تازہ ترین خبریںدلی نامہ

دہلی: روہنی علاقے میں ہجومی تشدد، 24 سالہ نوجوان کی موت

18سالہ طالب علم شدید زخمی، ایک گھنٹہ تک حملہ آور کرتے رہے ہنگامہ، درجنوں کالوں کے بعد بھی نہیں پہونچی پولس، حالات کشیدہ، بڑی تعداد میں پولس فورس تعینات

نئی دہلی (امیر امروہوی)
گذشتہ شب روہنی ضلع کے تحت کنجھاولہ کے ساودا علاقے میں لڑکوں کے ایک گروپ نے ایک لڑکی سے عشق کے معاملے پر زبردست حملہ کر دیا، اسی دوران اسی علاقے میں رہنے والے شوکت (24) نے بیچ بچاو کرانے کے لئے مداخلت کی تو حملہ آوروں نے اس کے سر کی ہڈیاں توڑ دیں۔ شدید زخمی شوکت اور ایک اور نوجوان کو سنجے گاندھی اسپتال پہنچایا گیا، جہاں سے انہیں صفدر جنگ ریفر کردیا گیا اسی دوران چوٹوں کی تاب نا لاکر شوکت کی موت ہوگئی۔

ملزمان نے ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ وقت تک ہنگامہ کیا۔ پولیس نے فساد اور قتل کا مقدمہ درج کرکے اہم ملزمان انکیت، وکاس سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ اس وقت سے ہی علاقے میں صورت حال کشیدہ ہے۔ کچھ لوگوں نے اس جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بھی کوشش کی۔

پولیس کے مطابق، زخمی نوجوان ریحان (18) نے بتایا کہ وہ او بلاک، جے جے کالونی ساودا میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتا ہے اور اوپن اسکول سے دسویں کا طالب علم ہے۔ اس کا دوست حیدر گھر کے قریب رہتا ہے۔ اسے علاقے میں رہنے والی ایک نوجوان لڑکی سے پیار ہو گیا تھا۔ ایم بلاک میں رہنے والا انکیت بھی اسی لڑکی کو چاہتا ہے۔ معلوم کرنے پر، انکیت اپنے ساتھیوں کے ساتھ حیدر کی تلاش کے لئے اس کے علاقے میں گیا۔ منگل کی رات، انکیت اپنے دوستوں آکاش، وکاس، روہن، انو، ہمانشو، راہول، چولی، سنیل وغیرہ کے ساتھ حیدر کی تلاش کرتے ہوئے اپنے گھر کے قریب او بلاک پہونچ گئے۔ سب کے ہاتھوں میں ڈنڈے، ہاکی، کرکٹ بیڈ، تلواریں تھیں۔ ریحان قریب کھڑا تھا۔

انکیت نے بتایا کہ یہ حیدر کا دوست ہے۔ یہ سن کر لڑکوں نے ریحان پر حملہ کر دیا۔ وہاں موجود جی بلاک میں رہنے والے شوکت بھی کھڑا تھا اس نے بیچ بچاو کرکے ریحان کو بچانے کی کوشش کی لیکن حملہ آوروں نے اس پر بھی قاتلانا حملہ کر دیا،حملہ آوروں سے اپنی جان بچانے کے لئے شوکت ریحان کے پڑوسی عباس کے گھر میں گھس گیا۔ اس کے بعد حملہ آوروں نے عباس کے گھر کا گھیراو کرکے اس کے گھر پر پتھراو کر دیا۔ لیکن ریحان گھر سے باہر نہیں آیا۔ اس دوران مقامی لوگ پولیس کو لگاتار فون کرتے رہے، لیکن پولیس نہیں پہنچی۔ پولیس قریب ایک گھنٹے کے بعد پہونچی اور اس نے زخمی ریحان و شوکت کو اسپتال پہونچایا جہاں ڈاکٹروں نے شوکت کو مردہ قرار دیدیا۔ ریان کے ہاتھوں اور پیروں میں کئی خطرناک فریکچر ہیں۔

شوکت کے بھائی نے بتایا کہ شوکت ساودا کے جی 87 میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کا بھائی پراؤیٹ کمپنی میں نوکری کرتا تھا۔ وہ منگل کو اپنے کام پر گیا تھا۔ رات کو واپس جاتے وقت اس نے دیکھا کہ ریحان کو بہت سارے غنڈے مل کر پیٹ رہے ہیں تو اس نے بیچ بچاو کرانے کی غرض سے مداخلت کی۔ شاید اسے اس کی ہی سزا ملی ہے۔ ملزمان نے سڑک پر اس کے بھائی شوکت کو بے دردی سے مارا پیٹا، لیکن کوئی اسے بچانے نہیں آیا۔ ملزممان نے ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک سڑک پر ہنگامہ کیا اور اس کا بھائی سڑک پر تکلیف میں تڑپتا رہا۔ جب پولیس موقع پر پہنچی اور اسے اسپتال پہنچایا۔

شوکت کے بھائی نے بتایا کہ اس کے بھائی کے سر میں متعدد فریکچر تھے بیس بال کے بلے سے سر کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ پولیس نے بدھ کے روز پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو لواحقین کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد لوگوں نے لاش کو جھنڈا چوک پر رکھ کر مظاہرہ کیا اور قاتلوں کو گرفتار کرکے انہیں سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ حادثے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں پولس فورس تعینات ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close