اور گمراہ کرنے کی بات کی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close